مذہبی ہم آہنگی کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھانی چاہیے،راغب نعیمی

  مذہبی ہم آہنگی کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھانی چاہیے،راغب نعیمی

  



لاہور(نمائندہ خصوصی)دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ وممبراسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ مذہبی ہم آہنگی کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھانی چاہیے،حقیقی امن کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں برداشت اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے کے رویے کو آگے بڑھایا جائے۔مذہبی ہم آہنگی کی آواز ہر جگہ سے اٹھنی چاہیے بھلے سے یہ محراب کا منبر ہو یا کوئی عبادت گاہ ہو یا کوئی سماجی ادارہ ہو یا کوئی سرکاری ادارہ ہو، ہر جگہ سے مذہبی آہنگی کی بات اٹھنی چاہیے اور جتنی زیادہ مذہبی ہم آہنگی کی باتیں اٹھیں گی مختلف اداروں سے اتنا ہی زیادہ ہم معاشرے میں امن کو فروغ پاتا ہوا دیکھیں گے۔

اس حوالے سے معاشرے میں بسنے والے تمام طبقات کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔پہلے درجے میں تو یہ پورے معاشرے کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن اس میں دو تین کرداروں کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔ مذہبی رہنماؤں کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے، ہم استادوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے والدین اور معاشرے کا کردار بھی کسی طریقے سے ایسا نہیں ہے کہ جس کو ہم پس پشت ڈال دیں تو یہ چار ایسے اسٹیک ہولڈرز ہیں جہاں سے اخلاق جنم لیتا ہے جہاں سے بچوں کی تربیت ہوتی ہے اور جہاں سے مذہبی ہم آہنگی اور دیگر امور کا پرچار ہوتا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب کیمپلس میں ادرہ فروغ امن وروش خیالی کے زیر اہتمام ”مذہبی ہم آہنگی معاشرتی ضرورت“کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار میں معروف روحانی شخصیت صاحبزادہ پیر وقاص منور قادری،علامہ مخدوم عاصم حسین،علامہ ناصر عباس شیزاری،مولانا عبدالمالک وٹو،احسن ضیاء،علامہ شکیل الرحمان،چیئرپرسن سعیدہ دیپ سمیت مختلف مدارس،سکولز،کالجز کے طلبہ وطالبات نے بھرپورشرکت کی۔مقررین اپنے خطابات میں کہاکہ پاکستان کو اس وقت بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ملک کی ترقی اور بہتر تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں آباد تمام مذاہبی اقلیتوں کے ساتھ تعاون اور برداشت کے رویوں کو پروان چڑھایا جائے۔اس موقع پر مہمانوں میں شیلڈتقسیم کی گئیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...