نواز شریف کے خلاف فیصلہ اور جج ارشد ملک

نواز شریف کے خلاف فیصلہ اور جج ارشد ملک
 نواز شریف کے خلاف فیصلہ اور جج ارشد ملک

  



نتیجہ کچھ ہی نکلے، مریم نواز نے بھونچال تو پیدا کر دیا ہے۔سپریم کورٹ اور حکومت دونوں ہی اس مریم نواز کی جانب سے جاری کردہ وڈیو کے بارے میں غور کر نے میں مضروف ہیں۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اس وڈیو کا اہم کردار ہیں۔ جج کو فی الحال تو ان کے عہدے سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ ویسے بھی انہیں اس مر حلے پر جس کا انکشاف انہوں نے اپنے ایک بیان میں کیا، اس وقت ہی اپنے عہدے سے علیحدہ ہوجانا چاہئے تھا تاکہ مقدمہ اور اس کا فیصلہ متنازعہ نہیں ہو پاتا،لیکن بقول ان کے انہیں ایک ایسی وڈیو دکھا ئی گئی، جس کے بعد انسان کو خود کشی کر لینا چاہئے تھی،انہوں نے خود کشی کرنے سے تو احتراز برتا، لیکن اپنے فیصلہ کو متنازعہ بنا دیا۔

احتساب عدالتیں اہم ترین ذمہ داری ادا کر رہی ہیں اور جب جج ارشد ملک جیسے جج حضرات کسی بھی دباؤ کا شکار ہو کر فیصلہ صادر کرتے ہیں تو صرف متعلقہ مقدمہ کا فیصلہ ہی عدالتی نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کردیتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے کئی ایسے فیصلے ہیں، جنہیں تسلیم ہی نہیں کیا جاتا ہے۔ کبھی فیصلے نظریہئ ضرورت کے تحت دیئے جاتے ہیں، جس کا اعتراف خود جسٹس منیر مرحوم نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم نے تو بھٹو کے خلاف مقدمہ کے فیصلہ پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔

نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں چلنے والا مقدمہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ انہیں بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ احتساب عدالت کے فیصلہ کی وجہ سے وہ قید میں ہیں۔ جج ارشد کے مطابق جب فیصلہ ہی دباؤ میں دیا گیا ہے تو کیسی قید اور کیسی سزا ۔ سپریم کورٹ نے جب جج ارشد ملک کے خلاف کارروائی کی اسی موقع پر نواز شریف کے خلاف ٖفیصلہ کو معطل کیا جانا چاہئے تھا۔ ویسے بھی ابھی تو سپریم کورٹ کو فیصلہ کرنا ہے کہ مقدمہ کی دوبارہ سماعت کرائی جائے یا نہیں۔

جج ارشد ملک اور مریم نواز کو ابھی تو سپریم کورٹ کو جواب دینا ہے کہ وڈیو کس حد تک درست ہے اور جج ارشد ملک کا بیان کہ انہیں دباؤ میں لاکر فیصلہ کرایا گیا، کس حد تک سچائی پر مبنی ہے۔ وڈیو کی فرانزک تو یہ طے کر دے گی کہ وڈیو کی حقیقت کیا ہے۔ فرانزک ایک اہم عنصر ہے جو جج ارشد ملک کے تحفظات کی حقیقت بتا سکے گا۔ ارشد ملک کی ایک اور انتہائی معیوب اور غیر اخلاقی وڈیو بھی سوشل میڈیا پر لوگوں کو دیکھنے کو ملی ہے۔ وہ وڈیو تو اتنی افسوس ناک ہے کہ جج ارشد کو پاکستان ہی چھوڑ کر کہیں اور جا بسنا چاہئے۔

ان کی اولادیں ان پر اٹھنے والی انگلیوں کو کیوں کر اپنے سامنے سے ہٹا سکیں گے؟ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ارشد ملک نے کبھی اپنے اعلی افسران کو ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں آگا ہ کیا تھا؟ جب بقول ان کے ان پر ناصر بٹ اور ناصر جنجوعہ دباؤ ڈال رہے تھے کہ نواز شریف کے حق میں فیصلہ تحریر کریں تو کیا انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کو مطلع کیا تھا؟ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو ان کی بات پر یقین کیوں کیا جائے؟

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ قابل اعتراض وڈیو بنانے پر چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ارشد ملک نے ایف آئی آر میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز کے خلاف کارروائی کی درخواست کی اور کہا ان افراد نے ٹیمپرڈ وڈیو چلائی اور اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ارشد ملک نے شکایت میں مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماوئں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف، پرویز رشید اور عظمیٰ بخاری کے خلاف بھی کارروائی کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے مقد مہ درج کرنے کی درخواست میں کہا ہے کہ وہ 2000ء سے 2003ء کے درمیان ملتان میں بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات تھے، میاں طارق نے انہیں ورغلا کر نشہ آور چیز کھلائی اور ان کی خفیہ وڈیو بنالی،پھر اس میں ہیر پھیر کرکے غیر اخلاقی وڈیو میں تبدیل کیا، بعد میں وڈیو مسلم لیگ(ن) کے میاں رضا کو فروخت کردی۔ ارشد ملک کا موقف بھی خوب ہے کہ انہیں ورغلا کر نشہ آور چیز کھلائی گئی تھی، انہوں نے وڈیو کی بنیاد پر ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور مہر غلام جیلانی نے دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ نواز شریف کی مدد کریں اور ان کی مرضی کے الفاظ بولوں۔ ایف آئی اے نے اس مقدمہ کے اہم کردار میاں طارق کو تو حراست میں لے کر ان کا ریمانڈ بھی لے لیا ہے۔

عجیب افسوس ناک معاملہ ہے کہ جج ارشد ملک کو جب جج کی حیثیت سے پہلی بار بھرتی کیا جارہا تھا تو کیوں نہیں ان کی عادات اطوار اور کردار کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی تھیں۔ انگریز کے دور حکومت میں تو افسران کی بھرتی تو بڑی بات ہے، جانور کی خریداری بھی اس کی نسل جانچنے اور چھان پھٹک کر کی جاتی تھی۔ عدلیہ جیسے ادارے میں تو بہت ہی بلند کردار کے حامل بہادر، نڈر، ایماندار اور مخلص لوگوں کو بھرتی کیا جانا اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کے دئے گئے فیصلوں پر کوئی حرف نہیں آئے۔

پاکستان میں تو سب کچھ ہوتا رہا ہے۔ وہ کچھ بھی ہوا ہے،جس کی وجہ سے شرمندگی، افسوس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ جج ارشد ملک کے بیان کی حقیقت تو تحقیقات کرنے والے ہی طے کرسکیں گے، لیکن یہ سارا معاملہ پاکستانی عدلیہ کے لئے مذاق بن گیا ہے، کیونکہ اس مقدمہ کے اہم فریق اس ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف ہیں۔ نواز شریف ہوں یا آصف علی زرداری، بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بدعنوانیوں کے مقدمات کا سامنا ہے۔

دونوں سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی سماعت انتہائی حد تک شفاف ہونا چاہئے تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہیں ملے کہ فیصلہ تھونپا گیا ہے۔ جیسا کہ پیپلز پارٹی بھٹو کے خلاف مقدمہ کے بارے میں رائے رکھتی ہے۔جب فیصلہ کو متنازعہ بنانے کی آواز اٹھتی ہے تو حرف پیدا ہوجاتا ہے۔

مزید : رائے /کالم