’’وہ لڑکی جس کے ساتھ ایک جنّ نے شادی کرلی تھی‘‘ ۔۔۔ آخری قسط

19 جولائی 2018 (18:15)

محمد زبیراعوان

اب اکّادکّاجنّ ہی کسی وقت آتے اور پھر کچھ دیر تنگ کرنے کے بعد چلے جاتے، لیکن یہی وہ دن تھے جب ماورا میں ایک نئی تبدیلی دیکھنے کو ملی ، اسے جنات دن کی روشنی میں نظرآناشروع ہوگئے، وہ تندرست حالت میں بھی بتاتی کہ وہ دیکھو، اس درخت پر بیٹھا وہ جنّ یہ کررہاہے اور کبھی اسے سامنے چھت پر پڑی اینٹوں کے ڈھیر پر دھوپ تاپتے نظرآتے،محلے کی عورتیں اس کے پاس اپنے مسائل لانا شروع ہوگئیں،اب آپ کے ذہن میں یہ سوال بھی ہوگا کہ ان عورتوں کو ماورا کے جنات دکھائی دینے کا پتہ کیسے چلا اور وہ اپنے مسائل اس کے پاس ہی کیوں لاتیں؟؟؟دراصل ہوا کچھ یوں تھا کہ ایک مرتبہ اسی رہائشی پلازے میں مقیم ماورا کی ایک دوست کا موبائل فون گم ہوگیا، وہ کئی دیگر عورتوں کو بھی بتاچکی تھی کہ اس کے گھر سے موبائل فون غائب ہوگیا، محلہ دار بھی چوری کی اطلاع ملنے پر چوکنا ہوگئے ، اسی دوست نے جب موبائل گم ہونے کی بات ماورا کو بتائی تو اس نے تفصیل پوچھی کہ کب ، کہاں سے موبائل گم ہوا، گھر میں کون کون تھا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ اس کے بعد وہ کچھ دیر خاموش رہی اور پھر دوست کو بتایاکہ اس کے بھائی نے ہی اس کا موبائل غائب کیا ہے اور کوئی چوری نہیں ہوئی ۔۔۔اس لڑکی نے گھر پہنچتے ہی ہنگامہ کھڑا کردیا اور پھر بھائی نے بالآخر اعتراف کرلیا کہ موبائل اس کے پاس ہے ۔ اس لڑکی نے بتایاکہ دراصل اسے ماورا نے ہی بتایاتھا اور یوں یہ بات نکلتے نکلتے محلے میں پہنچیں تو دیگر خواتین بھی اس کی ’مریدخاص‘ ہوتی چلی گئیں ۔

’’وہ لڑکی جس کے ساتھ ایک جنّ نے شادی کرلی تھی‘‘ ۔۔۔ قسط نمبر 4پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اب جس کے گھر میں خلا ف معمول کوئی چیز پکتی تو وہ پلیٹ بھرکر ماورا کو پہنچائے بغیرخواتین اپنی فیملی کے منہ تک نہ پہنچنے دیتیں لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکا کیونکہ اب جنات کاعام حالات میں بھی دکھائی دینابتدریج کم بلکہ ختم ہوگیا، پیر صاحب نے کچھ قرآنی آیات خود ماورا کو ہی بتادی تھیں کہ وہ ان کو پڑھ کر خود پانی پی لے اور اپنے کمرے میں چھڑک لیاکرے،ایسے میں ماورا کی زندگی میں نسبتاً آسانیاں پیداہوناشروع ہوگئیں، اس نے کچھ سال پہلے کی عادت دوبارہ اپنا کروظائف کو اپنا معمول بنالیاتھا اور شاید اسی وجہ سے اب جنات کا بھی وہ آسان ہدف نہیں رہی، ساتھ ہی اس کے گلے میں ایک تعویذ پہنادیاگیاجس کے بارے میں ماورا نے بتایاکہ یہ پیرصاحب نے ہی دیا ہے اور یہ جب تک میرے پاس ہوگا، جنات کچھ نہیں بگاڑسکتے بلکہ اب میں ان کا کچھ بگاڑسکتی ہوں۔چند ہی دنوں بعد اس نے یہ عارضی ٹھکانہ چھوڑا اور واپس اپنی فیملی میں چلی گئی۔ یہ نئی اور کیل کے بغیرجگہ تھی، ایسے میں بعض اوقات اسے پھر اپنی طبیعت بوجھل ہونے اور جنات کا اثر ہونے کا شبہ ہوتا،اس کی شادی بھی کردی گئی ۔

کچھ ماہ بعد ماورا کے حاملہ ہوجانے اور وظائف میں کمی آنے ، کچھ وظائف بالکل رکوادیئے جانے کی وجہ سے جنات نے ایک مرتبہ پھر اسے تنگ کرنا شروع کردیاتھا، مگر اب وہ شدت نہیں تھی، ماورا خود بھی کافی حدتک صورتحال سنبھالنے کے قابل ہوچکی تھی لیکن پندرہ بیس دن بعد کوئی نہ کوئی دن ایسا ہوتاتھا جب صورتحال گھمبیرہوجاتی، اب جنات نے یہ ضدکرناشروع کردی تھی کہ وہ دنیاپرآنیوالا بچہ لے کرجائیں گے اور اسے اپناکوئی شہنشاہ بنائیں گے، ایک مرتبہ پھر ماورا اور ساتھ ہی ساتھ پیرصاحب کا نیا امتحان شروع ہوچکاتھا، ،اب انہوں نے ماورا کیساتھ ساتھ اس کے ہونیوالے بچے کی حفاظت کو بھی یقینی بناناتھا، ایسے میں انہوں نے ایک دھاگہ دم کرنے کا فیصلہ کیاجو ماورا کے پیٹ کے گردباندھا جانا تھا۔دھاگہ بھی دم ہوگیا،پھر ماورا نے اسے پیٹ کے گرد باندھ لیا، لیکن بعدمیں پتہ چلاکہ جب یہ دھاگہ پیرصاحب دم کررہے تھے تو انہیں اچھی خاصی کوفت کا سامناکرنا پڑا، کبھی دروازے پر کوئی دستک دیتا، انہیں اٹھ کر دروازے پر جانا پڑتالیکن وہاں کوئی نہ ہوتا تو کبھی واپس کمرے میں اپنی جگہ پر پہنچتے تو وہ دھاگہ وہاں سے غائب کہیں اردگردپایاجاتالیکن بہرکیف یہ کام بھی بخوبی انجام پاہی گیا۔

پیرصاحب نے لگے ہاتھوں ماورا کے شوہر کوایک تعویذ بھی بنادیا جو ہونیوالے بچے کی پیدائش کے وقت ماوراکوباندھ دینے کی صورت میں اس کا وہ مرحلہ آسان ہوجاتا، یہ تعویذ وہ شریف آدمی ماورا کے سامنے لے گیا جس کے سامنے جاتے ہی ماورا کو دردیں شروع ہوگئیں ۔ قریبی نجی کلینک میں لیڈی ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے اور اسی دوران پیرصاحب سے رابطہ بھی کرلیاگیا، انہوں نے تعویذ کے بارے میں دریافت کیا اور ساتھ ہی سختی سے ہدایت کی کہ ہسپتال میں وقت مقررہ سے قبل یہ تعویذ ماورا کے قریب یا اس کے کمرے میں بھی نہیں جاناچاہیے ، کسی دراز میں رکھ لیں اورڈیلیوری کیلئے ہسپتال پہنچ کر ماوراکے گلے یا ہاتھ میں پہنادینا ، فی الوقت کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، واپس گھر چلے جائیں ۔ دن ، ہفتے اور مہینے گزرگئے ، بالآخروہ گھڑی آگئی جس کا ماورا کو شدت سے انتظار تھا، بچے کی پیدائش کیلئے اہلخانہ اسے لے کر ہسپتال پہنچے ،وہاں کے عملے نے انتظار کروایا کہ ابھی قدرت کو بچے کا دنیا پر آنا شاید منظور نہیں، چند گھنٹوں بعد جواب دے دیاگیا کہ کچھ پیچیدگیاں ہیں ، ان کے پاس سہولیات کی کمی ہے لہٰذا کسی اور ہسپتال لے جائیں، پھر دوسرے ہسپتال پہنچے ، ہسپتال کے عملے نے بتایاکہ بچہ توشاید پیٹ میں ہی فوت ہوچکا ہے اور اب ماورا کی زندگی کو بھی خطرہ ہے ، کافی دیر ہوچکی ہےَ ۔اہلخانہ کے پاس ڈاکٹرز کو آپریٹ کرنے ، ماورا کو نشہ آورادویات دینے کی اجازت اور تمام ترذمہ داری خود قبول کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔ ایک فارم پر دستخط کیے اور انتظار گاہ میں بیٹھ گئے، کوئی آرہاتھا تو کوئی ان کے سامنے سے گزرکردوسری طرف جارہاتھا، آتے جاتے لوگوں کو دیکھ کر وقت گزارتے رہے یہاں تک گائنی وارڈ کے گیٹ پر کھڑے سیکیورٹی گارڈ نے اہلخانہ کوآوازدی اور ایک نومولود بچہ، تندرست و توانا ان کے سپردکردیاگیا۔چند گھنٹے ہسپتال میں رہنے کے بعدگھر جانے کی اجازت دیدی گئی۔ماورا نے بتایاکہ جب وہ گائنی وارڈ میں موجود تھی تو وہاں بھی کچھ پریشانی رہی ، لیکن پھر اسے پیرصاحب کی بتائی ہوئی آیت یادآئی تو اس نے اونچی آواز میں وہی پڑھنا شروع کردی۔ ایسے میں وہاں موجود لیڈی ڈاکٹراورنرسوں نے ایسا کرنے سے منع کیالیکن اس نے کوئی توجہ نہ دی اور بالآخریقین کامل کیساتھ یہ کٹھن مرحلہ بھی عبور کرگئی۔ اب پیرصاحب بھی دوسرے مرحلے میں جنات کو زیرکرکے یہ بازی جیت چکے تھے۔

دوسے تین سال بیت چکے ہیں، ماورا اپنی فیملی کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزاررہی ہے تاہم آج بھی کچھ آیات قرآنی وہ لازمی پڑھتی ہے۔ اپنے اوپراورپانی پر دم کرکے وہ پانی پی لیتی ہے جبکہ وہ پیرصاحب ملک محمد بشیر سہروردی قادری بھی دنیا سے پردہ کرچکے ہیں۔

ختم شد

مزیدخبریں