چیئر مین سینیٹ کا تحریک عدم اعتماد کی ریکوزیشن واپس لینے کا مشورہ، اپوزیشن کا انکار

  چیئر مین سینیٹ کا تحریک عدم اعتماد کی ریکوزیشن واپس لینے کا مشورہ، اپوزیشن ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کو ریکوزیشن واپس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریکوزیشن اجلاس تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے کیلئے نہیں بلایا جا سکتا، اپوزیشن ریکوزیشن میں کوئی قومی اہمیت کا مسئلہ بطور ایجنڈا شامل کرے ورنہ دوسری صورت میں اپوزیشن اپنی ریکوزیشن واپس لے لے، یاپھر اپنی تحریک عدم اعتماد کیلئے سینیٹ کے باقاعدہ اجلاس کا انتظار کرے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کو خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ اپوزیشن کی قرارداد پیش کرنے کی تحریک کا نوٹس تقسیم کر دیا گیا ہے اور سینیٹ سیکرٹریٹ نے اجلاس بلانے کیلئے وزارت پارلیمانی امور کو خط بھجوا دیا ہے۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کو ریکوزیشن واپس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریکوزیشن اجلاس تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے کیلئے نہیں بلایا جا سکتا۔ سابق چیئرمین سینیٹ کی فروری 2016کی رولنگ کے مطابق سینیٹ کا اجلاس تحریک کے تحت کسی مسئلے پر بحث کیلئے بلایا جا سکتا ہے، تاہم ریکوزیشن اجلاس کسی قرارداد کیلئے نہیں بلایا جا سکتا۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کی ریکوزیشن کے تحت ممبران چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پر صرف بحث کر سکیں گے۔ تاہم یہ اپوزیشن کا ارادہ نہیں لگتا۔چیئرمین سینیٹ نے مشورہ دیا کہ اپوزیشن ریکوزیشن سیشن میں بحث کیلئے کوئی قومی اہمیت کا مسئلہ بطور ایجنڈا شامل کرے ورنہ دوسری صورت میں اپوزیشن اپنی ریکوزیشن واپس لے لے، یا اپوزیشن اپنی تحریک عدم اعتماد کیلئے سینیٹ کے باقاعدہ اجلاس کا انتظار کرے۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد واپس لینے سے انکار کر دیا اور انکشاف کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کیلئے بعض اداروں اور لوگوں کی طرف سے دباؤ ڈالاجا رہا ہے، جو حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اس کے باوجود تمام لوگ متحد ہیں۔سینیٹر راجہ ظفرالحق،سینیٹر شیری رحمان،سینیٹر مشاہد اللہ خان اورسینیٹرمولانا عبدالغفور حیدری ودیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن سینیٹرز سیسہ پلائی دیوار بن گئے ہیں،تحریک عدم اعتماد  پیس ہونے کے بعدصادق سنجرانی کو خود ہی مستعفی ہوجانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی نمبر گیم مکمل ہے اوربیرون ملک موجود ارکان کو واپس بلا لیا گیا ہے لہٰذا ایسا نتیجہ دینگے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا حکومت گرانے کی ابتدا ہے۔قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس اپوزیشن لیڈرسینیٹر راجہ ظفرالحق کی زیر صدارت ہوا، جس میں مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی(ف)، نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے 54 سینیٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک پر غور کیا گیا، اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صارق سنجرانی کی جانب سے اپوزیشن کو لکھے گئے خط کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر اجلاس بلانے پر بھی غور کیا گیا۔علاوہ ازیں اپوزیشن کے چیئرمین سینیٹ کیلئے امیدوار میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں پر مکمل اعتماد ہے، اپوزیشن سینیٹرز میں کوئی ٹوٹ سکتا ہے نہ بک سکتا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت اگر ملک میں آئینی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے تو وہ خود وزیراعظم ہے، اپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنانے کے لئے ہارس ٹریڈنگ اور بلیک میلنگ کیا آئینی خلاف ورزی نہیں؟۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم! آپ کی شکل یا فوٹو پہ کوئی مرنے نہیں جارہا جو آپ کو ووٹ دے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم ہو، وزیراعلی ہو، وزیر دفاع یا کوئی اور، انہیں کسی طور پر ایسی بات زیب نہیں دیتی۔انہوں نے کہاکہ ہم خبردار کرتے ہیں کہ ہم کسی کو آئین کی خلاف ورزی نہیں کرنے دینگے۔

صادق سنجرانی/ اپوزیشن

مزید : صفحہ اول


loading...