کریسنٹ سکولز کی کامیابی میں ظہیر اے شیخ کا کردار  

  کریسنٹ سکولز کی کامیابی میں ظہیر اے شیخ کا کردار  
  کریسنٹ سکولز کی کامیابی میں ظہیر اے شیخ کا کردار  

  



1968ء میں لاہور کے نامور صنعت کاروں میاں مظہر کریم، میاں محمد رفیع، میاں خالد بشیر، میاں جاوید امین، میاں مسعود اقبال، میاں مقبول احمد نے جناب مجید نظامی، جسٹس یعقوب علی خان، ڈاکٹر مبشر حسن، شیخ منظور الٰہی کے ساتھ مل کر تعلیمی دُنیا میں انقلاب برپا کرنے قوم کے معماروں کے مستقبل کو نئے انداز میں علم و عمل کی روشنی سے روشناس کرانے کے لئے ایسا تعلیمی ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا،جو تعلیمی ضروریات بھی پوری کرے اور والدین پر بوجھ بھی نہ بنے۔1968ء میں کریسنٹ ملز کا بڑا نام تھا ان کی ایمانداری اور مسلسل جدوجہد کی مثال دی جاتی تھیں۔

کریسنٹ گروپ کے ڈائریکٹرز نے دانشور حضرات کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد ویسٹ پاکستان ایجوکیشن ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔ اسی ٹرسٹ کے زیر اہتمام بوائز اور گرلز سکولز قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔1968ء میں ہی قذافی سٹیڈیم کے قریب ایک عمارت کرائے پر لے کر کریسنٹ ماڈل سکول فار بوائز کی بنیاد رکھی گئی، اسی عمارت میں ویسٹ پاکستان ایجوکیشن ٹرسٹ کا دفتر قائم کیا گیا۔ایجوکیشن ٹرسٹ کے ابتدائی قواعد میں طے پایا کریسنٹ گروپ سے6جبکہ باہر سے3ٹرسٹی ہوں گے،9ممبران پر مشتمل ٹرسٹ ہو گا اور ایک سیکرٹری اور چیئرمین بھی انہی میں سے لیا جائے گا۔

ٹرسٹ ہر تین سال بعد ممبران میں سے ایک چیئرمین اور سیکرٹری کا اتفاق رائے سے چناؤ کرے گا۔ کریسنٹ سکولز قائم کرنے والی نامور شخصیات معاشرے کا بڑا سرمایہ تھیں ان کے خیالات اور اقدامات سے اس وقت کی حکومت متفق تھی،حکومت وقت نے ایجوکیشن ٹرسٹ کے قائم ہونے والے پہلے سکول کا نہ صرف خیر مقدم کیا،بلکہ انہیں درجنوں کنال زمین شہر کے وسط میں شادمان کالونی میں دینے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی اس کی تعمیر میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

1972ء میں ویسٹ پاکستان ایجوکیشن ٹرسٹ کا نام تبدیل کر کے کریسنٹ ایجوکیشن ٹرسٹ رکھ دیا گیا اور حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مفت زمین پر بوائز اور گرلز کیمپس میں تعلیمی سیشن کا آغاز ہو گیا۔

اسی سال کریسنٹ ایجوکیشن ٹرسٹ کے لئے مستقل سیکرٹری کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کے لئے ایسی نوجوان شخصیت کی تلاش شروع ہوئی،جو جواں جذبوں کا امین بھی ہو اور کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار بھی قرعہ کریسنٹ ملز گروپ کے روح رواں جنرل منیجر ظہیر اے شیخ کے نام نکلا جو کریسنٹ ملز میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہے تھے،اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت شخصیت کے بھی مالک تھے۔

کریسنٹ ملز ڈائریکٹرز نے تعلیمی انقلاب اور پاکستان کے مستقبل کے لئے اپنے ہر دِل عزیز جنرل منیجر کی قربانی دی اور اس طرح ظہیر اے شیخ 1972ء میں کریسنٹ ایجوکیشن ٹرسٹ کے سیکرٹری کی حیثیت سے ذمہ داری پر آ گئے۔ کریسنٹ ماڈل گرلز برانچ کی پرنسپل کی ذمہ داری مسز خان کو مل گئی اور بوائز برانچ کی ذمہ داری معین الدین شیخ کو مل گئی۔ کریسنٹ ایجوکیشن ٹرسٹ کے چیئرمین کا قرعہ میاں رفیع کے حق میں نکلا۔ نیک نیت ٹیم کی کاوشوں میں اللہ نے اتنی برکت ڈالی کہ کریسنٹ سکول لاہور منفرد حیثیت کا حامل ہوتا گیا۔

لاہور کے بعد پنجاب اور پھر پاکستان بھر میں کریسنٹ ماڈل شادمان کا ڈنکا بجنے لگا، والدین کی خواہش بننے لگی ہمارے بچے اس تعلیمی ادارے کا حصہ بنیں۔ظہیر اے شیخ نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے ایسے جوہر دکھائے، پاکستان میں سب سے کم فیس والا ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ تعلیمی ریکارڈ بنانے والا ادارہ بھی بن گیا۔ مجید نظامی،ڈاکٹر مبشر حسن، شیخ منظور الٰہی، جسٹس یعقوب علی خان، میاں رفیع، میاں مظہر کریم، میاں خالد شیخ، میاں جاوید امین، میاں مقبول احمد نے ٹرسٹی کی حیثیت سے میرٹ کو متعاف کرایا،داخلے کے لئے ٹیسٹ انٹرویو کا کرائی ٹیریا مقرر کیا۔

مسز خان نے گرلز برانچ میں بچیوں کو سادگی کے ساتھ کردار کی پختگی اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیار سے سرفراز کیا۔ معین الدین شیخ نے لڑکوں کے سکول میں جادو جگایا، ہر طرف کریسنٹ کا جادو چلنے لگا۔ کریسنٹ ماڈل سکول شادمان گرلز اور بوائز برانچر کی کامیابیوں کے پیچھے پرنسپلز ہیڈ ماسٹر کے ساتھ کریسنٹ ایجوکیشن ٹرسٹ کے سیکرٹری ظہیر اے شیخ کا کردار تھا جو ہر آنے والے دن میں سکولز کو آگے لے جا رہے تھے۔

1968ء سے1972ء اور 1972ء سے 2014ء تک اگر ریکارڈ اٹھایا جائے تو لاہور بورڈ میں شاید کوئی سال ایسا ہو جس میں کریسنٹ سکول کے بچے بچی نے پوزیشن نہ لی ہو اس کا سہرا مسز خان، شوکت سلطان، عبدالشکور جیسی علم دوست شخصیات کے سر ہے، جنہوں نے باتوں کی بچائے اپنے عمل سے ثابت کیا ہم منفرد کیسے ہیں۔ گرلز برانچ کی پہچان مسز خان کی سکول میں ڈیوٹی کے دوران اِس دُنیا سے رحلت بھی ایک علم دوست خاندان کی مثال تھی۔ مسز خان نے ابدی دُنیا سے تعلق جوڑنے تک اپنے سکول سے تعلق قائم رکھا۔2014ء تک ظہیر اے شیخ کی نگرانی میں ریکارڈ بنتے گئے۔ شوکت سلطان کے بعد شکور صاحب نے بوائز برانچ میں نئی جہت متعارف کرائی۔

جب کریسنٹ ملز بحران کا شکار ہوئیں اور کریسنٹ ملز کے نامور سپوت میاں خالد بشیر، میاں مسعود اقبال،میاں مظہر کریم، میاں محمد رفیع، میاں جاوید امین، میاں مقبول احمد کی نئی نسل کے ہاتھوں میں ملز کی باگ ڈور آنے کے بعد کریسنٹ گروپ بھی بحران کا شکار ہوا، نامور شخصیات کے جان نشین حضرات نے کریسنٹ ملز کے زوال کے اسباب تلاش کرنے کی بجائے کریسنٹ سکولز کا رُخ کر لیا، درجنوں کنال مفت سرکاری زمین پر قائم ٹرسٹی سکولز کو جدید انداز سے استوار کرنے کے نام پر ایسا انقلاب برپا کیا۔

1968ء اور1992ء سے سکول سے جڑے ہوئے پاکیزہ رشتوں کو خون سے نہلا دیا۔ کریسنٹ سکول کو پاکستان میں مخصوص پہچان دینے والی شخصیت ظہیر اے شیخ، شوکت سلطان،عبدالشکور سمیت درجنوں خواتین اساتذہ اور مرد ٹیچر سمیت بزرگ درجنوں چھوٹے سٹاف کو ڈاؤن سائزنگ کے نام پر گھر بھیج دیا۔ چارسال کی ظہیر اے شیخ کی تنہائی کی زندگی،بستر مرگ پر ساتھیوں کو یاد کرنا معمولی بات نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، موجودہ انتظامیہ کے لئے بھی بڑا چیلنج ہے۔

ظہیر اے شیخ اپنا60سالہ تعلق برقرار نہ رکھ سکے، عبدالشکور صاحب 40سالہ تعلق رکھنے پر مجبور ہیں، آج ان کے ساتھ یہ ہو رہا ہے، کل کو آپ کے ساتھ کوئی کرنے والا آ جائے گا،کہاں سال بھر خاندان کریسنٹ سکول کے داخلے اور ٹیسٹ کا انتظار کرتے تھے،کہاں سارا سال ہی لاکھوں کے اشتہار چل رہے ہیں۔2019ء لاہور بورڈ کے امتحان میں کریسنٹ سکول کی پہلی پوزیشن اورظہیر اے شیخ کی اِس دُنیا سے روانگی ایک ساتھ ہوئی ہیں، زندوں کے لئے ہدایت اور جانے والوں کے لئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کی دُعا کرتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم