عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر 26

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر 26
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر 26

  

دونوں نقاب پوش کمرے میں داخل ہوتے ہی مارسی پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن یہ دیکھ کر ابوجعفر کی حیرت کی انتہانہ رہی کہ مارسی ایک ماہر شمشیر زن کی طرح ان دونوں نقاب پوشوں کا مقابلہ کر رہی تھی ۔ اور مارسی ان کا مقابلہ کیوں نہ کرتی۔ جب سے قاسم رہا ہوکر آیا تھا ، وہ قاسم سے بلاناغہ شمشیر زنی سیکھتی رہی تھی۔ اور اب تو وہ ایک ماہر شمشیرزن کی طرح لڑسکتی تھی۔ 

ابو جعفر اور ماتھا ایک طرف کھڑے دونقاب پوشوں کے ساتھ مارسی کا مردانہ وار مقابلہ دیکھتے رہے۔ مارتھا کی آنکھیں حیرت سے پھٹی جارہی تھیں۔ اس کی بیٹی کسی بہادر سپاہی کی طرح گھر میں آئے ڈاکوؤں کا ہر وار تلوار پر روکتی اور پھر آگے بڑھ کر ان دونوں جنگجوؤں پر انتہائی خطرناک وار کرتی ۔ رات کے اندھیرے میں تلواروں کی جھنکار دور تک سنائی دے رہی تھی۔ بوڑھی خادمہ اور اکبر اپنے اپنے کمروں میں جاگ اٹھے۔ خادمہ کے چہرے پر خوف اور اکبر کے چہرے پر سنسنی تھی۔ اکبر اچھل کر اپنے بستر سے اترا اور بھاگ کر دیوار پر لٹکا برچھا اتار لیا۔ اس کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا اور وہ سوچ رہاتھا کہ یقیناً کسی دشمن نے مارسی پر حملہ کردیا ہے۔ وہ بجلی کی تیزی سے اپنے کمرے سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ مارسی دونقاب پوشوں کے ساتھ تن تنہا بھرپور مقابلہ کر رہی ہے اور مکروہ صورت ابوجعفر اپنی تلوار بے نیام کیے آہستہ آہستہ مارتھا کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ ہکا بکا رہ گیا ۔ اسے یقین نہ آرہا تھا کہ ابوجعفر ، مارتھا کو قتل کردے گا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ مارتھا کو چھوڑ کر مارسی کی مدد کو پہنچا اور عین اسی وقت ایک نقاب پوش کی پشت میں اپنا تیز دھار برچھا گھونپ دیا جب مارسی تھک کر نڈھال ہوچکی تھی ۔ ادھر نقاب پوش کسی بیل کی طرح ڈکراتا ہوا پیوند زمین ہونے لگا اور ادھر مارسی اور اکبر ، مارتھا کی دلدوز چیخ سن کر دہل گئے۔ اکبر کی آنکھیں حیرت کی شدت سے ابل رہی تھیں۔ اسے قطعاً توقع نہیں تھی کہ مارتھا کادیرینہ دوست ابوجعفر یوں مارتھا کو قتل کردے گا۔ مارسی نے ماں کو گرتے دیکھا تو سب کچھ بھول کر ماں کی طرف دوڑی۔ وہ تلوار کو ایک طرف پھینک چکی تھی۔ اسے ایسے لگا جیسے اس کی ماں اب ہمیشہ کے لیے اسے چھوڑ کر جانے والی ہے۔ وہ دوڑ کر ماں سے لپٹ گئی اور چیخ چیخ کر ماں کو پکارنے لگی۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر 25 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مارتھا کے پیٹ میں ابوجعفر کی تلوار گڑی ہوئی تھی اور وہ آخری ہچکیاں لے رہی تھی۔ مارسی نے اپنی ماں کا سراٹھا کر اپنے زانوں پر رکھ لیا اور ماں کو زور زور سے ہلاکر ملک عدم جانے سے روکنے لگی۔

کمرے کا دوسرا منظر بھی قابل دید تھا۔ مارسی کی پھینکی ہوئی تلوار اکبر کے ہاتھ میں تھی اور اکبر دوسرے بچ جانے والے نقاب پوش کے ساتھ بر سرِ پیکار تھا۔ ابوجعفر خالی ہاتھ تھا اور غالباً اس انتظار میں تھا کہ موقع ملے تو مرنے والے نقاب پوش کی تلوار اٹھا کر مسلح ہو سکے۔ کیونکہ اس کی اپنی شمشیر ماتھا کے پیٹ میں پیوست تھی۔ اور مارتھا کے پاس غم وغصے سے پاگل ہوتی ہوئی مارسی موجودتھی۔ یہی وجہ تھی کہ ابوجعفر ، مارسی کے قریب آنے سے گھبرارہا تھا ۔ اکبر شمشیر زنی کے فن سے ناواقف تھا ۔ پھر بھی نقاب پوش کا ہر وار اپنی تلوار پر روکتا رہوا پوری ہمت سے اس کا مقابلہ کر رہا تھا ۔ ..........لیکن کب تک ۔ یہ تیرہ چودہ سالہ لڑکا ابوجعفر کے تجربہ کار سپاہی کو کب تک روک سکتا تھا ؟ اور پھر وہی ہوا ۔ جنگجو نقاب پوش نے اکبر کے ساتھ مید انِ مبارزت کا ایک خطرناک داؤ کھیلا اور ناتجربہ کار اکبر اس کے دھوکے میں آگیا ۔ نقاب پوش نے ایک دم پیچھے ہٹنے کی اداکاری کی اور یوں ظاہر کیا جیسے وہ تھک کر گرنے والا ہے۔ اکبر دھوکے میں آگیا اور پوری قوت سے تابڑ توڑ حملے شروع کردیے۔نقاب پوش نے جب دیکھا کہ نوعمر اکبر اب تھک چکا ہے تو اس نے آگے بڑھ کر ایک بھرپور ضرب اکبر کی شمشیر پر لگائی۔ اور اگلے لمحے اکبر کی شمشیر اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر پھسلتی ہوئی مارسی کے قریب جاکر رک گئی ۔

مارسی ابھی تک اپنی ماں کو مرنے سے روک رہی تھی۔ مارتھا کی آنکھیں اپنے حلقو ں سے باہر ابل آئی تھیں اور اس کا بدن زور زور سے جھٹکے لے رہاتھا ۔ اچانک مارتھا کے جھٹکے رک گئے اور اس نے اپنی آنکھوں کے دیدے گھمانے شروع کردیے۔ اب وہ اپنی بیٹی کے چہرے پر نظریں ٹکائے اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ مارسی نے چیخ کر ماں سے کہا:۔

’’ماں !..........ماں!........خدا کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جاؤ۔‘‘

مارتھا کے چہرے پر موت کا کرب پوری طرح طاری ہوچکاتھا ۔ اس نے مارسی کو نظر بھر کے دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی۔ یہ اس کے آخری الفاظ تھے ۔ اس کے ہونٹ ہلے۔

’’مم....مم.......مار.....سی!.......اب ...بو........جا.......فر.......قیصر کاجاسوس ہے۔ مم.....مم........میں نے ال.......بان وی.......شاہ زادوں کو .......زہر........اخ.........ہوخ........ہوووو.......‘‘

مارتھا مرچکی تھی ۔ ماں کی آنکھوں کو بے نور ہوتے دیکھا تو مارسی کے حلق سے فلک شگاف چیخ بلند ہوئی ۔ اب وہ دنیا میں اکیلی تھی۔ بلکہ ابوجعفر جیسے درندے کے رحم وکرم پر تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ ماں کے بارے کچھ اور سوچتی اسے اپنے عقب میں نوعمر اکبر کی دردناک چیخ سنائی دی۔ مارسی جیسے یکلخت کسی خواب سے بیدار ہوگئی ۔ نقاب پوش کی تلوار اکبر کے سینے میں ترازو ہوچکی تھی ۔ ........مارسی نے اپنے وفادار خادم اکبر کو اس طرح نثار ہوتے دیکھا تو اس کے رگ و پے میں غم وغصے کی آگ دوڑ گئی ۔ اکبر کی تلوار اس کے نزدیک ہی پڑی تھی ۔ وہ آگے کے شعلے کی طرح لپکی اور اکبر کی تلوار اٹھالی ۔ اگلے لمحے وہ کسی زخمی درندے کی طرح غضب ناک ہوکر نقاب پوش پر ٹوٹ چکی تھی۔ مارسی کو حملہ آور ہوتے دیکھا تو نہ صرف نقاب پوش نے اکبر کے سینے سے اپنی تلوار کھینچ لی بلکہ ابوجعفر نے بھی دوسرے نقاب پوش کی شمشیر اٹھا کر خود کو مسلح کرلیا۔مارسی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ انتقام کی آگ میں اندھی ہوکر دونوں پر پل پڑی۔ اور یہی اس کی غلطی تھی ۔ ابوجعفر نے اندازہ لگالیا کہ مارسی غصے سے پاگل ہوچکی ہے ۔ چنانچہ اس نے انتہائی تحمل کے ساتھ مارسی کے ہر وار کو اپنی تلوار پر روکنا شروع کر دیا۔ مارسی اس قدر غصے میں تھی کہ اس کے حلق سے عجیب عجیب آوازیں برآدم ہورہی تھیں۔ادھر نقاب پوش بھی سنبھل سنبھل کر مارسی کے حملوں کا سامنا کر رہا تھا ۔ ابوجعفر مارسی کو قتل نہ کرناچاہتاتھا بلکہ وہ اسے اغواء کرنے کے لیے آیا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے نقاب پوش کو ہدایت کی کہ اس پاگل لڑکی کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کرو۔

ادھر مارسی تھی کہ رعدو صاعقہ بن چکی تھی ۔ وہ اچھل اچھل کر ان دونوں پر حملہ آور ہوتی اور اتنی تیزی سے وار کرتی کہ ابوجعفر اور نقاب پوش کے لیے مارسی کی شمشیر کے وار روکنا مشکل ہوجاتے۔ نہ جانے مارسی کی تلوار سے ابوجعفر اور نقاب پوش کے جسموں پر کس قدر کاری زخم آچکے تھے۔ اگر وہ ابوجعفر کے ہاتھ سے نکل جاتی تو ابوجعفر ، سکندر بیگ سے قیصرِ قسطنطنیہ کے لیے مزید کام کیسے لیتا۔ یہی سوچتے ہوئے ابوجعفر ، مارسی کے ہر وار کو تحمل کے ساتھ روکنے کی کوشش کررہا تھا ۔ اور پھر اچانک مارسی کومحسوس ہوا کہ جیسے وہ بری طرح تھک چکی ہو۔ اس کے نازک بازو تھک چکے تھے اور اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کا تیزی سے دھڑکتا ہوا دل کچھ ہی دیر میں پھٹ جائے گا اور وہ زمین پر گر جائے گی۔

مارسی کے حملوں کی شدت میں کمی آئی تو ابوجعفر اور نقاب پوش نے مل کر اسے مزید تھکانے کے لیے اس پر پوری قوت سے حملہ کردیا۔ اب مارسی کی ہمت جوا ب دے چکی تھی ۔ ابوجعفر اور نقاب پوش دونوں طاقتور مرد تھے۔ جبکہ مارسی ان کے مقابلے میں ایک نازک اور نفیس لڑکی تھی جس کا خوبصورت بدن قاسم کو کانچ کی شاخ سے بھی زیادہ نازک اندام دکھائی دیتا تھا ۔ آج مارسی نے اپنی ہمت سے بڑھ کر مقابلہ کیا تھا اور اس نے ابوجعفر اور اس کے ساتھی کے چھکے چھڑادیے تھے۔ لیکن اب مارسی جان چکی تھی کہ وہ مزید ان مکروہ ڈاکوؤں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ چنانچہ اس نے آنِ واحد میں ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا ۔ اور اپنی عزت و آبرو کو ابوجعفر جیسے بدمعاشوں سے بچانے کے لیے اس نے آخری ترکیب یہی جانی کہ خود کو ختم کرلیا جائے۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کا زندہ وجود ابوجعفر کے ہاتھ نہ لگے۔ یہی سوچ کر اس نے یکلخت خود کو زمین پر گرالیااور اگلے لمحے اپنی تلوار پلک جھپکنے کی تیزی سے اپنے ہی پیٹ میں گھونپ لی........

مارسی کواس طرح ہاتھ سے جاتے دیکھ کر ابوجعفر کے اوسان خطا ہوگئے ۔ ایک دم اسے ایسے لگا جیسے سب کئے کرائے پر پانی پھر چکا ہے ۔اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر تڑپتی ہوئی مارسی کے پیٹ سے شمشیر باہر کھینچ لی اور انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں اپنے نقاب پوش کو حکم دیا کہ وہ فی الفور مارسی کو کندھے پر اٹھا کر یہاں سے لے چلے۔ اس اثناء میں مارسی بے ہوش ہوچکی تھی۔ نقاب پوش نے آگے بڑھ کر بیہوش مارسی کو اپنے ہاتھوں پر اٹھالیا اور انتہائی تیزی کے ساتھ باہر جانے لگا۔ابوجعفر بھی تیزی سے اس کے عقب میں لپکا۔ اب ابوجعفر کے لیے مارسی کو بچانا بہت اہم تھا ۔ جلد سے جلد مارسی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا چاہتا تھا ۔ جونہی ابوجعفر اور نقاب پوش ، مارسی کو لے کر آنجہانی مارتھا کے گھر سے نکلے ، بوڑھی خادمہ نے انتہائی خاموشی سے آہٹ پیدا کیے بغیر گھر کا دروازہ بند کردیا۔بوڑھی خادمہ اب اس واردات کی واحد چشم دید گواہ تھی۔

ابوجعفر بے ہوش مارسی کو لے کر اپنے ایک خاص کارندے اور ماہر جراح سلیم پاشا کے گھر پہنچا۔ سیلم پاس ادرنہ کا مشہور طبیب اور جراح تھا ۔ جبکہ درحقیقت یہ بھی قیصر کا جاسوس تھا ۔ اس نے جراحت اور طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کر رکھی تھی اور اپنی ذہانت و تجربے کی بدولت قصرِ سلطانی تک رسائی رکھتا تھا ۔ سلطان مراد خان ثانی کے شاہی طبیبوں کی تعداد بیس سے زیادہ تھی اور سلیم پاشا بھی ان میں شامل تھا۔گزشتہ کئی دنوں سے سلیم پاشا کا آنا جانا شہزادہ علاؤالدین کے پاس بے حد بڑھ گیا تھا ۔ کیونکہ شہزادہ علاؤ الدین کا فی دنوں سے عارضہء جگر میں مبتلا تھا ۔ شہزادہ علاؤالدین نے جب اپنی بیماری کا ذکر ابوجعفر سے کیا تو ابوجعفر نے اسے سلیم پاشا سے علاج کروانے کی ہدایت کی۔خود شہزادہ علاؤالدین کو عارضہء جگر میں مبتلا کرنے والا ابوجعفر ہی تھا اس نے گزشتہ کئی ماہ سے شہزادہ علاؤالدین کو انتہائی آہستہ رفتار سے اثر کرنے والا زہر مختلف کھانوں میں دینا شروع کردیا تھا۔(جاری ہے )

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر 27 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -سلطان محمد فاتح -