جنرل ہسپتال میں ملازمین کی غیر قانونی اپ گریڈیشن سے قومی خزانے کو بھاری نقصان کا انکشاف

  جنرل ہسپتال میں ملازمین کی غیر قانونی اپ گریڈیشن سے قومی خزانے کو بھاری ...

  



لاہور(جاویداقبال)  ڈائریکٹر جنرل آڈٹ پنجاب نے لاہور جنرل ہسپتال میں اختیارات کے غلط استعمال سے قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کی آڈٹ رپورٹ جاری کردی، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر صلاح الدین، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن رانا شفیق اور ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایڈمن ڈاکٹر جعفرشاہ اور کمیٹی میں شامل دیگر افسروں کو نقصان کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ذرائع کے مطابق ایم ایس ڈاکٹر صلاح الدین، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن رانا شفیق ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایڈمن ڈاکٹر جعفر نے محکمہ خزانہ سے منظوری اور ایس او پیز کے بر عکس من پسند ملازمین کی اپ گریڈیشن کر کے قومی خزانے کو کروڑوں روپے سالانہ نقصان پہنچایا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013 میں لاہور جنرل ہسپتال الائیڈ ہیلتھ سائنسز اور نرسنگ میں بھرتی ہونیوالوں کو غیر قانونی طور پر2011ء سے ترقیاں دی گئیں، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کے گریڈ ایک سے چار تک کے بعض ملازمین کو قوانین کے برعکس براہ راست بالترتیب گریڈ 6،7 اور 8 میں ترقی دے دی جبکہ گریڈ6 چھ میں کام کرنے والوں کو گریڈ 9 میں ترقی دی گئی اسی طرح گریڈ 9 والوں کو گریڈ 14،گریڈ12والوں کو گریڈ 16 دینے کیساتھ ساتھ نئے گریڈ کے مطابق تنخواہیں بھی جاری کردی گئیں۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آڈٹ پنجاب نے سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ پنجاب کو ذمہ داران سے ریکوری کرنے ان کیخلاف قانونی کارروائی کئے جانے کا مراسلہ بھجوا دیا۔ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ نے ڈاکٹر صلاح الدین اور دیگر افسروں کو اس اقدام سے تحریری طور پر منع کیا مگر تینوں نے مبینہ طور پر نذرانے لے کر 250 سے زائد ملازمین کی اپ گریڈیشن کردی۔ ہسپتال کے نئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فرید ظفر نے اس معاملے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں تاہم اگر ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے تو اس کی تحقیقات بھی ہوگی،جو بھی ذمہ دارپایا گیا اس کے خلاف کارروائی کرینگے۔

جنرل ہسپتال /نقصان

مزید : صفحہ آخر