صنفی بنیادوں پر جرائم انہتائی حساس، متاثرین ہماری خاص توجہ چاہتے ہیں: قائم مقام چیف جسٹس

صنفی بنیادوں پر جرائم انہتائی حساس، متاثرین ہماری خاص توجہ چاہتے ہیں: قائم ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے کہا ہے کہ صنفی بنیادوں پر جرائم کے مقدمات بہت حساس نوعیت کے ہوتے ہیں، ایسے جرائم کی کثیر تعداد ہماری عدالتوں تک آتی ہی نہیں، ہم نے لوگوں کو شعور دینا ہے کہ عدالتوں میں انہیں باسہولت انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جارہی ہے تاکہ ایسے مظالم کی شکار صنف کا اعتماد عدالتوں پر مزید مضبوط ہو،وہ گزشتہ روز پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں جینڈر بیسڈ وائیلنس قوانین کے حوالے تین روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔قائم مقام چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ترقی یافتہ ممالک میں رائج جدید قوانین کو اپنانا ہے، کیونکہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے بغیر کوئی معاشرہ بھی ترقی نہیں کرسکتا۔ جینڈر بیسڈ وائیلنس مقدمات میں کوئی مخصوص صنف نہیں آتی، ایسے وائیلنس کی شکار صنف کو ہماری خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے لئے پاکستان میں جینڈر بیسڈ وائیلنس کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں ورکشاپ ہماری ضلعی عدلیہ کے لئے موثر ثابت ہوگی اور شرکاء اس سے بھرپور استفادہ کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد خواتین یا مردوں میں سے کسی ایک کو غلط ثابت کرنا نہیں ہے اور ضروری نہیں کہ معاشرے میں خواتین ہی دوسری صنف کے ظلم کا شکار ہوں۔ جینڈر بیسڈ وائیلنس کو سمجھنے کے لئے کھلے ذہن سے سوچنا ہوگا۔ عدالت میں پیش ہونے والا جینڈر بیسڈ وائیلنس کا شکار کوئی بھی ہو وہ مظلوم ہے اور اس کے ساتھ انصاف کرنا ہمارا فرض ہے۔ اس لئے جینڈر بیسڈ وائیلنس مقدمات خصوصی اور حساس نوعیت کے ہوتے ہیں جن میں فیصلہ کرتے وقت جوڈیشل افسران کو جذباتیت کے عنصر کو ختم کرکے محض جینڈر بیسڈ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ جسٹس عالیہ نیلم نے جینڈر بیسڈ وائیلنس کی روک تھام کے لئے ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک کے کردار کو بھی سراہا۔اس موقع پر ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک کی نمائندہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے باعث اعزاز ہے کہ ہم جینڈر بیسڈ وائیلنس کے خاتمے کیلئے حکومت پاکستان کی معاونت کررہے ہیں۔

جس کے بہترین اور موثر نتائج حاصل ہورہے ہیں۔قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی نے افتتاحی تقریب میں شریک شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

اور ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور معاشرے میں جینڈر بیسڈ وائیلنس کے اثرات کے بارے میں بتایا۔افتتاحی سیشن میں قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مامون رشید شیخ، جسٹس عالیہ نیلم، ڈاکٹر رابرٹ لٹن، قائم مقام رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ اشترعباس، ڈائریکٹرجنرل پنجاب جوڈیشل اکیڈمی عبدالستار، جوڈیشل افسران، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے انسٹرکٹرز اور ایشیئن دویلپمنٹ بنک کے نمائندوں کے شرکت کی۔

مزید : علاقائی


loading...