الیکشن ہوگئے چھ مہینے گزر گئے

الیکشن ہوگئے چھ مہینے گزر گئے
الیکشن ہوگئے چھ مہینے گزر گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’ہاں بھئی ووٹ کس کو دے رہے ہو‘‘

جواب آیا’’ میرا ووٹ تیر کا‘‘ دوسری آواز ’’ میرا ووٹ پیر کا‘‘ کسی نے کہا’’ میرآ ووٹ میر کا‘‘کوئی سردار کو ووٹ دے گا کوئی جاگیر دار کو کوئی سرمایہ دار کو 

کوئی بھائی کی پتنگ اڑائے گا تو کوئی جنگل میں شیر گھمائے گا۔ جنگل میں نہ ملے تو سرکس میں دیکھ لے پنجرے میں بند پڑا ہے۔ بے ضرر ہوگیا ہے۔

جنگجو لوگ ہیں ہم اب تو توپ اور کرین بھی میدانِ جنگ میں ہیں۔ سارا کرسی کا جھگڑا ہے۔ اب کوئی قلم دوات سے کیا روداد بیان کرے گا۔ موبائل اور کمپیوٹر کا دور ہے ۔ ہو سکتا ہے کسی کی قسمت کا ستارہ چمک جائے ۔کوئی جیپ لے کر شکار پر نکل جائے ۔کہیں نمائش میں ڈولفن کا تماشا دیکھنے کو مل جائے۔ کیا بتائیں اب کتاب کا دور ہی نہیں رہا۔ انٹرنیٹ زندہ باد سوشل میڈیا پر ہر ایک نے اپنا اخبار جو نکال لیا ہے ۔میں صحیح ۔باقی سب غلط ،ابھی تک تو یہی بیانیہ پاپولر ہے۔

یوں سمجھیئے الیکشن ہوگئے چھ مہینے گزر گئے ۔

آوازیں گونج رہی ہیں ۔ یہ حکومت بھی پہلے جیسی ہے۔ دیکھو مہنگائی کہاں پہنچا دی۔ ڈالر 150 روپے کا ہوگیا ۔اب تو بنگلہ دیش کا ٹکا اور افغانی روپیہ بھی ہم سے آگے ہے۔

اپوزیشن کا کام ہے ریلی نکالے دھرنا دے دے۔ لوڈ شیڈنگ بھی جوں کی توں ہے پانی اور گیس کی سپلائی دگرگوں ہوگئی ہے ۔ڈیم فنڈ میں اتنے پیسے جمع ہوگئے حکومت ڈیم کیوں نہیں بناتی۔

لوگوں کی گفتگو جارہی تھی کہ سرگوشیوں میں آواز آنے لگی جیسے کوئی منمنا رہا ہو۔ کسی نے کہا ’’زور سے بولو آواز نہیں آرہی ‘‘جواب ملا ’’آپکا ضمیر بول رہا ہوں ،کبھی اسکی صحت کا خیال رکھا ہوتا حلال۔ حرام کا فرق سکھا یا ہوتا تو اسکی آواز بھی توانا ہوجاتی‘‘

’’اچھا تم ہی بتاؤ ہمارے مسائل کیسے حل ہونگے ‘‘بے ضمیر چیختے ہوئے بولے۔

کمزور ضمیر نے کہا’’ سوال کرنے سے پہلے گریباں میں جھانکتے وقت تم کو موقع ملا تھا۔ سچائی اور ایمانداری کے ساتھ اپنے نمائندے منتخب کرتے۔ مگر یہ کیا کسی نے بھائی بیٹے کی نوکری کے لئیے ووٹ بیچ دیا تو کسی نے نالیوں کو پکا کروانے کے نام پر ووٹ دے دیا۔ ہر ایک کو انفرادی مسائل کی پڑی رہی۔ پھر اجتماعی مسائل کیسے حل ہوتے ۔تعلیم صحت روزگار۔ کسی ایک شخص کی نہیں پورے معاشرے کی ضرورت تھی۔ تم کو اگر ایک کلو خربوزے لینے ہوں تو پوری ریڑھی سونگھ کر چیک کر کے لیتے ہو۔ اپنے گھر میں نوکر رکھنا ہو آفس میں چپراسی رکھنا ہو تو ضمانتیں طلب کرتے ہو ۔پولیس کلئیرنس سرٹیفکیٹ مانگتے ہو۔ پھر کہیں جا کر انتخاب کرتے ہو ۔جب قوم کے صادق امین چننے ہوں تو بے ضمیری غالب آجاتی ہے ۔ پھر لچا لفنگا چور ڈاکو نہیں دیکھتے۔ بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ میں اس سے کیا فائدہ لے سکتا ہوں اور پھر بہت بڑی امانت بے ایمانوں کے سیرد کر دیتے ہو‘‘آواز میں زور پیدا ہوا ’’کس نے تمہیں روکا تھا کہ تم سچ کے علمبردار کو نہیں چنتے ۔کس نے منع کیا تھا کہ ایسے امیدوار کا انتخاب کرتے ہوجو دکھ درد کی دھوپ میں تمہارا سائبان بنتا۔ یقیناً کسی نے نہیں اب جو درخت تم نے لگا دیا ہے پانچ سال تک اسکا کڑوا پھل تمہارا مقدر ہے‘‘

پھر یکایک میری آنکھ کھل گئی۔ پسینے میں شرابور تھا۔ شاید لائٹ گئی ہوئی تھی ۔سامنے کیلنڈر پر نظر پڑی تو پتا چلا پچیس جولائی کی تاریخ ابھی نہیں آئی تھی۔مگر سماعتوں میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔

شکوہ ظلمتِ شب سے تو بہتر تھا 

اپنے حصے کی شمع جلاتے جاتے 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ