سیاسی جماعتیں ایسے ہتھکنڈوں سے ختم نہیں ہوتیں

سیاسی جماعتیں ایسے ہتھکنڈوں سے ختم نہیں ہوتیں
 سیاسی جماعتیں ایسے ہتھکنڈوں سے ختم نہیں ہوتیں

  



سنجیدہ فکر لوگوں کی تمام تر خواہشات اور دعاؤں کے باوجود ملک میں سیاسی حالات معمول پر نہیں آ رہے اور محاذ آرائی میں روز بروز شدت پیدا ہو رہی ہے اور اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ فواد چودھری اور شیخ رشید کی پیش گوئیوں اور اعلانات کے مطابق سابقہ دور والی برسراقتدار دونوں جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو واقعی تانگہ پارٹیاں بنانے کی کوشش چل رہی ہے، حالانکہ سیاسی تاریخ کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ غیر فطری طریقے اور انتظامی طرز عمل سے سیاسی جماعتیں ختم نہیں ہوتیں۔

اس کی بڑی مثال خود پیپلزپارٹی ہے کہ 1977ء میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹنے اور ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے کے باوجود یہ ممکن نہ ہوا، حتیٰ کہ پیپلزپارٹی کے اندر سے مصطفےٰ جتوئی، مصطفےٰ کھر اور مولانا کوثر نیازی جیسے اہم حضرات کی تمام تر کوششوں کے نتیجے میں بھی ایسا نہ ہو سکا، صرف یہی نہیں بلکہ ایم آر ڈی کی تحریک کو ناکام بنا لینے کے باوجود جنرل ضیاء الحق کو کامیابی نہ ملی اور جب 1988ء میں موقع آیا تو پیپلزپارٹی پھر سے زندہ تھی بلکہ وفاق میں واحد اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری تھی اور اسی بناء پر محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئی تھیں، کون نہیں جانتا کہ نون وِلا میں پیپلزپارٹی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

مولانا کوثر نیازی نے مصطفےٰ جتوئی کو قائم مقام چیئرمین بنانے کی تحریک پیش کر دی، جسے بابائے سوشلزم شیخ رشید نے ناکام بنایا وہ خود وائس چیئرمین تھے انہوں نے اپنی ذات کو مائنس کرکے بیگم نصرت بھٹو کا نام آگے بڑھایا اور کامیابی حاصل کرلی۔

بعدازاں مصطفےٰ جتوئی اور غلام مصطفےٰ کھر نے نیشنل پیپلزپارٹی اور مولانا کوثر نیازی نے پروگریسو پیپلزپارٹی بنائی حتیٰ کہ محترم محمد حنیف رامے نے بھی مساوات پارٹی کا تجربہ کرکے دیکھ لیا، پھر ملک معراج خالد جیسے اہم اور دھیمے شخص کی ساتھیوں سمیت علیحدگی بھی متاثر نہ کر سکی۔ یہاں یہ بھی عرض کریں کہ اس کے بعد پارٹی کے اندر عجیب سی کشمکش ہوئی۔ بیگم نصرت بھٹو کی جگہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو چیئرپرسن اور پھر تاحیات چیئرپرسن مقرر کیا گیا، اس کے بعد بھی کئی وار ہوئے۔

بھٹو شہید پارٹی بنی، مرتضیٰ بھٹو مقابلے میں اترے تاہم یہ بھی کامیاب نہ ہوئے اور خود جان دے کر چلے گئے۔ یہ پیپلزپارٹی اب بھی موجود ہے اور مرتضیٰ کی بیوہ غنویٰ بھٹو سربراہ ہیں جبکہ بیگم ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی نے پیپلزپارٹی ورکرز بھی بنا رکھی ہے۔

اب ذرا غور فرمائیں تو اندازہ ہو گا کہ ان سب ادوار میں انتظامی ہتھکنڈوں سے کچھ نہ بنا، پیپلزپارٹی کو نقصان پہنچا تو خود اس کے اندر سے، پنجاب، اور کے پی کے میں عوامی پذیرائی میں بہت کمی ہوئی، بلوچستان میں پہلے ہی زیادہ مقبولیت نہیں تھی، بس سندھ نے ساتھ دیا کہ دیہی سندھ میں بے نظیر بھٹو شہید رانی ہیں۔

اب ذرا مسلم لیگ (ن) پر بھی نظر ڈالیں، اس کی تاریخ جو بھی ہے، جیسے بھی ہے۔ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں یہی جماعت تھی اور اسے ہی پذیرائی ملی۔1990ء اور 1996ء میں اکثریت ملی اور نوازشریف وزیراعظم ہوئے۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا، پرویز مشرف آئے۔ انہوں نے بھی تمام تر کوشش کی، اس دور میں تو مسلم لیگ (ن) سے مسلم لیگ (ق) برآمد ہوئی اور پیپلزپارٹی میں سے پیٹریاٹ دریافت کر لئے گئے۔ اس کے باوجود جب وقت آیا تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہی کو عوام نے موقع دیا اور باری باری ان کو حکومت ملی جو 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں چھن گئی اور ایک سال سے اب عمران خان برسراقتدار ہیں۔

گزارش یہ مقصود ہے کہ سیاسی جماعتوں کی شہرت اور بدنامی سیاسی عمل ہی سے ہوتی ہے۔ اگر جونیجو نہ رہیں تو چودھری شجاعت اور نواز شریف آ جاتے ہیں اور پھر مسلم لیگ (ق) ایک مختصر سی جماعت رہ جاتی ہے، تاہم چودھری برادران کی ”بصیرت“ اور ”اچھے تعلقات“ کام آتے ہیں اور آج وہ کہیں کم تعداد کی حمائت کے باوجود اہم سیاسی شخصیتیں اور جماعت ہے حتیٰ کہ اقتدار میں عملی طور پر شریک ہے اور پنجاب میں تو اہمیت بھی حاصل ہے۔ کئی فیصلے چودھری پرویز الٰہی کی تجویز و سفارش اور حمائت سے ہوتے ہیں۔

یہ سب یاد دہانی ہے۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو چاہے وہ کوئی بھی ہوں انتظامی عمل سے ختم کرنے کی کوشش ہی نہیں کرنا چاہیے کہ اکثر یہ امر ان کی بقاء بن جاتا ہے، اس لئے بہتر ہے کہ سیاسی عمل جاری رہنے دیں خود کسی کو مظلوم نہ بنائیں اور اپنا تاثر مختلف متعارف نہ کرائیں، یہ اس طرح ممکن ہے کہ سیاسی عمل سیاسی طور پر چلنے دیں اور انتظامی امور کو اداروں کے سپرد رہنے دیں۔

گڈگورننس صرف زبان سے نہ کہیں عملی طور پر کرکے بھی دکھائیں، آج ملک کے معاشی اور اقتصادی حالات نے عوام کو مجبور کرکے رکھ دیا اور ہر شخص فکر مند اور نفسیاتی مریض بنا ہوا ہے، یہ بہت ہی خطرناک صورت حال ہے اور اس کا نتیجہ انارکی ہی ہو گا، براہ کرم خود بھی سنبھلیں اور دوسروں کو بھی موقع دیں اگر سابقین نے پانچ پانچ سال پورے کئے تو آپ بھی کریں اس کے لئے جمہوری اور آئینی اقدار کو اپنانا ہی بہتر ہے۔

حالات میں بہتری کی بجائے ابتری آ رہی ہے،نیب نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، احتساب سے کسی کو انکار نہیں، یہ عوامی خواہش بھی ہے، لیکن اس کے لئے آئینی اور قانونی عمل جاری رہنے دیں ساری جماعت اور حکومتوں کو پیچھے لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ عوام کی مشکلات کم کرین، اسی سے آپ کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی دل کی بھڑاس ہے اور یہ دیکھ کر نکالنا پڑی کہ احتساب جج ارشد ملک کی شکائت پر ایف ائی آر درج کرکے مقدمہ قائم کر دیا گیا اور مسلم لیگ (ن) کی قریباً مرکزی قیادت مریم نواز سمیت اس میں ملزم ہے، یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں بھی ہے اور فاضل بنچ نے سوال بھی اٹھائے اور رپورٹیں بھی طلب کی ہیں۔ بہتر ہوتا کہ یہ سب رپورٹ کی صورت میں وہاں پیش کیا جاتا اور پھر جو فیصلہ یا سفارشات ہوتیں ان کی روشنی میں کارروائی کی جاتی۔ مسلم لیگ (ن) خصوصاً محمد نوازشریف کے بیانیہ والے بھی تحمل کا مظاہرہ کریں سیاسی دانش مندی اور عدالتوں میں دفاع بیک وقت کریں۔

تحریک سے اجتناب اچھا ہو گا کہ وقت کا دھارا ان کی طرف نہیں، سیاسی بھائی چارہ اور جمہوری طرز عمل ہی ملکی بقاء، سلامتی اور ترقی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ شرمناک ویڈیو والے کا عمل 62-63 کی زد میں ہے لیکن وہ مدعی، دعویٰ ہے کہ بلیک میل کیا گیا۔ پھر یہ بھی کہ ”میں بلیک میل نہیں ہوا“ تو حضور آپ جاتی امراء اور مکہ و مدینہ میں ملاقاتیں کیوں کرتے رہے؟ یہ سوال تو ہو گا۔

مزید : رائے /کالم