ملک میں جوڈیشل مارشل لاء ہے،جاوید ہاشمی

  ملک میں جوڈیشل مارشل لاء ہے،جاوید ہاشمی

  



ملتان(آئی این پی) سینئرسیاستدان ومسلم لیگ ن کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک میں جوڈیشل مارشل لاء ہے، نیب کے یکطرفہ احتساب کا منہ زرو گھوڑا بے لگام ہوچکا ہے،یہ احتساب نہیں انتقام ہے،نیب کی سلیکٹڈ کاروائیوں کا مقصد مسلم لیگ ن کو ختم کرنا اور نئی پارٹی بنانا تھی۔ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ نیب نے اتنے لوگوں کو گرفتار کیا برآمد کچھ نہیں ہواگرفتاریاں کی ہیں تو کچھ برآمد بھی کریں تاکہ اس سے ملک میں مہنگائی میں کمی آئے۔انہوں نے کہا کہ نیب کے ادارے پر وہ ماضی میں جو سوال اٹھاتا رہے ہیں کہ یہ احتساب کا نہیں بلکہ انتقام کا ادارہ ہے،حالات وواقعات نے ان سب باتوں کی تصدیق کردی ہے۔آج مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے لوگوں کو بھی ویسے ہی ہراساں کیا جارہا ہے جیسے مشرف دور میں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں  ایسی پارٹی بنانا چاہتے تھے جو انکی ساری باتوں کو عملی جامہ پہنائے اس لئے مشرف کے ساتھ رہنے والی ساری قوتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہتا ہوں یہ تجربہ پہلے ہی ناکام ہوچکا باربار کیوں دہرا رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو ایک وعدہ معاف کے کہنے پر گرفتار کیا گیاایک نہیں اور کئی گرفتاریاں ہونگی۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو سیکنڈل کے حوالے سے جاوید ہاشمی کا کہناتھا کہ جج کی ویڈیو جس نے بھی بنائی اس میں جج موجود تو ہے جب شہباز شریف نے جج سے بات کی تھی تو جج بھی گیا تھا اور زرداری صاحب کی سزا بھی ختم ہوئی تھی۔اب جب ویڈیو پکڑی گئی جج کی پاور واپس لے لی گئی تو سب سے پہلے نواز شریف کی سزا ختم ہونی چاہیئے تھی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی شخص کی آزادی کو سلب نہ ہونے دے سپریم کورٹ کو نواز شریف کی سزا ختم کردینی چاہیے۔

جاوید ہاشمی

مزید : صفحہ اول


loading...