ٹیکس دینے والے چور اور ٹیکس جمع کرنے والے کرپٹ؟

ٹیکس دینے والے چور اور ٹیکس جمع کرنے والے کرپٹ؟

  



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیکس ریونیو کا 70فیصد ملک کی صرف 300کمپنیاں دیتی ہیں، سروس سیکٹر اپنے حجم کے برعکس صرف ایک فیصد ٹیکس دے رہا ہے۔ زراعت کا شعبہ بھی اپنی استطاعت سے کہیں کم ایک فیصد کے قریب ٹیکس دے رہا ہے۔ ٹیکس کے حوالے سے لوگوں کے خدشات اس لئے ہیں کیونکہ ایف بی آر پر لوگوں کا اعتماد نہیں ہے اور اس کی بنیادی وجہ ماضی میں ایف بی آر کا کردار رہا ہے، ایف بی آر میں اصلاحات پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں ایک وفاقی وزیر (شوکت ترین) نے کہا تھا کہ ٹیکس مشینری میں 700ارب روپے کی کرپشن ہے، وزیراعظم نے کہا کہ بائیس کروڑ لوگوں میں سے صرف 15لاکھ ٹیکس دے رہے ہیں۔ اگر کاروباری لوگ تھوڑا تھوڑا ٹیکس بھی دیں تو ہم قرضوں کی دلدل سے نکل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا شناختی کارڈ کی شرط پر صرف وہ تاجر اعتراض کر رہے ہیں جو سمگلنگ کا سامان فروخت کرتے ہیں، اس سے صنعتوں اور ملک کو نقصان ہوتا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی وجہ سے بھی سمگلنگ ہوتی ہے جس کی روک تھام کے لئے بات چیت جاری ہے اس وقت ہم ٹیکسوں سے جو رقوم جمع کرتے ہیں اس کا بڑا حصہ غیر ملکی قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کردیا کہ وہ ہڑتالوں کی وجہ سے کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے اپنے سننے والوں کو ایک بار پھر اس حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری سمجھا کہ ان کی بیرونِ ملک کوئی جائیداد نہیں ان کی ساری جائیداد ملک کے اندر ہے۔ انہوں نے یہ باتیں گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں جو کچھ بھی کہا وہ کسی نہ کسی انداز میں پہلے سے معلوم ہے اس لئے اسے کوئی انکشاف تو قرار نہیں دیا جاسکتا، انہوں نے یہ بات کوئی پہلی مرتبہ نہیں کی کہ وہ ہڑتال یا دباؤ کی وجہ سے اپنے فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اگرچہ کوئی فیصلہ کرکے یوٹرن لے لینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور اس سلسلے میں ان کا ٹریک ریکارڈ بڑا شاندار ہے اس لئے ان سے یہ بعید تو نہیں کہ وہ کل کلاں ملک و قوم کے مفاد کے نام پر کوئی فیصلہ بدل لیں۔ تاہم وہ اگر اب تک اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں تو ان کی اس ثابت قدمی کی داد دینی چاہئے۔ انہوں نے متعدد فورموں پر یہ بھی کہا ہے کہ ایف بی آر میں کرپشن بہت ہے اب انہوں نے شوکت ترین کے حوالے سے 700ارب کرپشن کی بات کی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے روکنے کے لئے کیا کیا جارہا ہے۔ وہ نئے ایف بی آر کی بات بھی کرتے رہے ہیں اور اس کی عملی شکل یہ سامنے آئی کہ اس کا چیئرمین پرائیویٹ سیکٹر سے لے آئے، ایف بی آر کے اندر اس پرخاموش احتجاج اب تک جاری ہے جو کسی کو نظر آتا ہے یا نہیں، لیکن یہ موجود ہے پچھلے دنوں تبادلوں کا ایک جھکڑ بھی چلایا گیا، بظاہر تو ان اقدامات کا مقصد ٹیکس مشینری کی اصلاح ہے لیکن کیا ان کا کوئی نتیجہ بھی نکلا؟ جہاں تک چیئرمین کا تعلق ہے لگتا ہے وہ تو مایوس مایوس پھرتے ہیں اور شاید وہ اس حیثیت میں کام جاری بھی نہیں رکھنا چاہتے، متبادل کے لئے کوشاں ہیں، جس ادارے کے سربراہ کو اپنے تقرر کے دو ڈھائی ماہ کے اندر ہی اپنا مستقبل غیر یقینی نظر آنے لگے وہ کیا کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ خاص طور پر ان حالات میں جب تھوک کے حساب سے تبادلوں نے بھی ایف بی آر میں بددلی کی ایک کیفیت پیدا کر رکھی ہو۔

ایف بی آر میں کرپشن موجود ہے اور اسے روکنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں، لیکن کیا یہ کرپشن کسی جادوگر کی پھونک سے روکی جاسکتی ہے؟ وزیراعظم عمران خان اکثر و بیشتر یہ بات دہراتے رہتے ہیں کہ اگر اوپر دیانتدار لوگ بیٹھے ہوں تو لوگ خوشی خوشی ٹیکس دیتے ہیں۔ انہوں نے کئی بار یہ دعوی بھی کیا ہے کہ وہ ”اس قوم سے“ آٹھ دس ہزار ارب ٹیکس جمع کرکے دکھائیں گے، اب اس دعوے کو سچ ثابت کرنے کا وقت ہے، لیکن ماہرین کو تو یہ بھی یقین نہیں کہ سال رواں کے لئے رکھا گیا 5500ارب روپے کا ہدف بھی حاصل ہوپائے گا یا نہیں، دلیل اس کی یہ ہے کہ اگر گزرے مالی سال میں 4000ارب بھی اکٹھے نہیں ہوسکے تو یک دم 40% اضافہ کیسے ہوگا اور وہ بھی اس کرپٹ مشینری کے ہوتے ہوئے جو 700ارب کا ٹیکس خود ہی کھا جاتی ہے۔

سروسز اور زرعی سیکٹر کا ایک فیصد اگر ٹیکس دیتے ہیں تو اس سیکٹر سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے کے لئے کوئی اقدامات کئے گئے ہیں یا نہیں، یہ تو کسی کو معلوم نہیں، کیونکہ وزیراعظم سمیت گورنروں، وزرائے اعلیٰ اور دوسرے وزیروں کی جتنی بھی ملاقاتیں حالیہ ہفتوں میں ہوئی ہیں وہ سب صنعت کاروں اور تاجروں ہی سے ہوئی ہیں، وزیراعظم نے گوجرانوالہ میں بھی کاروباری لوگوں ہی سے خطاب کیا، یاد نہیں پڑتا کہ کسی وزیر نے کبھی زرعی شعبے سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے کی بات کی ہو یا سروسز سیکٹر کو اس جانب متوجہ کیا ہو، ماضی کے ایک حکمران نے کہا تھا کہ پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر رات کو بوریاں بھر کر نوٹ گھروں کو لے جاتے ہیں لیکن اس دولت پر ٹیکس نہیں دیتے، وکلا بھی اپنی آمدنی سے بہت تھوڑا ٹیکس دیتے ہیں لیکن ہم نے کبھی نہیں سنا کہ ٹیکس چوری کے الزام میں کبھی کوئی ڈاکٹر گرفتار ہوا ہو یا کسی وکیل کو گرفتار کیا گیا ہو، نیب نے بھی کبھی اس جانب توجہ نہیں کی، البتہ بلوچستان میں ڈاکٹروں کو تاوان کے لئے اکثر اغوا کر لیا جاتا ہے اور وہ کروڑوں روپے تاوان ادا کرکے رہا ہوتے ہیں، ٹیکس ان سے پھر بھی نہیں لیا جاتا، حالانکہ ان سے سیدھے سبھاؤ یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر وہ کروڑوں روپے تاوان دے سکتے ہیں تو اس کا عشر عشیر بطور ٹیکس بھی دے دیں۔ ان حالات میں ٹیکس جمع کرنے والے بھی اگر کرپٹ ہوں گے تو پھر صورت حال محض اپیلوں سے تو تبدیل نہیں ہوگی، ایف بی آر میں اگر کوئی اصلاحات ہو رہی ہیں تو یہ بھی اس وقت معلوم ہوگا جب ان اصلاحات کا کوئی نتیجہ نکلے گا، جنہوں نے ٹیکس دینا ہے وہ ٹیکس چور ہیں اور جنہوں نے جمع کرنا ہے وہ کرپٹ ہیں، ایسے میں کامیابی کس طرح ہوگی؟

مزید : رائے /اداریہ