انتقامی کارروائی سے بچنے کیلئے کسی کے جوتے صاف نہیں کروں گی: مریم نواز

  انتقامی کارروائی سے بچنے کیلئے کسی کے جوتے صاف نہیں کروں گی: مریم نواز

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ انتقامی کارروائی سے بچنے کیلئے کسی کے جوتے صاف نہیں کروں گی، اگرعمران خان سلیکٹڈ نہیں تو انہیں اس لفظ سے کیا تکلیف ہے، حکومت کے ہاتھ سے اداروں کی بیساکھی ہٹائیں تو یہ منہ کے بل گرے گی، دنیا کے کسی بھی ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جہاں سیاسی عدم استحکام رہا اس ملک نے کبھی ترقی نہیں کی،میرا مقصد اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں بلکہ ملک میں قانون کی بالادستی، اور جمہوری اقدار کو مستحکم کرنا ہے، اگر میری ذاتی خواہشات ہوتیں تو میں جدوجہد کا راستہ اختیار نہ کرتی، آسان راستہ مجھے بھی آتا ہے،تین ماہ بے گناہی میں جیل کاٹی، وہاں کپڑے بھی دھوئے، چوہوں والا کھانا بھی کھایا، یہ بہت اچھا ہوا کہ جیل میں میری ٹریننگ ہوئی جس سے مزید مضبوط ہوگئی ہوں، میں نے جس راستے کا انتخاب کیا اس کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے، مسلم لیگ (ن) ایک مردوں کی جماعت رہی ہے اور ایک خاتون کا لیڈر کے طور پر سامنے آنا آسان نہیں تھا، ایک جج نے جب یہ کہہ دیا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کیلئے ان پر دباؤ ہے اور وہ جج اب انصاف کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز  نے اپنی سیاسی جدوجہد، مستقبل کی حکمت عملی اور پاکستان کی سیاست میں غیر سیاسی قوتوں کے مبینہ کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اپنے والد کیلئے تو لڑوں گی مگر میں ہر پاکستانی کی جنگ بھی لڑ رہی ہوں اور یہ لڑائی قانون کی بالادستی، ووٹ کو عزت دلانے اور میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف بھی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگر میری ذاتی خواہشات ہوتیں تو میں جدوجہد کا راستہ اختیار نہ کرتی، آسان راستہ مجھے بھی آتا ہے اس میں آپ کو بس ہاتھ جوڑنے پڑتے ہیں، اس میں آپ کو جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں۔مریم نواز نے کہاکہ میرا مقصد اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں بلکہ ملک میں قانون کی بالادستی، اور جمہوری اقدار کو مستحکم کرنا ہے، آئین میں ہر ادارے کا کردار واضح ہے اور صرف عوام اور ان کے نمائندوں کی رائے مقدم ہے، اگر اس توازن کو زبردستی دبانے کی کوشش کی جائے گی تو صرف عدم توازن نہیں ہوگا بلکہ تباہی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں گزشتہ 70 برسوں سے جمہوریت کبھی بالواسطہ اور کبھی بلا واسطہ طور پر منقطع ہوتی رہی ہے اور جمہوری روایات کو ملک میں کبھی پنپنے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے سیاسی انتشار پیدا ہوتا ہے، دنیا کے کسی بھی ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جہاں سیاسی عدم استحکام رہا اس ملک نے کبھی ترقی نہیں کی۔ مریم نواز نے کہا کہ 2019 میں آمریت نہیں دیکھ رہی لیکن عمران خان دو ٹکے کے اقتدار کیلئے ہر جمہوری اقدار کو روندنے کو تیار ہیں اور سمجھتی ہوں کہ اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں۔ مریم نواز نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کیلئے سلیکٹڈ' لفظ کے استعمال سے متعلق سوال پرجواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ لفظ انہیں کیوں بْرا لگتا ہے اور پارلیمنٹ میں اس پر پابندی کیوں لگائی گئی، اگر آپ سلیکٹڈ نہیں ہیں تو آپ کو اس لفظ سے کیا تکلیف ہے، عمران خان کو جس طرح سلیکٹ کیا گیا اس کے تین مراحل ہیں، پہلے مرحلے میں الیکشن سے قبل اْن کے مخالفین کی پکڑ دھکڑ کی گئی، دوسرے مرحلے میں الیکشن کے روز نتائج کی تبدیلی اور تیسرے مرحلے میں پوسٹ ریگنگ کی گئی جو اب بھی مخالفین کو ہراساں کرنے کی صورت میں جاری ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات سے قبل چْن چْن کر مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سے رابطے کیے گئے اور انتخابات کے روز جب تک مطلوبہ نمبر حاصل نہیں کیے گئے اْس وقت تک انتخابی نتائج روکے گئے اس کے باوجود حکومت 4 ووٹوں پر کھڑی ہے۔ حکومت کے ہاتھ سے اداروں کی بیساکھی ہٹائیں تو یہ منہ کے بل گرے گی۔مریم نواز نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ انہوں نے مجھے جیل میں ڈالا جہاں تین مہینے کی بے گناہی میں جیل کاٹی، وہاں کپڑے بھی دھوئے، چوہوں والا کھانا بھی کھایا، یہ بہت اچھا ہوا کہ جیل میں میری ٹریننگ ہوئی جس سے مزید مضبوط ہوگئی ہوں۔مریم نواز نے کہا کہ میں نے جس راستے کا انتخاب کیا اس کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے، میرے خلاف ڈان لیکس بنی، اس میں کوئی لینا دینا نہیں تھا، پاناما لیکس بنی جس میں جیل بھی کاٹی اور اس دوران والدہ کا بھی انتقال ہوا۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج نے جب یہ کہہ دیا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کیلئے ان پر دباوَ ہے اور وہ جج اب انصاف کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ احتساب کا پورا فساد بنا کر جو وزرائے اعظم کے ساتھ کیا جاتا ہے یہ صرف نواز شریف کے ساتھ نہیں ہوا، بے نظیر اور ذوالفقار علی بھٹو بھی اس کی زد میں آئے، ان کی جنگ صرف نواز شریف تک محدود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایک مردوں کی جماعت رہی ہے اور ایک خاتون کا لیڈر کے طور پر سامنے آنا آسان نہیں تھا۔علاوہ ازیں ایک ٹویٹ میں مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے نام اپنے پیغام میں لکھا کہ آپ کے ووٹ سے منتخب ہونے والا ایک اور وزیراعظم گرفتار ہو گیا۔مریم نواز نے کہا  کہ جو عوام کے ووٹ سے آئے گا تو کیا یہی لاقانونیت، توہین اور ناانصافی اس کا مقدر بنے گی۔انہوں نے مز ید کہا پاکستانیو،آپ کا منتخب نمائندہ نیب جیسے بدنام زمانہ ادارے کی ایک فوٹو کاپی کی مار ہے۔

مریم نواز

لاہور (جنرل رپورٹر) مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف اور مریم نواز نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں ملاقات کی،جس میں سیاسی صورتحال سے آگاہ کیا۔اس موقع پرنواز شریف نے کہا کہ ویڈیو لیکس سے میری بے گناہی ثابت ہو گئی اور جلد فیصلہ ہو جائے گا کہ کس طرح من گھڑت کہانی بنا کر الزامات لگائے گئے۔ تفصیلات کے مطابق قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور مریم نواز نے گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔مریم نواز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت ضرور جاؤں گی، جس کے بعد نواز شریف نے مریم نواز سے کہا کہ میں بہت جلد عوام کے درمیان ہوں گے، ویڈیو لیکس سے میری بے گناہی ثابت ہو گئی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف اور مجھ پر جو نئے الزامات لگائے گئے ان میں کوئی صداقت نہیں، شہباز شریف کا لندن میں ڈیلی میل کی خبر پر عدالت جانا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد فیصلہ ہو جائے گا کہ کس طرح من گھڑت کہانی بنا کر الزامات لگائے گئے، کب تک بے گناہ کو جیل میں رکھیں گے، عوام کو سمجھ آ گئی ہے کہ مجھے جیل میں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

نوازشریف

مزید : صفحہ اول