عالمی سطح پر تسلیم، کلبھوشن بھارتی جاسوس!

عالمی سطح پر تسلیم، کلبھوشن بھارتی جاسوس!

  



عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت کے لئے بھارتی حکومت کی درخواست مسترد کر دی ہے، فیصلے پر پاکستان کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا گیا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یقین دلایا کہ پاکستان اپنے قوانین کے تحت مکمل دیانت داری سے اگلی کارروائی کرے گا،بھارتی فوج کے اس افسر کو ”را“ نے باقاعدہ طور پر بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے لئے متعین کیا اور وہ اصلی تصویر اور جعلی نام سے تاجر بنا ہوا تھا، اور ایران میں کمپنی بنا رکھی تھی، پاکستانی جوانوں نے اسے چمن سے گرفتار کیا اور تفتیش کی تو وہ خود اقبالی ہو گیا۔کلبھوشن نے باقاعدہ طور پر اپنے جرائم کا اقرار کیا یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کا اصل نام کلبھوشن یادیو اور وہ بھارتی فوج (نیوی) کا افسر ہے،پاکستان میں اس کے خلاف جاسوسی اور تخریب کاری کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا،اسے صفائی کا پورا موقع دیا گیا،جس کے بعد اسے سزائے موت کا حکم دیا گیا،فوجی عدالت سے اس حکم کے بعد ہی بھارتی حکومت نے واویلا کیا اور کلبھوشن کو بھارتی شہری تسلیم کرنے پر مجبور ہوئی۔تاہم بھارت کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں اس کی رہائی کے لئے مقدمہ دائر کر دیا،جس کا فیصلہ گزشتہ روز سنا دیاگیا،بھارتی درخواست مسترد کر دی گئی تاہم پاکستان سے کہا گیا کہ مجرم کلبھوشن تک قونصلر رسائی دی جائے اور اس کی سزا پر نظرثانی کرے،فیصلے میں کلبھوشن کو بھارتی جاسوس تسلیم کر کے بھارت کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی کہ کلبھوشن کو بھارت کے حوالے کیا جائے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان نے تو بوجوہ فیصلے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ عالمی عدالت نے فوجی عدالت کا فیصلہ بھی تسلیم کر لیا، جبکہ بھارت نے قونصلر رسائی کو فتح قرار دینا شروع کر دیا ہے،حالانکہ فیصلے میں ویانا کنونشن کا ذکرہے اور قونصلر رسائی پاکستان کی صوابدید ہے۔ یہ پاکستان کی یقینا جیت ہے کہ بھارت پوری دُنیا میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے،لیکن یہاں خود بھارت کی دہشت گردی اور تخریب کاری ثابت ہو گئی اور دُنیا پر آشکار ہو گئی ہے،بھارت کس بات پر خوشی منا رہا ہے۔ یہ اسے ہی معلوم ہے، جہاں تک قونصلر رسائی کا تعلق ہے تو یہ دے بھی دی گئی تو اس سے جرم کی شدت تو کم نہیں ہوتی۔البتہ یہ ممکن ہے کہ بھارت اپنے اس جاسوس کی قانونی مدد کے لئے تعاون کرے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق کلبھوشن کو ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہے اور اگر ہر دو عدالتوں سے بھی اپیل خارج ہو جائے تو پھر وہ صدرِ مملکت سے رحم کی اپیل کر سکتا ہے،اِس لئے اس کی سزا پر عمل درآمد ان مراحل کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ پاکستان کو قونصلر رسائی والے فیصلے کی یوں بھی اہمیت نہیں کہ پاکستان نے توکلبھوشن کی والدہ اور بیوی کو بھی ملنے کی اجازت دے دی تھی، یہ اطمینان کی بات ہے کہ پاکستان کے موقف کو عالمی فورم پر پذیرائی ملی ہے،کیس لڑنے والوں کو بھی مبارک کہ جیت میں ان کا زیادہ حصہ ہے۔

مزید : رائے /اداریہ