مسلم لیگ اب بھی ’’تگڑی‘‘ ہے

مسلم لیگ اب بھی ’’تگڑی‘‘ ہے
مسلم لیگ اب بھی ’’تگڑی‘‘ ہے

  

سیاست کا بازار اِس طرح سے گرم نظر نہیں آتا، جیسا کبھی گرم نظر آتا تھا، سندھ میں بلاول بھٹو زرداری نے چند روز رنگ جمایا۔۔۔ ادھر عمران خان نے بھی جلسوں کی رونق بڑھانے کے لئے اپنی سی بہت کوشش کی، مگر محض ’’روٹین‘‘ کے جلسے ہی ہو سکے۔

مسلم لیگ(ن) چاروں طرف سے گھری ہوئی ہے، اس کے قائد بیٹی سمیت جیل میں ہیں۔۔۔ دیگر میں سے اکثر رہنما ’’ملزم‘‘ اور ’’مجرم‘‘ کے درمیان کھڑے ہیں۔۔۔ سو جب بھی وہ کوئی قدم اٹھاتے ہیں۔۔۔ انہیں کہیں نہ کہیں ’’طلب‘‘ کر لیا جاتا ہے۔

یہ ایک طلبی ان کے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے،یعنی سیاسی حوالے سے وہ عوامی سطح پر جو فضا بنا چکے ہوتے ہیں،وہ ٹوٹ جاتی ہے اور پھر انہیں نئے سرے سے بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے۔

الیکشن میں اب دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بھی کم دن رہ گئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کی زیادہ تر توجہ اپنے اسیر بھائی اور بھتیجی کے قانونی اور نجی زندگی کے امور کی طرف ہے، نواز شریف کے دونوں بیٹے لندن میں ہیں، ان کی بیٹی ان کے ساتھ جیل میں ہے۔ داماد ان سے پہلے جیل جا چکے ہیں، والدہ بہت بوڑھی ہیں۔ وہ سہارے کے بغیر چل نہیں سکتیں تو بیٹے اور پوتی کی کیا خبر رکھ سکتی ہوں گی۔

سو یہ ساری ذمہ داریاں شہباز شریف اور ان کی فیملی کے سپرد ہیں۔ اوپر سے قانونی لڑائی بھی انہی کے سپرد ہے اور یقینی طور پر شہباز شریف کی یہی خواہش اور کوشش نواز شریف وغیرہ کو واپس گھر یعنی جیل سے نکلوانے کے لئے ہو گی،کیونکہ وہ جانتے ہیں اگر انہوں نے ذرا سی غفلت دکھائی تو قانونی معاملات اُلجھ جائیں گے اور لمحے کی تاخیر ان کے بھائی اور بیٹی کے لئے صدیوں کی سزا میں بدل سکتی ہے۔

جہاں تک نواز شریف پر الزامات کا تعلق ہے تو انسان پڑھ پڑھ کر اور سُن سنا کے حیران رہ جاتا ہے کہ ہم نے کیسے شخص کو تین بار وزیراعظم بنا دیا یا بنانے میں مدد دی،مگر جب ’’عدالت‘‘ کا فیصلہ پڑھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ میڈیا جس نواز شریف کے بارے میں الزامات کا سمندر بہا رہا ہے،وہ نواز شریف کہاں کا رہنے والا ہے؟ کم از کم عدالت نے نواز شریف کو جس ’’جرم‘‘ میں سزا دی ہے، یہ وہ نواز شریف تو نہیں ہے؟

اِس وقت ساری کی ساری گرد نواز شریف فیملی پر اڑائی جا رہی ہے اور بدقسمتی سے اگر کوئی ایک آدھ شخص اس گرد کو بٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی ماں بہن ایک کر دی جاتی ہے، زیادہ بولے تو ’’نوکری‘‘ سے جاتا ہے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ فضا بنانے والوں کی نظر میں اس سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہو سکتا ہے یا پہنچ رہا ہے، لیکن یہ بہرحال ضرور ہے کہ ایک عام آدمی سارے کھیل کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہے اور نہ ہی اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

گو ہمارا میڈیا اپنی ذاتی گفتگو کو عوام کی زبان میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہے،مگر درحقیقت مُلک کے عوام کی گفتگو میڈیا کی گفتگو سے مختلف ہے۔بڑے بڑے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں میں ایک فقرہ عام کہا جا رہا ہے کہ اگر الیکشن سے پہلے عمران خان کو وزیراعظم بنا دیا گیا ہے تو پھر الیکشن کی کیا ضرورت ہے؟سیدھا سیدھا ان کے وزیراعظم بننے کا اعلان کر دیا جائے اور دیکھ لیا جائے کہ وہ کیا کرتے ہیں؟۔۔۔یہ عوامی بیانیہ ممکن ہے کہ بعض کے نزدیک کوئی اہمیت نہ رکھتا ہو،لیکن اگر اِس ملک میں عوام کی کوئی اہمیت ہے تو پھر اس ’’بیانیے‘‘ کو نظر انداز کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے عوام کے نام پر عوام سے زیادتی کی ہے اور عوام کو الیکشن سے دور کرنے کی عملی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔مجھے یوں لگتا ہے کہ عوام بھی محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے پاس واحد اختیار ووٹ کا تھا ، اب وہ بھی چھینا جا رہا ہے۔۔۔ مَیں چونکہ لاہور میں رہتا ہوں۔ لاہور زندہ دِلوں کا شہر ہے، یہاں جو بھی سیاسی فضا بنتی ہے، قدرتی طور پر پورے ملک کا موڈبنتا ہے،مگر مَیں دیکھ رہا ہوں کہ لاہوریے بہت افسردہ ہیں۔ چار سُو ایک خاموشی ہے، ہر طرف ہو کا عالم نظر آتا ہے۔۔۔ اور نواز شریف کے جیل جانے کے بعد افسردگی اور زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ جس دن نواز شریف نے واپس آنا تھا، اُس دن لاہوریے پورے جوش و جذبے کے ساتھ باہر نکلے۔۔۔ مَیں نے پہلی بار دیکھا کہ لوگ اپنے خرچے پر نواز شریف کے استقبال کے لئے ایئر پورٹ کی طرف جا رہے ہیں۔۔۔ شہباز شریف نے سب کو ’’لوہاری‘‘ آنے کا کہا تو سب کا رُخ لوہاری کی طرف تھا۔۔۔ اس میں ذرا بھر شک نہیں کہ شہباز شریف کے ساتھ ہزاروں لوگ تھے، مگر میڈیا نے لاہوریوں کے جوش و خروش اور تعداد کو بُری طرح نظر انداز کیا اور لاہوریوں نے جو سیاسی قوت دکھائی۔۔۔ اسے ایک کمزور سی قوت کے طور پر دکھایا۔۔۔ یہ یقیناًلاہوریوں کے لئے تکلیف دہ بات تھی۔ سو یہی وجہ ہے کہ لاہوریے افسردہ ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لاہور نواز شریف کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے،اگر یہ بات مان لی جائے تو پھر جس دن نواز شریف اور مریم نواز وغیرہ کو سزا سنائی گئی اُس دن ایک کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں کم از کم پندرہ بیس ہزار لوگ تو ’’جشن‘‘ منانے کے لئے سڑکوں پر نکلتے؟ مگر ایسا کہیں نظر نہ آیا، حتیٰ کہ عمران خان کے ’’شکرانے‘‘ کی نفل کی اپیل پر بھی لوگوں کو مسجدوں یا گھروں میں جائے نماز پر کھڑے کسی نے نہ دیکھا۔

دوسری بات یہ کہ عمران خان ایک ماہ میں چار سے زائد بار لاہور کا دورہ کر چکے ہیں، مگر وہ ہر بار مایوس ہوئے ہیں۔

انہوں نے بہت کوشش کی کہ وہ ایک بڑے جلوس کے ساتھ لاہور کی سڑکوں پر اپنی طاقت دکھائیں، مگر وہ ناکام ہوئے، آخری بار انہوں نے بارش زدہ علاقوں میں زور دکھانے کی کوشش کی، مگر پانی میں ڈوبے لاہوریے ’’نواز شریف مردہ باد‘‘ کا نعرہ لگانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔لاہور کے علاوہ پنجاب کے اکثر اضلاع میں نواز شریف اور مریم نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا نے ایک افسردگی سی پھیلا رکھی ہے۔

یہ افسردگی الیکشن والے دن سامنے آئے گی۔سو یہ کہنا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) دم توڑ چکی ہے،سیاسی اور تجزیاتی غلط فہمی ہے۔پنجاب میں اب بھی مسلم لیگ(ن) سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اور تحریک انصاف کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مسلم لیگ(ن) کا ووٹر اس وقت افسردگی کے عالم میں ہے،وہ جلسے جلوسوں،دنگا فساد، گالی گلوچ،نعرے بازی کے بجائے عملی طور پر کچھ کر دکھانے کے لئے بے چین ہے اور اگر الیکشن صاف شفاف ہوئے تو پنجاب میں مسلم لیگ(ن) ایک بار پھر کامیاب ہو گی۔ تحریک انصاف اپنی تمام ’’قوتوں‘‘سمیت اب بھی دوسرے نمبر پر ہے اور پنجاب سے دوسرے نمبر پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب اب بھی مسلم لیگ(ن) کے پاس ہے۔۔۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ الیکشن والے دن اگر مسلم لیگ(ن) کو ’’گڑھے‘‘ میں نہ ڈال دیا گیا۔ نظر یہی آتا ہے کہ الیکشن والے دن کے لئے یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے، کہ صرف اعلان کرنا ہے۔ ووٹ کی گنتی کا بعد میں دیکھا جائے گا،لیکن حقیقت میں مسلم لیگ (ن) ابھی ’’تگڑی‘‘ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -