چارعشروں میں ایک درجن سے زائد بھارتی جاسوس پاکستان میں پکڑے گئے 

چارعشروں میں ایک درجن سے زائد بھارتی جاسوس پاکستان میں پکڑے گئے 

  



پاکستان میں پچھلے چار عشروں میں ایک درجن سے زیادہ بھارتی جاسوسوں کو سزا ہوئی جن میں بعض کو موت کی سزا سنائی گئی ان میں سے کئی لوگ جیل میں ہی مر گئے۔ مارچ  2016 میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی خبر کے ہمراہ ایک ویڈیو بھی جاری ہوئی جس میں کلبھوشن نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے اور بلوچستان میں اس کی آمد کا مقصد ان بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات تھی جنھیں بھارت امداد مہیا کرتا ہے۔ کلبھوشن یادیو نے حسین مبارک پٹیل کا نام اختیار کر رکھاتھا اور بلوچستان میں ایران کی سرحد سے داخل ہوا تھا۔ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔کلبھوشن یادیو شاید پہلا ایسا بھارتی جاسوس تھا جو پنجاب سے باہر پکڑا گیا۔ ماضی میں اکثر بھارتی جاسوس پنجاب کے مختلف علاقوں سے گرفتار ہوئے اور ان کی اکثریت کا تعلق بھارتی پنجاب سے تھا۔سربجیت سنگھ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اگست 1990 میں گرفتار کیا تھا۔بھارت کا موقف تھا کہ نشے میں دھت ایک پنجابی کاشتکار کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا۔ پاکستان نے سربجیت سنگھ کے خلاف فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں دھماکوں کے الزامات میں مقدمہ چلایا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔فوجی حکمران پرویز مشرف کے اقتدار کے دوران جب بھارت اورپاکستان کے مابین جامع مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا تو اس وقت بھارت میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے سربجیت سنگھ کی رہائی کی مہم چلائی اور کئی بار ایسا لگا کہ حکومتِ پاکستان اس کو رہا کردے گی لیکن مذاکرات کی ناکامی کے بعد سربجیت سنگھ کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔سربجیت 2013 میں کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے ایک حملے میں زخمی ہو گیا اور جانبر نہ ہو سکا۔سربجیت سنگھ کی لاش کو بھارت کے حوالے کیا گیا اور بھارتی حکومت نے سربجیت سنگھ کی سرکاری اعزازات کے ساتھ آخری رسومات ادا کیں۔کشمیر سنگھ 1973 میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوا اور جب پاکستان کی جیلوں میں 35برس گزارنے کے بعد  اس کو 2008میں رہا کیا گیا تو بھارت میں اس کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔ پاکستان میں موجودگی کے دوران کشمیر سنگھ نے ہمیشہ خود کو بے قصور قرار دیا لیکن بھارتی سرزمین پر پہنچتے ہی اس نے اعتراف کیا کہ وہ جاسوسی کیلئے پاکستان گیا تھا۔رویندرا کوشک ایک ایسا بھارتی جاسوس تھا جو 25برس تک پاکستان میں رہا۔ رویندرا کوشک راجستھان میں پیدا ہوا۔ جب اسے بھارتی اداروں نے بھرتی کیا تو وہ ایک تھیٹر اداکار تھا۔ اردو زبان اور مذہب اسلام کے بارے میں خصوصی تعلیم کے بعد اس کو نبی احمد شاکر کے نام سے پاکستان بھیجا گیا۔ پاکستان جانے سے پہلے اس نے ختنے بھی کروا لیے تھے۔ وہ نہ صرف بہت کامیابی سے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ر ہا، بلکہ اس نے پاکستان میں شادی بھی کر لی اور اس کا بچہ بھی تھا۔کراچی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان فوج میں کلرک بھرتی ہوا اور پھر ترقی کرتے ہوئے کمیشنڈ افسر بن گیا اور پھر وہ ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچ گیا۔ رویندرا کوشک کی گرفتاری ایک اور بھارتی جاسوس کے پکڑے جانے پر عمل میں آئی جسے خصوصی طور پر میجر رویندرا کے ساتھ رابطے کیلئے بھیجا گیا تھا۔رویندرا کوشک کی گرفتاری کے بعد اس کو پاکستان کی مختلف جیلوں میں 16 برس تک رکھا گیا اور 2001ء میں اس کی موت جیل میں ہوئی۔  2004 میں لاہور میں گرفتار ہونے والے رام راج شائد واحد ایسا بھارتی جاسوس تھا جو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار ہوگیا۔ اس کو 6 برس قید کی سزا ہوئی اور جب وہ سزا کاٹ کر واپس بھارت پہنچا تو اس کو بھارتی اداروں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وہ پاکستان آنے سے پہلے18 برس تک بھارتی خفیہ ادروں میں کام کر چکا تھا۔سرجیت سنگھ نے 30 برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ سرجیت سنگھ کو 2012 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا اور وہ واپس وطن پہنچا تو کشمیر سنگھ کے برعکس اس کا کسی نے استقبال نہ کیا۔ سرجیت سنگھ دعوی کرتا رہا کہ وہ پاکستان میں را کا ایجنٹ بن کر گیا تھا لیکن کسی نے اس کی بات پر کان نہ دھرے۔سرجیت سنگھ نے اپنی رہائی کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے(بی بی سی) سے بات کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ گربخش رام کو 2006ء میں 19 دوسرے بھارتی قیدیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملی۔ گربخش رام پاکستان میں شوکت علی کے نام سے جانا جاتاتھا۔18برس  پاکستانی جیلوں میں رہا۔ گربخش رام کو 1990 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا جا رہا تھالیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق گربخش رام نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کو وہ سہولتیں دینے سے انکاری ہیں جو سربجیت سنگھ کے خاندان کو ملی ہیں۔اس نے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل سے بھی ملاقات کی لیکن اس کو سرکاری ملازمت نہ مل سکی۔ونود سانھی 1977ء میں پاکستان میں گرفتار ہوا اور 11 برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد اس کو1988میں رہائی ملی۔ 

بھارتی جاسو س

مزید : صفحہ اول


loading...