میرا پتر بڑا چنگا اے

میرا پتر بڑا چنگا اے
میرا پتر بڑا چنگا اے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں اشتہارات کے بلند مقام کا اندازہ گلی کوچوں کی دیواروں سے لگایا جاسکتا ہے یا کبھی اخبارات کے سنڈے میگزین میں حکیموں کے فرحت بخش اور امید افزاء اشتہارات سے رونق میلے کا اندازہ کیا جاسکتا تھا، لیکن ٹی وی پر سیاسی جماعتوں کے اشتہارات عرف ٹی وی سیز نے تو سب کو مات دے دی۔

اتنے اشتہار تو پیمپرز کی فروخت کیلئے نہیں آرہے جتنے سیاسی جماعتوں کے آرہے ہیں، لیکن سیاسی حکیموں کی اس اشتہاری مہم میں مسلم لیگ بڑے بھیا کی سزا کے بعد ایک دم دھڑام سے گر پڑی ہے۔ اس سے مسلم لیگ کی سیاسی پلاننگ کا اندازہ لگالیں، جس بات کو پتہ پتہ بوٹا بوٹا جانتا تھا، اس کا گل کو ہی علم نہیں تھا۔

تمام ٹی وی کمرشلز میں جس اہتمام سے بڑے میاں صاحب کو پیش کیا گیا، لگتا ہے لیگی قیادت کو اس بات کا یقین تھا کہ نہ میاں صاحب کو سزا ہوگی نہ یہ کمرشلز بند ہونگے ورنہ وہ کچھ ٹی وی کمرشلز، چھوٹے میاں صاحب کے بھی بنا چھوڑتے۔ سکول میں انسپیکشن سے قبل ٹیچرز نے بچوں کو مخصوص سوالوں کے جواب یاد کرا دئے۔

انسپکشن کے دوران انسپکٹر نے پوچھا ہمیں کس نے پیدا کیا ہے۔ ساری کلاس خاموش رہی، اس نے پھر پوچھا، اچانک بنتا سنگھ نے ہاتھ کھڑا کیا، اور بولا سر جس کو اللہ نے پیدا کیا تھا، وہ آج چھٹی پر ہے۔

یہی مسلم لیگ کے اشتہارات کے غائب ہونے سے لگ رہا ہے۔ مجھے تو بے چارے چھوٹے میاں صاحب کی حالت پر ترس آتا ہے، نہ وہ خدا کے رہے نہ انہیں وصال صنم حاصل ہوسکا، نہ وہ بڑے میاں صاحب کے بیانئیے کا چورن بیچ پا رہے ہیں اور خیر سے انکا اپنا چورن ہے کوئی نہیں۔ سارا ہاجمولا اب اس کے ہاتھ ہے، جس کے ساتھ مولا ہے۔ عجیب دلچسپ گیم ہے، جوں جوں مریم بیٹی کا سیاسی قد بڑھے گا، چھوٹے میاں صاحب کا کم ہوتا جائے گا۔ آئرن فیکٹریاں جب میاں صاحبان کی ہوں تو مریم بی بی کو آئرن لیڈی بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

بس ہوگا یہ کہ مریم بی بی سیاست پر چھائیں گی تو چھوٹے بھیا دھوپ میں کھڑے ہوتے جائیں گے۔

رہے حمزہ بھیا تو انہیں دیکھ کر اچانک گھبر سنگھ کا ڈائیلاگ یاد آجاتا ہے، تیرا کیا بنے گا کالیا۔

یہ ٹھنڈی ٹھار الیکشن مہم بس اب چند دنوں کی مہمان ہے، لیکن ماضی کے الیکشن دیکھیں تو یہ انتخابات ایک نوجوان بیوہ جیسے لگ رہے ہیں۔ ایک ایسی بیوہ جس کے پاس حسن ہے، جوانی ہے، لیکن اس کی مانگ سونی ہے اور چہرے پر اداسی ہے، نہ کارکنوں میں جوش ولولہ، گلیوں محلوں میں ڈیکوں کی اونچی آوازوں میں ڈھول تاشوں کے شور، ایسا لگ رہا ہے الیکشن ’’کن سن‘‘ میں ہو رہے ہیں اور جیسے بس ایک رسم ہے، جسے جیسے تیسے پورا کرنا ہے۔ ان الیکشن میں بہت سیاسی بت گرے بھی ہیں اور کچھ ایکسپوز ہوئے ہیں، کچھ اپنی بزدلی سے کچھ اپنی بدزبانی سے۔

لیکن ہمارے ہونہار بلاول زرداری نے بہرحال اپنا امیج بہتر بنانا ہے، اگر ان کے ’’ووکل کاڈز‘‘ ٹھیک ہو جائیں تو اور بہتر تقریر کرسکتے ہیں۔

ان کے مشیروں کو ہمارا دونوں ہاتھوں سے سلام، کیا عین وقت پر تُرپ کا پتہ پھینکا ہے۔ ملک ایک بار پھر میثاق جمہوریت سے گونج اٹھا ہے، ہونا چاہئے میثاق جمہوریت، لیکن کاش کبھی میثاق عوام بھی ہو جائے۔ آخر جمہوریت کے نام پر حکمرانی کرنے والے 20 کروڑ بھک منگے، کلبلاتے کیڑوں اور دو ٹانگوں پر چلنے والے ان عوام نما حشرات الارض کی جانب بھی کسی کی نظر جائے گی کہ نہیں۔ کوئی تو ایسا آئے جو اس گردش دوراں کو تھام کر کہے، بس اب عوام کی باری ہے۔ بس اب ان کے دکھوں پر مرہم رکھا جائے گا۔

بہت ہوگیا ان کے خوابوں سے کھلواڑ۔ غریبوں کی اشک شوئی کے نام پر کب تک محل تعمیر ہونگے، بنگلے بنیں گے، بینک اکاؤنٹس بھریں گے۔ کب تک اس ملک کے کونے کونے کو کھرچ کھرچ کر دولت غیر ملکی بینکوں میں بھری جائے گی۔ سنتا نے بیوی سے پوچھا، کیا کہا ہے ڈاکٹر نے وہ بولی ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے، کہتا ہے تمہارے پاس زندہ رہنے کیلئے صرف 8 گھنٹے ہیں۔ سنتا روتے روتے سو گیا، بیوی بولی تسی سوگئے او، وہ بولا آہو توں تے سویرے اٹھنا نہیں، میں تے اٹھ کے تدفین دا کم وی کرنا اے۔ قوم مر رہی ہے، قائدین ڈالروں، سوئیس نوٹوں، محلوں اور فلیٹوں میں روتے روتے سو جاتے ہیں، انہوں نے قوم کی تدفین پر سیاپا بھی کرنا ہوتا ہے اور سیاپے میں ایک دوسرے کا میثاقوں جیسے مخولوں کے ساتھ خیال بھی رکھنا ہوتا ہے۔ کوئی ’’کرٹسی‘‘ میں کہتا ہے بھیا ہارن دے کر پاس کریں، دوسرا بولتا ہے توں لنگ جا، ساڈی خیر اے۔

چلیں جی الیکشن ہو ہی جانے ہیں۔ ہمیں شیر سے چھٹکارا مل جائے گا۔ پھر شاید ملک پر بھیڑیوں، ریچھوں، ہاتھیوں اور لومڑیوں کی حکومت آجائے۔ نجانے کب انسانوں کو انسانوں کی حکومت میسر آئے گی۔

کب ان سیاسی گدھوں (اسے گدھ پڑھا جائے، مطلب کھوتا نہیں ہے یہاں) سے نجات ملے گی۔ یاد رکھیں موجودہ الیکشن دراصل بننے والی حکومت کے زیر انتظام اصل انتخابات کی ریہرسل ہیں۔ اس دوران قوم خود کو تیار کرے، ایک طرف سے اسے شدید ترین مہنگائی، معاشی بدحالی کے ساتھ سیاست دانوں کی ایک دوسرے کو گالیاں اور جوتیوں میں بٹتی دال کے لائیو مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔

ایک صاحب بنتا سنگھ کی ماں سے بولے، آپ کا بچہ مجھ پر کیچڑ کا پانی پھینک رہا ہے۔ وہ بولیں توبہ کریں جی وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ میرا بیٹا تو وہ ہے جو آپ کی ٹوپی نالی میں ڈبو رہا ہے۔ کیچڑ بھی اچھلے گی، ٹوپیاں بھی نالیوں میں گریں گی۔ اداکارہ میرا میچور ہوسکتی ہے، لیکن ہمارے سیاست دان پھانسیوں، جلاوطنیوں، جیلوں اور چہرے پر ملی جانے والی سیاہیوں کے بعد بھی میچور نہیں ہونگے اور ان کی سیاسی امّائیں ہمیشہ مسکراتے ہوئے ان کی پاکبازی کی قسم کھاتے ہوئے کہیں گی، میرا پتر تے تہاڈی ٹوپی نالی وچ ڈبو رہیا اے۔

مزید : رائے /کالم