کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی،13 ارب 59 کروڑڈالررہ گیا

  کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی،13 ارب 59 کروڑڈالررہ گیا

  



لاہور(نیوز رپورٹر)ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں جولائی سے جون 2019کے عرصے میں مزید 31.7فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔مرکزی بینک کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 ارب 58 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 19ارب 89کروڑ 70لاکھ ڈالر تھا،رواں سال کے جولائی سے جون کے عرصے کیلئے کر نٹ اکاونٹ خسارہ گزشتہ سال کے 6.3فیصد سے کم ہوکر جی ڈی پی کا 4.8 فیصد تک ہوگیا،واضح رہے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے خاتمے کی ایک وجہ بنا رہا جس نے بالاآخر حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس بیل آٹ پیکیج کیلئے جانے پر مجبور کر دیا۔دوسری جانب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اشیا کی برآمدات میں اصل میں 50 کروڑ ڈالر تک کمی ہوئی اور یہ مالی سال 2018کے 24ارب 76کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 24ارب 21کروڑ 70لاکھ ڈالر تک دیکھی گئی،گزشتہ سال کے 12.6فیصد ترقی کے مقابلے میں یہ برآمدات میں یہ 2.2تنزلی تھی، اس کے علاوہ ماہ جون میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں سامان کی برآمدات میں 20کروڑ ڈالر تک کمی ہوئی،ساتھ ہی درآمدی اشیا میں اس سے زیادہ تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی اور یہ 7.3فیصد یا 4ارب 15کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک کم ہوکر جولائی سے جون 2019تک 52ارب 43کروڑ 60لاکھ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ 56ارب 59کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی،سٹیٹ بینک کی حال ہی میں جاری ہونیوالی تیسری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق درآمدات میں کمی کا بڑا حصہ مشینری کی درآمدات ختم ہونے سے منسوب ہے کیونکہ سی پیک کا پہلا فیز ختم ہوگیا ہے،اس کے علاوہ خدمات کے شعبے میں تجارت کے توازن کے اعداد و شمار بھی اس میں ایک ارب 80 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی کمی ظاہر کرتے ہیں اور مجموعی طور پر درآمدات میں کمی سے یہ اس عرصے میں 11 ارب 35 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے 9 ارب 55 کروڑ ڈالر ہوگئی،تاہم ورکرز کی ترسیلات زر میں ایک ارب 92 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ جولائی سے جون 2019 کیلئے 21 ارب 84 کرور 20 لاکھ ڈالر تک رہی،علاوہ ازیں کیپیٹل اکانٹ ظاہر کرتا ہے ملک کے بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا جس کے باعث اس سال 12 ارب 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے خالصتا واجبات شامل ہوئے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ اعداد و شمار 8 ارب 85 کروڑ 50 لاکھ ڈالر پر تھے، ان واجبات میں سے مرکزی بینک کی جانب سے 5 ارب 49 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور مرکزی حکومت کی جانب سے 3 ارب 90 کروڑ 40 لاکھ ڈالر لیے گئے، اس کے علاوہ غیرمرتب شدہ واجبات 2 ارب ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہ جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 49 کرور 40 لاکھ ڈالر پر موجود تھے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ

مزید : صفحہ اول


loading...