اعلیٰ تعلیم میں حائل رکاوٹیں

اعلیٰ تعلیم میں حائل رکاوٹیں
 اعلیٰ تعلیم میں حائل رکاوٹیں

  



ڈاکٹر نظام الدین پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کی ضرورتوں اور اس سلسلے میں قومی سطح پر کئے جانے کے لئے ضروری اقدامات کا حقیقی احساس و شعور رکھنے والے ماہر تعلیم ہیں۔ انہوں نے مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے شعبہ تحقیق و تجزیہ کے اجلاس میں ”اعلیٰ تعلیم اور قومی ضرورتیں“ کے موضوع پر تفصیلی رو شنی ڈالی۔ ملک میں تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے افسوسناک حقائق بیان کرتے ہوئے انہوں نے ہر سطح پر تعلیم کی سمت درست کرنے کے لئے ملک میں ایک سنجیدہ ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کی دگرگوں صورتحال کی بناء پر ہم ہر شعبہ زندگی میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ تعلیم اور تربیت ہی ایسی طاقت ہے جس کی مدد سے ہم کسی بھی شعبے میں آگے بڑھ اور ترقی کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹرنظام نے ایم۔ ایس یونیورسٹی آف شکاگو، سے کیا اور پی، ایچ،ڈی، کی ڈگری یونیورسٹی آف مشی گن سے حاصل کی، اس وقت وہ یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب لاہور کے پرو ریکٹر ہیں۔ وہ 2006ء سے2014ء تک یونیورسٹی آف گجرات کے وائس چانسلر رہے۔ 2010ء سے2014ء تک گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے وائس چانسلر بھی تھے۔ اس سے قبل وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فارن فیکلتی پروفیسر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

انہوں نے بہت سی بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور اداروں میں کام کیا۔ امریکی یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا اور کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں تدریسی خدمات سرانجام دینے کے بعد اقوام متحدہ کی ملازمت کر لی۔ان کی کل پینتالیس سالہ سروس سے ان کے چوبیس سال اقوام متحدہ کی سروس میں گذرے۔اَن گنت قومی اور بین الاقوامی کانفرنسز آرگنائز کیں یا ان میں شرکت کی۔ پاکستان میں بھی تعلیم سے متعلق بہت سے اداروں کے سربراہ رہے۔

ڈاکٹر صاحب نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا بدقسمتی سے ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم کی منصوبہ بندی کرنے والے زیادہ تر لوگ اعلیٰ تعلیم کے متعلق واضح اور دوٹوک تصورات سے محروم ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے معاملات الجھے ہوئے اور بہت پیچیدہ ہیں۔ ہم اعلیٰ تعلیم کی کوئی تعریف کرنے میں بھی ناکام ہیں۔ ہم سیکنڈری سکول کا امتحان پاس کرنے والوں کو دوسا ل بعد بی اے کی ڈگری دیتے ہیں جسے اعلیٰ تعلیم سمجھا جاتا ہے، جبکہ مغربی دنیا میں سیکنڈری سکول کے بعد چارسالہ تعلیم یعنی کل سولہ سال کی تعلیم کے بعد گریجوایشن کی ڈگری ملتی ہے۔

ہم ہائر ایجوکیشن میں اسکول کے انٹرمیڈیٹ پروگرام کو بھی شامل کرلیتے ہیں۔ ہمارے کالجوں کی صورتحال بھی عجیب ہے۔ بعض کالجوں میں ہائر سکینڈری ایجوکیشن بھی ہے، بعض کالج ہائر سیکنڈری کے بعد دوسال کی گریجوایشن بھی کراتے ہیں اوربعض کالجوں میں پوسٹ گریجوایشن بھی کرائی جاتی ہے۔ ہماری ڈگر ی مارکیٹ کی ضرورتیں پوری کرنے والی ڈگری ہونی چاہئے۔ ہمیں انجینئرز کی کم اور Technicians (ٹیکنکل ورکرز) کی زیادہ ضرورت ہے۔مارکیٹ میں ہمارے ٹیکنیکل اداروں کے ڈپلومہ کی بھی کوئی قدر نہیں۔

مڈل ایسٹ میں ہمارے بیس لاکھ تربیت یافتہ افراد کی ضرورت تھی، لیکن ہم ان کی یہ ضرورت پوری نہیں کر سکے۔ ہمیں ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے لئے ایک طرف ملکی مارکیٹ میں نوکریوں کی ضرورت کو دیکھنا ہو گا اور دوسری طرف عالمی مارکیٹ کو بھی نظر میں رکھنا ہو گا۔ مناسب تربیت کے ساتھ ہمارے پیرا میڈیکل سٹاف کی مڈل ایسٹ سے لے کر امریکہ تک میں ڈیمانڈ ہے۔ خود ملک کے اندر نرسنگ سٹاف کی بہت ضرورت ہے ایک ڈاکٹر کے ساتھ کم از کم چار نرسوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اکثر صورتوں میں چار ڈاکٹروں کے ساتھ ایک نرس ملتی ہے۔

ملک میں کئی مواقع پر وفاقی اور صوبائی سطح پر تجاویز پیش کرنے کے لئے ایجوکیشن کمیشن بنتے رہے، پھر ہائیر ایجوکیشن کمیشن قائم ہوئے،ملک میں بہت سے تعلیمی پروگرام شروع کرنے کے بعد بھی بہت سے دوسرے منصوبوں کی طرح ادھورے چھوڑ دئیے گئے۔اس طرح کی کنفیوژن اور بے دلی سے اوپر والوں کو چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ ہائر ایجوکیشن کے سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر نچلی سطح پر سکول اور کالج میں تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہوگا تو پھر یونیورسٹی والے غیر معیاری سکولوں اور کالجوں سے آنے والے سٹوڈنٹس کا کیا کرسکتے ہیں؟

اس وقت صوبوں میں مختلف قسم اور مختلف سطح کی تعلیم کے الگ الگ سیکرٹری ہیں اور ان کے درمیان مناسب تعاون نہیں ہے۔ہائر سیکنڈری سکولوں میں اساتذہ کافی تعداد میں موجود ہیں، لیکن طلبہ و طالبات وہاں پڑھنے کے بجائے کالج میں داخلے کو ترجیح دیتے ہیں۔اسی طرح کالجوں میں گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کا انتظام موجود ہے، لیکن وہاں کے طلبہ اب انٹرمیڈیٹ کے بعد یونیورسٹی کے بی ایس پروگرام میں داخلہ لینا پسند کرتے ہیں۔ بہت سے دیہی علاقوں میں بچوں کو کہیں زیادہ فاصلہ طے کرکے سکولوں میں پڑھنے کے لئے جانا پڑتا ہے۔

کئی جگہ سکول ہیں مگر بچے نہیں ہیں،اور بچوں کو سکول تک لے جانے اور لانے کے لئے بسوں کا انتظام نہیں۔جب تک پڑھنے والوں کے نزدیک سکولوں کا انتظام نہیں ہوتا لازمی ابتدائی تعلیم نہیں ہو سکتی۔ دیہی علاقوں میں بہت سی مثالیں ایسی بھی ہیں کہ صرف ایک ہی ٹیچر سارے مضامین پڑھا رہا ہے اور ساری کلاسوں کو پڑھا رہا ہے۔ہمیں تعلیم میں سٹرکچرل تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ جب تک ہم تعلیم کو اکانومی بیسڈ نہیں بناتے، مارکیٹ ضرورتیں پوری نہیں کرتے اس وقت تک ہماراعلم نافع نہیں ہو سکتا۔

ہمارے ہاں نوجوانوں میں سکلز ڈویلپمنٹ کا مزاج نہیں، ہر نوجوان ڈگری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ڈپلومہ بھی نہیں لینا چاہتا۔ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ کالج کے رزلٹ میں ہر سال صرف تیس فیصد لوگ پاس ہوتے ہیں، ستر فیصد فیل ہوجانے والوں کے سلسلے میں اندازہ کیجئے کہ قوم کا کتنا وقت اور کتنا سرمایہ ضائع ہو گیا۔ ایسا سسٹم کس طرح برداشت کیا جاسکتا ہے، جس میں ناکام ہونے والوں کی اتنی بڑی تعداد ہو اور پاس ہونے والوں میں بھی بہت سے تھرڈ ڈویژن ہوں۔

کالج میں پڑھانے والے لیکچرار ایک گھنٹے کے لئے ہی کالج میں آتے ہیں اس کے بعد ان کے پاس کالج میں کرنے کے لئے کچھ کام نہیں ہوتا۔ کالج میں بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ بھی نہیں ہوتی۔اگر کالج میں کل ایک سو ستر اساتذہ ہیں تو سٹاف روم میں صرف بیس پچیس افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے۔ اب تعلیمی اداروں میں ہم نصابی سرگرمیاں بھی بہت کم ہوتی ہیں۔ پریکٹیکل کی سہولتیں کم ہیں۔ لائبریریاں ہیں تو ان کا استعمال بہت کم ہے۔ہمارے گھریلو حالات کے مطابق سمیسٹر سسٹم سازگار نہیں۔ سا لانہ امتحانی سسٹم کے مطابق طلبہ سال کے ایک دو مہینوں ہی میں پڑھنے کا مزاج رکھتے ہیں۔ ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیاری اور مارکیٹ ضرورتوں کے مطابق تحقیق نہیں ہورہی۔نوکری دینے والے ڈگری کو دیکھتے ہی نہیں وہ نوجوانوں کی شخصی Growth کو دیکھتے ہیں۔

Critical Thinking اور Analytial Skills کو دیکھتے ہیں۔ سوشل سائنسز میں تحقیق کے بغیر تعلیم کا تصور نہیں۔ آپ اس میدان میں معیاری کتب شائع نہیں کر رہے، تحقیق کے لئے آپ نے اپنے ٹیسٹ بھی ڈویلپ نہیں کئے۔ بزنس سکولوں میں تمام بڑے بزنس اداروں کی کامیابی اور ناکامی کی کیس سٹڈیز ہونی چاہئیں۔انجینئرنگ میں بھی آپ کے پاس کسی طرح کی اختراعات نہیں ہیں۔ جو تحقیق صنعتکار مانگتے ہیں وہ آپ انہیں نہیں دیتے۔ ہر کالج میں ایک پرنسپل اور کم از کم پچیس تیس ٹیچرز ہوتے ہیں۔

اکثر کالجوں میں ٹیچرز کے مقابلے میں طلبہ کی تعداد بہت کم ہے۔ پورے جی ٹی روڈ پر تمام کالجوں کو یک جا کر کے ایک دو کالجوں سے کام ہوسکتا ہے۔ ہمارے ہاں کالجز کی وافر بلڈنگس موجود ہیں اکثر خالی پڑی ہیں سب کچھ Restructure کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو Compete کرنے کی تربیت دینی ہے۔ زیادہ سے زیادہ کو بزنس کرانا اور Entrepreneur بنانا ہے۔انہیں ایسے سکلز دینے ہیں کہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بآسانی ملازمتیں حاصل کرسکیں۔

اس وقت ہم انہیں نہ ورلڈ مارکیٹ کے لئے تیار کررہے ہیں نہ اپنے ہاں ملازمتیں دے رہے ہیں۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لئے سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ سب کچھ ہمارے آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے ناگزیر ہے، ہم اس سلسلے میں جس قدر جلد سنجیدگی اختیار کرلیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔

مزید : رائے /کالم