موجودہ سیاسی صورتِ حال کس چیز کی متقاضی ہے؟

موجودہ سیاسی صورتِ حال کس چیز کی متقاضی ہے؟
 موجودہ سیاسی صورتِ حال کس چیز کی متقاضی ہے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاناما لیکس کا پنڈورا بکس کیا کھلا ملک میں ہلچل اور افراتفری مچ گئی۔سیاسی درجہ حرارت بلند ترین سطح کو چھونے لگا اور قوم ایک عجیب قسم کے تذبذب میں گرفتار ہو گئی، ہیجان کی سی کیفیت نے سیاسی صورتِ حال کو ابتر تو کیا ہی تھا، معاشی استحکام بھی ہچکولے کھانے لگا۔ کاروباری حالات تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے اور سٹاک ایکسچینج انڈیکس مندی کے بدترین مقام پر آ کھڑا ہوا۔ سپریم کورٹ نے20اپریل کو جو جے آئی ٹی تشکیل دی تھی اس نے10اپریل کو رپورٹ کیا دی، ملک و قوم ایک عجب مخمصے میں پھنس گئے۔ حکومت اپنے طور پر دفاعی پوزیشن پر آ گئی اور اپوزیشن کو سرگرمیاں تیز کرنے کا موقع میسر آ گیا۔ وفاقی دارالحکومت تو ان سرگرمیوں کا مرکز بن گیا،حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنی اپنی الگ بیٹھکیں سجا لیں۔ گھروں میں بیٹھے بعض سیاسی رہنما بھی سرگرم ہو گئے، کچھ نے حکومتی دامن تھام لیا تو کچھ حزب اختلاف کو مضبوط کرنے کے لئے بیان بازی میں مصروف ہو گئے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور اپوزیشن کی مختلف جماعتیں اس ایشو پر متفق ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔پارلیمینٹ کے اجلاس کے لئے ریکوزیشن تیار کی جا رہی ہے اور حزب اختلاف کی بعض جماعتوں کی طرف سے حکومت مخالف احتجاج یا مظاہروں کا سلسلہ بھی زیر غور ہے۔اس کے مقابلے میں حکومت اور اس کے اتحادی بھی اپنا لائحہ عمل طے کر رہے ہیں۔مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں میاں نواز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ وزیراعظم کسی طور استعفیٰ نہیں دیں گے۔مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی طرف سے بار بار اس امر کا اعادہ کیا جا رہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ میں اپوزیشن کا ہر انداز سے مقابلہ کریں گے،وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ امر بڑا خوش آئند ہے کہ حکومتی ارکان نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم عدالتِ عظمیٰ کا ہر فیصلہ قبول کریں گے،لیکن استعفیٰ کے حوالے سے ناجائز دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ہمارے ہاں جمہوریت بڑی مشکل سے استحکام کی پٹڑی پر چڑھی ہے، قیام پاکستان کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت پانچ سال پورے کرنے میں کامیاب ہوئی، ورنہ مدت سے پہلے ہی فارغ کئے جانے کا رواج پروان چڑھ چکا تھا۔موجودہ حکومت کے ایک ڈیڑھ سال بعد ہی رخنہ اندازیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، دھرنوں کی سیاست نے جڑ پکڑ لی اور امپائر کی انگلی کھڑی ہونے کی باتیں سننے کو ملتی رہیں،لیکن اب پاناما کیس نے معاملات کو مزید الجھا دیا اور وزیراعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ بڑی شدو مد سے کیا جا رہا ہے۔

موجودہ صورت حال میں میرا خیال ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت اس امر پر سنجیدگی سے غور کرے کہ میاں نواز شریف کی جگہ کسی اور کو پارلیمانی قائد چن لیا جائے، تازہ ترین صورت حال میں محسوس یوں ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف کو اخلاقی برتری حاصل نہیں رہی، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اُنہیں پاکستان کے عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور مسلم لیگ(ن) نے گزشتہ عام انتخابات میں تمام جماعتوں سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کئے اور میاں نواز شریف کو اکثریتی جماعت کا قائد پارلیمینٹ کے ایوان میں منتخب کیا گیا۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے،لیکن فی الوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ میاں نواز شریف پہلے اپنی پوزیشن کلیئر کروائیں اور اس دوران کسی دوسرے لیگی رہنما کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سونپ کر اپنے دور میں شروع کئے گئے زیر تکمیل منصوبے مکمل کئے جائیں۔ملکی ترقی کا سفر جاری و ساری رکھنے کے لئے یہ بہترین طریقہ ہے کہ میاں نواز شریف کچھ عرصے کے لئے پسِ پردہ رہ کر قوم کی خدمت کریں اور جب عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے ان پر عائد الزامات دور کر دیئے جائیں پھر منظر عام پر آ کر ازسر نو ترقی کے سفر کی قیادت سنبھالیں۔اس سے ایک طرف سے اپوزیشن کا دباؤ کم ہو جائے اور دوسری طرف جن لوگوں کو میاں نواز شریف کا چہرہ اچھا نہیں لگتا اُن کی زبانیں بھی رُک جائیں گی، چونکہ اس وقت ہمارا پیارا مُلک کسی انتشار یا عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے قربانی دینا ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کی وقتی قربانی سے ملک بچتا ہے تو ہمیں اس کو ترجیح دینی چاہئے۔

مزید : کالم