حکومت نے ہسپتال سکول بنانا چھوڑ دیئے،جناح ہاسپٹل کے بعد کوئی سرکاری ہسپتال کیوں نہیں بنایا؟ہائیکورٹ 

      حکومت نے ہسپتال سکول بنانا چھوڑ دیئے،جناح ہاسپٹل کے بعد کوئی سرکاری ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے سدباب کے لئے دائر درخواستوں پر ایڈیشنل کمشنر لاہور، پنجاب ایڈز کنڑول پروگرام اور دیگر متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔قائم مقام چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ حکومت نے ہسپتال اورسکول بنانا چھوڑ دیئے ہیں،سب کچھ نجی سیکٹرپر چھوڑ دیا گیاہے،آخری ہسپتال حکومت نے جناح ہسپتال بنایا تھا،فاضل جج نے مزیدریمارکس دیئے کہ مجھے نہیں معلوم حکومت نے جناح ہسپتال کے بعد کوئی سرکاری ہسپتال کیوں نہیں بنایا؟جوڈیشل ایکٹوازم پینل اوردیگر شہریوں کی درخواستوں کی سماعت کے موقع پرایڈیشنل کمشنر لاہور عدالت میں پیش ہوئے،قائم مقام چیف جسٹس مامون رشید نے ایڈیشنل کمشنر لاہور سے استفسار کیا کہ اگر میں غلط نہیں تو آپ نے نوٹیفیکیشن جاری کررکھا ہے کہ ہسپتال اور تعلیمی ادارے صنعتیں ہیں،آخری ہسپتال آپ لوگوں نے جناح ہسپتال بنایا ہے؟مجھے نہیں معلوم آپ نے جناح ہسپتال کے بعد کوئی سرکاری ہسپتال کیوں نہیں بنایا؟جسٹس مامون رشید نے ریمارکس دئیے کہ پی کے ایل آئی تو اسپشلائزڈ ہسپتال ہے اور وہ نہ جانے کب مکمل آپریشنل ہوتا ہے،عدالت نے ناراضی کا اظہار کیا کہ آپ نے ہسپتال اور سکول بنانا چھوڑ دئیے ہیں،سب کچھ نجی سیکٹر کے سر پر چھوڑ دیا ہے،ہمارے بہت سے ججز سینٹرل ماڈل سکول سے پڑھے ہیں،آج سینٹرل ماڈل کی حالت دیکھیں،جسٹس مامون رشید نے ایڈیشنل کمشنر لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میونسپل کارپوریشن کے سکولوں کا حال دیکھ لیں،آپ انہیں کو ٹھیک کر لیں۔سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی ہے،آپریشن تھیٹر میں سپرٹ تک نہیں ہوتی،کہتے ہیں تو آپ کو ثبوت دے دیتا ہوں۔جسٹس مامون رشید نے ایڈیشنل کمشنر کو مخاطب کرکے آبزرویشن دی کہ ہر ہسپتال میں دل گردے سمیت ہر بیماری کا علاج ہونا چاہیے،، جیل انسپکشن میں ایڈز کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد سامنے آئی ہے،کیمپ جیل میں خود دیکھ کر آیا ہوں وہاں کتنے ایڈز کے مریض ہیں،عدالت نے آئندہ سماعت پر ایڈیشنل کمشنر لاہور اور دیگر محکموں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر


loading...