مریضوں میں اضافہ،شوکت خانم ہسپتال پشاور میں بیڈز کی تعداد بڑھا دی گئی

مریضوں میں اضافہ،شوکت خانم ہسپتال پشاور میں بیڈز کی تعداد بڑھا دی گئی

  



 لاہور(پ ر)شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر پشاور میں آنے والے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظرہسپتال کے ان پیشنٹ بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔اب بیڈز کی تعداد 20سے بڑھا کے 30بیڈز تک کر دی گئی ہے۔ اس اضافے کے ساتھ اب یہاں پہلے سے زیادہ کینسر کے مریضوں کو سہولیات پہنچائی جا سکیں گی۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹرپشاور عوامی خدمت کے تین سال کامیابی سے مکمل کر چکا ہے اوراس وقت تکمیل کے تیسرے فیزمیں داخل ہو چکاہے۔ واضح رہے کہ ہسپتال کے فیز ٹو کی تکمیل سے قبل ابتدائی طور پر آؤٹ پیشنٹ، ان پیشنٹ رومز، آئی سی یو، کمیوتھراپی، واک ان کلینک، ایمرجنسی اسسمنٹ روم پتھالوجی اور ریڈیالوجی کی سہولیات فراہم کی جارہی تھیں۔ ر یکارڈ مدت میں مکمل ہونے والے فیز ٹو کے تحت بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر شدہ دو سٹیٹ آف دی آرٹ لینئر ایکسیلیریٹر اور سی ٹی سمیولیٹر سے لیس ریڈی ایشن اونکالوجی ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا آ غاز کر دیا گیا ہے۔ جبکہ فیز ٹو کی تکمیل کے بعد فیز تھری کاآغاز بھی رواں سال کر دیا جائے گا جس کے تحت یہاں سرجری کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے آپریشن رومز تعمیر کیے جائیں گے۔ 

شوکت خانم کینسر ہسپتال سے ہزاروں کی تعداد میں صوبہ خیبرپختونخواہ، فاٹااور اس سے ملحقہ علاقوں سے لے کر افغانستان تک کے کینسر کے مریض مستفید ہورہے ہیں اور اس طرح انھیں لاہورجانے سے ہونے والی مالی اور دیگر مشکلات کا سامنا نہی کرنا پڑتا۔  شوکت خانم ہسپتال لاہور کی طرح یہاں بھی 75%سے زائد مریضوں کا علاج بلا معاوضہ کیا جا رہا ہے۔ یہ ہسپتال نہ صرف صوبہ خیبر پختونخواہ  کے کینسر کے مریضوں کیلئے امید کی ایک کرن ہے بلکہ پاکستان میں کینسر کے علاج کی دستیاب سہولتوں میں ایک مثبت اضافہ بھی ہے۔

مزید : کامرس