ریکوڈیک سے آگے

ریکوڈیک سے آگے
 ریکوڈیک سے آگے

  



عالمی بنک کے ثالثی ٹریبونل نے ریکوڈیک مقدمہ میں پاکستان کو پانچ ارب90کروڑ ڈالر جرمانہ کر دیا ہے اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا ہے کہ یہ جرمانہ بلوچستان کے تین سال کے بجٹ کے مساوی ہے۔اس مقدمہ میں چونکہ بلوچستان حکومت بنیادی فریق رہی ہے،لہٰذا جرمانہ کی ادائیگی بھی بلوچستان حکومت ہی کو کرنا ہے، صرف ریکوڈک مقدمہ میں ہی پاکستان کو عالمی عدالتوں اور ٹریبونلز میں جرمانہ نہیں ہوا، بلکہ اس سے پیشتر بھی پاکستان سٹیل ملز اور بعض موبائل کمپنیوں کے ساتھ مقدمات میں پاکستان کو بھاری جرمانہ ہو چکا ہے۔

اس ساری صورتِ حال پر وزیراعظم عمران خان نے ایک تحقیقاتی ٹریبونل بنانے کا اعلان کیا ہے،جو1993ء سے اب تک کے تمام مراحل کا جائزہ لے گا اور ٹھیکہ کے حوالے سے ذمہ داروں کا تعین کرے گا۔یہ مقدمہ پاکستان کے وسائل کے حوالے سے مختلف حکومتوں کے طرزِ عمل کا ایک ٹھوس ثبوت مہیا کرتا ہے۔ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی بلوچستان کے معدنیات کے وسائل کے حوالے سے کسی کو کوئی غلط فہمی نہ تھی، خود برطانوی حکومت بھی اس صورتِ حال سے واقف تھی،لیکن وہ اپنے نو آبادیاتی مفادات کے حوالے سے بلوچستان کے سرداروں، قبائل اور غریب آبادی کو جدید زندگی سے دور رکھنا چاہتی تھی۔ برطانوی سامراج کو علم تھا کہ اگر بلوچستان میں معدنیات کی تلاش اور ذخائر پر کام شروع ہوا تو جگہ جگہ نئی شہری آبادیاں قائم ہوں گی۔

بلوچستان کے عوام ترقیاتی سکیموں کے سبب قبائلی اور جاگیردارانہ رشتوں سے نئی سماجی زندگی میں داخل ہوں گے۔ یہ علاقہ چونکہ بلوچ عوام کی آزادی پسند زندگی کا پہلے ہی مظہر تھا۔اِس لئے نئے صنعتی اور ترقیاتی عمل میں شہری حقوق سے آشنا ہو کر اپنے وسائل کے حوالے سے ملکیت کا شعور حاصل کر لے گا،لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ اسے پسماندہ ہی رکھا جائے۔برطانوی راج کے بعد پاکستان میں نئے حکمرانوں کی ریاستی انتظامیہ اسی نو آبادیاتی فکر کی حامل تھی، کیونکہ حکومت کی تبدیلی نے ریاست کی فکر میں کوئی تبدیلی پیدا نہ کی تھی،لہٰذا جونہی ملک آزاد ہوا، نئی حکومت کو اس ریاست نے بلوچوں کے خلاف صف آرا کر دیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

چاہئے تو یہ تھا کہ پاکستان بننے کے ساتھ ہی بلوچستان کو صوبہ کا درجہ دے کر وہاں کی منتخب حکومت قائم کی جاتی اور بلوچستان کے معدنی وسائل پر صوبہ اور مرکز ایک قابل عمل پالیسی تیار کرتے،لیکن مرکزی حکومت نے بلوچستان کی طرف معرکہ آرائی کا آغاز کر دیا، بار بار بلوچستان پر فوج کشی کی گی اور ملک میں جمہوریت کا رونا رونے والی پیپلزپارٹی بھی اس حوالے سے پیچھے نہ رہی۔ان حالات میں بلوچستان کے وسائل پر اور معدنیات کی تلاش اور ترقی کے لئے کس کے پاس وقت تھا، بلوچستان سے گیس نکلی تو لاہور میں پہلے اور کوئٹہ بعد میں گئی۔

ہر حکومت بلوچستان کے معدنیاتی وسائل پر خوب خوب تقریریں کرتی رہی،لیکن عملاً کچھ نہ کیا گیا۔

روس سمیت بعض غیر ملکی ماہرین اس صورتِ حال سے واقف تھے، ان کمپنیوں کو علم تھا کہ بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے یہاں سونا، تانبہ، گیس اور بعض اہم ترین دیگر معدنیات بھی موجود ہیں،لہٰذا غیر ملکی کمپنیوں نے بلوچستان میں سروے کئے اور1993ء میں بلوچستان کی حکومت نے ایک آسٹریلوی کمپنی کو بلوچستان کے تقریباً ساڑھے تینتس33.5 لاکھ ایکڑ پر واقعہ علاقے میں کھدائی کا ٹھیکہ دیا،اس کمپنی نے علاقے کے مستقبل میں دریافت ہونے والے سونے اور تانبے کے وسائل کو دیکھتے ہوئے ایک اطالوی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی سے معاہدہ کر لیا،جس کا مقصد حکومت کے علم میں لائے بغیر معدنیات کو بیرون ملک فروخت کرنا تھا اس پر بلوچستان حکومت اور کمپنی کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا، اور بعدازاں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے معاہدہ کو پاکستان کے مفادات کے منافی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا،

جس پر ٹیتھیان کمپنی نے عالمی بنک کی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کیا،جس کا فیصلہ پاکستان کے خلاف آیا ہے۔پاکستان کے حکمرانوں کو یہ علم ہونا چاہئے تھا کہ غیر ملکی کمپنیاں عالمی بنک اور آئی ایم ایف کی چھتری تلے چھوٹے ممالک کے وسائل کو لوٹتی ہیں۔دُنیا میں جہاں کہیں بھی تیسری دُنیا کے ممالک اور عالمی کمپنیوں کے درمیان مقدمات چلے، ہمیشہ تیسری دُنیا کے غریب ممالک کے خلاف ہی فیصلے آتے ہیں۔جب آسٹریلوی کمپنی نے بلوچستان میں اپنے ساتھ ٹیتھیان کو ملایا تو اِس کی اجازت کیوں دی گئی۔

اگر بلوچستان حکومت نے2010ء میں اس منصوبہ پر خود کام کرنے کا سوچا تو1993ء میں کیوں نہ ایسا سوچا گیا، اس مقدمہ پر حکومت ِ پاکستان نے تین ارب روپیہ غیرملکی وکلاء کو دیا۔ کیا یہ مقدمہ پاکستان کے وکلاء نہیں لڑ سکتے تھے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بعض عالمی مقدمات میں بیرسٹر ملک سعید حسن کو وکیل کیا تھا، سنا ہے انہوں نے فیس لینے سے انکار کر دیا تھا۔

اب ڈر یہ ہے کہ اسی کمپنی کو دوبارہ یہ ٹھیکہ دے دیا جائے گا اور اگر اب ایسا ہوا تو ملک کو چھ ارب ڈالر سے کئی گنا زیادہ اپنے وسائل سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ یہ مقدمہ صرف پاکستان کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کا مقدمہ ہی نہیں،بلکہ اُس سیاسی فکر کا دیوالیہ پن بھی ظاہر کرتا ہے،جس کے تحت ہم نے بلوچستان کو ایک مستحکم جمہوری نظام سے گزشتہ ستر برس سے محروم رکھا ہے اور ایک اہم بات یہ کہ آخر اس منصوبہ کی اجازت ایک غیر منتخب درآمد شدہ وزیراعظم معین قریشی ہی کے دور میں کیوں دی گئی؟

مزید : رائے /کالم