”باؤ جی کی کلثوم“ ……جیل میں بند نوازشریف کے لیے ایک تحفہ

”باؤ جی کی کلثوم“ ……جیل میں بند نوازشریف کے لیے ایک تحفہ
”باؤ جی کی کلثوم“ ……جیل میں بند نوازشریف کے لیے ایک تحفہ

  



یہ بات صد فیصد سچ ہے کہ اگر سید محمد عظمت ارائیں یا کشمیری ہوتے تو آج وہ بھی مسلم لیگی رکن اسمبلی ہوتے۔

سید محمد عظمت پرانے لیگی کارکن ہیں۔ ان کی 1984ء سے میاں محمد نوازشریف سے یاد اللہ ہے۔ 2013ء میں انہوں نے سابقہ حلقہ این اے 120اور موجودہ 125 میں لوئر مال کے علاقے میں مسلم لیگ (ن) کا مرکزی انتخابی دفتر قائم کیا

جہاں مریم نواز بار بار آئیں۔ ایک بار محترمہ کلثوم نواز بھی تشریف لائیں۔2017ء میں میاں محمد نوازشریف کے نااہل ہونے کے بعد اس حلقے سے محترمہ کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی، سید محمد عظمت کی تجویز پر جمع کرائے گئے۔ ظاہر ہے کہ ایک کارکن کے لئے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور اگر میرے دوست سید محمد عظمت،اس اعزاز کو اپنی دستار کا پَر سمجھتے ہیں تو کچھ غلط نہیں کرتے۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) نے سید محمد عظمت کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جیسا، وفاداروں کے ساتھ دوسری پارٹیاں کرتی چلی آ رہی ہیں۔ لیکن عظمت صاحب کی عظمت ملاحظہ کیجئے کہ انہوں نے اپنی پارٹی اور لیڈر سے تعلق تب بھی نہ توڑا جب وفاداری کے بڑے بڑے دعوے دار، پلّو جھاڑ کر، نئے صاحبانِ اقتدار کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔

میری یہ سطریں پڑھ کر میرے قارئین کہیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ میں شاید کوئی مسلم لیگی ورکر ہوں یا اس پارٹی کا حمایتی ہوں، اس لیے صاف صاف عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ میں انسانی صفات کا پرستار ہوں۔ مجھے انسانی اوصاف کا پیکر کہیں بھی دکھائی دے میں اس کی ستائش ضرور کرتا ہوں، تاکہ دوسرے بھی اس کی پیروی کریں۔ وفاداری بھی ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے جو اب نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ شاید مرزا غالب کے عہد میں بھی نایاب ہی تھی۔ تبھی تو انہوں نے کہا تھا:

وفاداری بشرطِ استواری، اصلِ ایماں ہے

آج جب ہر طرف تبدیلی کا شور ہے۔ پرانے پاکستان کو نئے پاکستان میں بدلنے کی کوشش ہو رہی ہیں۔ پرانے خوابوں کی نئی تعبیریں تلاش کی جا رہی ہیں۔ حتیٰ کہ وفاداریاں تک تبدیل ہو رہی ہیں۔ لیکن میرے دوست سید محمد عظمت کی دلیری دیکھیے کہ انہوں نے (عین ان دنوں میں، جب لیگی ورکر تبدیلی کے خوف سے اِدھر اُدھر ہونے کی کوشش کر رہے ہیں) محترمہ کلثوم نواز کی شاندار شخصیت اور جمہوریت کے لیے ان کی خدمات کو تاریخ کا حصہ بنانے کے لئے تقریباً سوا پانچ سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھ ڈالی ہے اس کتاب کو انہوں نے ”باؤ جی کی کلثوم“ کا نام دیا ہے۔

کتاب کے سرورق پر عظمت صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کتاب مادرِ جمہوریت کی شخصیت اور سیاست کی ایک مکمل دستاویز ہے۔ یہ کتاب پڑھنے کے بعد آپ بھی پکار اٹھیں گے کہ یہ واقعی محترمہ کلثوم نواز کی شخصیت اور سیاست کی ایک مکمل دستاویز ہے۔

”باؤ جی کی کلثوم“ کو سید محمد عظمت نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں انہوں نے محترمہ کلثوم نواز کی شخصیت اور سیاسی جدوجہد پر تیرہ ابواب لکھے ہیں۔یہ حصہ مکمل کرنے کے لئے انہوں نے وہ تمام مآخذ اور ذرائع استعمال کیے ہیں، جو انہیں کہیں سے بھی دستیاب ہوئے۔

محترمہ کلثوم نواز کی دلیری اور جرات کا منبع انہوں نے رستمِ زماں گاماں پہلواں کے خون کو قرار دیا ہے۔ سو لازم تھا کہ کلثوم نواز کی سیاسی جدوجہد پر لکھنے سے پہلے رستمِ زماں کے بارے میں بھی کچھ لکھا جاتا۔

اس کتاب میں محترمہ کلثوم نواز کے بارے میں تو تمام حقائق شامل کئے ہی گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں رستمِ زماں گاما پہلوان کے بارے میں بھی بہت سی اہم معلومات دی گئی ہیں۔ مجھے خود پہلی بار اس کتاب کے ذریعے سے علم ہوا کہ ہمدرد والے حکیم محمد سعید،گاماں پہلوان کے شاگرد تھے۔ وہ نہ صرف یہ کہ ان سے پہلوانی کے داؤ پیچ سیکھتے رہے بلکہ ایک بار حکیم صاحب نے گاما پہلوان کو چیلنج بھی کر دیا تھا۔

اس کتاب کے صفحہ نمبر22پر درج ایک واقعہ شاید پہلی بار سامنے آیا ہے۔

سید محمد عظمت لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ ان کے ایک بزرگ اور بیگم کلثوم نواز کے خاندانی حالات سے آشنائی رکھنے والی ایک شخصیت مسعود حیات صاحب نے بیان کیا ہے: ”کلثوم ہمارے گھر فاروق گنج آئی ہوئی تھیں۔ تب ان کی عمر 6برس تھی۔ میرے تایا صوبے کا بیٹا علاؤ الدین بھی آ گیا۔

وہ شوقیہ ہاتھ دیکھا کرتا تھا اس نے جب کلثوم کا ہاتھ دیکھا تو بولا: ”یہ بچی ملکہ بنے گی“۔ اس کی بات سن کر سب بہت حیران ہوئے اور پوچھنے لگے کہ یہ کیسے ملکہ بن سکتی ہے تو علاؤ الدین بولا: ”یہ مجھے معلوم نہیں لیکن یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ اس بچی کی قسمت میں ملکہ بننا لکھا ہوا ہے ایک اور عزیزہ کو علاؤ الدین نے کہا کہ تمہارے دو بیٹے ہوں گے۔بعد میں ایسا ہی ہُوا“۔

کلثوم نواز کے بارے میں کی گئی پیش گوئی یوں سچ ثابت ہوئی کہ وہ ایک بار نہیں، تین بار ملکہ بنیں۔ اس کتاب میں بیگم کلثوم نواز کی زندگی کے تمام زاویوں کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے۔

کتاب کے پہلے حصے میں شامل ابواب کے عنوانات اس کتاب کی اہمیت کا مظہر ہیں۔ آپ یہ عنوانات ملاحظہ کیجئے۔1۔کلثوم: تمہارا باؤ جی“: 2۔ باؤ جی کے نام کلثوم نواز کا خط 3۔ بیگم کلثوم نواز کی شخصیت4۔ بیگم کلثوم نواز اور گاما پہلوان 5۔ بیگم کلثوم نواز کی جرات اور دلیری 6۔ بیگم کلثوم نواز اور اہلِ سیاست کی بے وفائی 7۔ بیگم کلثوم نواز اور ادب 8۔ بیگم کلثوم نواز کی کتاب ”جبر اور جمہوریت“ 9۔ بیگم کلثوم نواز اور خواتین کی مزاحمتی سیاست 10۔ بیگم کلثوم نواز کی بیماری اور سانحہ ء ارتحال 11۔ بیگم کلثوم نواز کا سفرِ آخرت 12۔ بیگم کلثوم نواز، موت کا فلسفہ اور تعزیت نامے 13۔ بیگم کلثوم نواز کے افکار و خیالات۔

کتاب کے دوسرے حصے میں انگریزی اخبارات کے ان منتخب اداریوں اور مصامین کے تراجم شامل کئے گئے ہیں جو بیگم کلثوم نواز کے بارے میں لکھے گئے۔ یہ تراجم پروفیسر ناصر محمود صدیقی نے نہایت شستہ اور نستعلیق اردو میں کیے ہیں۔

کتاب کے تیسرے حصے میں ملک کے نام ور اور ممتاز کالم نگاروں کے بیگم کلثوم نواز کے بارے میں لکھے گئے منتخب کالم شامل کئے گئے ہیں جن میں مجیب الرحمن شامی، عطاء الحق قاسمی، عبدالقادر حسن، رؤف طاہر،عارف نظامی، عطاء الرحمن، نواز میرانی، عبداللہ طارق سہیل، محمد اظہار الحق، سجاد میر، حامد میر، ڈاکٹر صفدر محمود، الطاف حسن قریشی، زاہدہ حنا، فرخ سہیل گوئندی، سعدیہ قریشی، نوید چودھری،نجم والی خان، پرویز بشیر، کرنل (ر) غلام جیلانی خان، نسیم شاہد، افضل عاجز، ارشد وحید چودھری، عنبرین صلاح الدین، آغا ندیم سحر، زمان خان، اثر چوہان،مجاہد بریلوی، خورشید ندیم اور محمد اکرم چودھری کے نام نمایاں ہیں۔

جیل میں روز و شب گزارنے والے میاں محمد نوازشریف کے لیے تو یہ کتاب ایک تحفہ ہے ہی، بہادر اور دانش مند شخصیات کے دیوانوں کے لیے بھی یہ کتاب ایک ارمغان ہے۔

مزید : رائے /کالم