امریکی کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرار داد ناکام 

  امریکی کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرار داد ناکام 

  



واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی کانگریس میں گزشتہ شب صدرٹرمپ کے مواخذے کی تحریک کامیاب نہیں ہوئی جبکہ ایک دوسری قرارداد میں اٹارنی جنرل ولیم بر اور وزیر تجارت ولبرراس پر کانگریس کے سامنے پیش ہونے سے انکارپر مجرمانہ توہین کی فرد عائد کردی۔ صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک کو ڈیمو کریٹک ارکان نے اپنی سٹریٹجی کے تحت منظور کیا، حالانکہ ایوان نمائندگان میں ان کی اکثریت ہے۔ قرارداد کے حق میں 95ارکان نے ووٹ دیئے، جبکہ 332ارکان نے مخالفت میں ووٹ ڈالے۔ مواخذے کی تحریک صرف اس صورت میں موثر ہو سکتی ہے جب کانگریس  کے دونوں ایوان، ایوان نمائندگان اور سینیٹ اسے منظور کریں۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی 234 ارکان کے ساتھ اکثریت میں ہے جبکہ ری پبلکن کی تعداد 198 تھی جو ایک رکن کے پارٹی  چھوڑنے کے بعد اب 197 رہ گئی ہے۔ سو ارکان کی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے ارکان کی تعداد 53 جبکہ ڈیموکریٹس کی تعداد 45 ہے اور دو آزاد ارکان ہیں۔ ڈیموکریٹک سپیکر نینسی پلوسی صرف اسی صورت میں پوری سنجیدگی سے صدر ٹرمپ کے خلاف ایوان نمائندگان سے مواخذے کی تحریک منظور کرائیں گی۔ جب انہیں یقین ہوگا کہ سینیٹ کے کچھ ارکان بغاوت کرکے ان کا ساتھ دیں گے۔ بہرصورت دیگر وہ یہ قدم نہیں اٹھائیں گی کیونکہ ویسے بھی صدر ٹرمپ کی موجودہ مدت بھی تقریباً ڈیڑھ سال باقی رہ گئی ہے۔ دوسری قرارداد کے ذریعے  وائٹ ہاؤس پر گہری زد  پڑی ہے۔ اٹارنی جنرل ولیم بر اور وفاقی وزیر تجارت ولبر راس پر مجرمانہ توہین کی فرد عائد کرنا بہت بڑا اہم اقدام ہے جنہوں نے کانگریس کمیٹیوں کے سامنے طلب کرنے پر شہادت دینے سے انکار کر رکھا ہے۔ اگر قرارداد منظور ہونے کے بعد وہ اب بھی پیش نہیں ہوں گے تو کانگریس ان پر عدالت میں مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔ ایوان نمائندگان میں کل 234ڈیموکریٹک ارکان میں سے چار نے قرارداد کی حمایت نہیں کی۔

ٹرمپ مواخذہ

مزید : صفحہ اول


loading...