شہر میں تھانوں کی تعداد 50سے زائد نہیں ہونی چاہیے، کراچی پولیس چیف 

شہر میں تھانوں کی تعداد 50سے زائد نہیں ہونی چاہیے، کراچی پولیس چیف 

  



کراچی(کرائم رپورٹر)ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے تین نئے ماڈل تھانوں کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں تھانوں کی تعداد 50سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ اچھے افسران کو بھاری نفری کے ساتھ تھانوں میں تعینات کیا جائے گا۔یہاں ہر کوئی ایس ایچ او لگنے کو تیار بیٹھا ہے لیکن اس میں اس کی اہلیت بھی ہونی چاہیے۔کراچی میں 10ہزار کے قریب جرائم پیشہ افراد کا گروہ ہے،جو اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث ہے۔اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔دنیا میں کرمنل جسٹس سسٹم چل رہا ہے اور ہمارا ہاں یہ کام نہیں کررہا۔پولیس میں کرپشن سے متعلق پالیسی واضح کردی ہے۔بدعنوان افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو  کلفٹن لائسنس برانچ سلیم واحدی آڈیٹوریم میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔کراچی پولیس چیف نے کہا کہ  شہر کے چھوٹے تھانوں کو بڑے میں تبدیل کررہے ہیں۔پولیس کی نفری کم ہوجاتی ہے اور ایس ایچ او کے پاس چند اہلکار رہ جاتے ہیں۔پندرہ بیس اہلکاروں سے ایس ایچ او کیا امن و امان قائم کرے گا۔ایک سو گیارہ تھانے بنادئے گئے تو ایک سو گیارہ ایس ایچ او بھی لگانے ہیں۔ہر کوئی ایس ایچ او لگنے کو تیار بیٹھا ہے لیکن افسر میں ایس ایچ او بننے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ایسے افسران ہوں جو عوام سمیت دیگر معاملات کو بہتر کریں۔ایک مرض کے علاج کی بجائے اوپر سے مرحم پٹی کردی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ میٹھادر، کھاردار اور بوٹ بیسن جیسے تھانوں کی حدودیں کم ہیں۔تین نئے ماڈل تھانے بنارہے ہیں،جہاں اچھے افسران کو بھاری نفری کے ساتھ تعینات کیا جائے گا۔تین تھانوں کو تین ضلعوں میں جلد شروع کریں گے۔اگر تجربہ کامیاب ہوا تو حکومت کو دکھائیں گے۔کراچی میں پینتالیس پچاس سے زائد تھانے نہیں ہونے چاہیں۔انہوں نے کہا کہ تھانوں کے ساتھ بہت اچھے کواٹرز بنے ہیں،جو اہلکار جس کوارٹر میں رہتا ہوگا اسکو اسی تھانے میں تعینات کررہے ہیں۔اللہ کرے ہمارے تجربے کامیاب ہوں۔ایس ایچ اوز کو اچھی نفری، رقم اور عزت ملے گی۔غلام نبی میمن نے کہا کہ تھانے کے انویسٹی گیشن حکام کو علیحدہ الاونس ملنا چاہئے۔تفتیشی حکام محنت کرتے ہیں، اس کا ان کو صلہ ملنا چاہیے۔آئی جی سندھ اور حکومت سندھ کو اس حوالے سے سفارش بھیجوں گا۔اے آئی جی کراچی نے کہا کہ کراچی میں مسئلہ یہ ہے کہ دس ہزار کے قریب کرمنلز کاگروہ ہے وہی وارداتیں کرتا  ہے۔دنیا میں کرمنل جسٹس سسٹم چل رہا اور ہمارا رکا ہوا ہے۔پچاس فیصد جو کرائم اسٹریٹ کرائم جیسا ہے اسکو بالکل نہیں چھوڑیں گے۔چیف جسٹس کل آرہے ان سے بھی اس سلسلے میں سفارش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایف آئی آر کروانا کرانا چاہتا ہے تو کراسکتا ہے اسکو روکا نہیں جائے گا۔ایف آئی آر سے اگر کرائم کا ریشو زیادہ دکھائی دیتا ہے تو بے شک دکھائی دے لیکن ایف آئی آردرج  ہوگی۔ایف آئی آر سے رجسٹریشن کی نمبر بڑھ جائے گی۔اگر اس کو یہ دکھایا جائے گا کہ کرائم بڑھ گیا تو یہ غلط ہوگا۔ہمارا فرض بنتا ہے کہ کیس رجسٹرڈ کرکہ اس پر تفتیش کی جائے۔ایک سوال کے جواب میں کراچی پولس چیف نے کہا کہ پولیس کرپشن سے متعلق پالیسی واضح کردی ہے۔کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف سینئر افسران فوری کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نمبر پلیٹس سے متعلق تشہیری مہم چلا رہے ہیں۔نمبر پلیٹس کا جعلی استعمال ہوتا ہے۔جرائم پیشہ افراد جعلی نمبر پلیٹس کا استعمال کرتے ہیں۔پولیس چیکنگ پر کوشش ہوگی کہ کیمرہ ہو تاکہ عوام کو شکایت نہ ہو۔سینئر پولیس افسران بھی خود چیکنگ پر موجود ہونگے۔کوشش کریں گے کہ عوام کو ساتھ ملائیں گے تاکہ اعتماد بحال ہو۔قانون چھوٹے بڑوں کے لئے برابر ہوگا۔ تھانوں کے تمام معاملات کو مزید آسان کریں گے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...