ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کیلئے اقدامات ضروری ہیں: کاشف اشفاق

  ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کیلئے اقدامات ضروری ہیں: کاشف اشفاق

  



لاہور(نیوز رپورٹر) پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ ملک میں تاجر برادری ٹیکس کی بنیاد میں وسعت، معیشت کو دستاویزی بنانے، ٹیکس چوروں کے خلاف کاروائی اور اقتصادی استحکام کے لئے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن اور فیصلوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ یہ بات انہوں نے پاکستان فرنیچر کونسل کے ہیڈ آفس میں فرنیچر تیار کرنے والے اداروں کے نمائندوں پر مشتمل 22 رکنی وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ میاں کاشف اشفاق جو فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں  نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان عظیم تر ملکی مفاد میں ٹیکس کی بنیاد میں وسعت کے لئے اقدامات کررہے ہیں جو قابل تعریف ہے۔ اس وقت 15 لاکھ ٹیکس دہندگان نے 22 کروڑ لوگوں کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ اس نظام کو منصفانہ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے اقدامات ضروری ہیں۔ مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لئے حکومت کے پاس ٹیکس کی شرح میں اضافہ یا ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ کے دو راستے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 4 ہزار ارب کے ٹیکسوں میں 60 فیصد ٹیکس بالواسطہ طریقے جبکہ 40 فیصد ٹیکس بلاواسطہ طریقے سے حاصل کئے گئے۔ براہ راست ٹیکسیشن میں ود ہولڈنگ اور دیگر ٹیکسز کی شرح 68 فیصد تھی جبکہ خالص ٹیکس کی شرح صرف 10 فیصد رہی ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ملکی مفاد میں تمام تاجر ٹیکسوں کی بروقت ادائیگی میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں کیونکہ مشکل لمحات میں صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنے والی قومیں دنیا میں زندہ رہتی ہیں اور ترقی  کا سفر طے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھارت میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس کی شرح 16  فیصد جبکہ پاکستان میں 11.2 فیصد ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے ٹیکس کی بنیاد میں وسعت کی بجائے ٹیکس کی شرح میں اضافے پر توجہ دی جس کی وجہ سے پٹرولیم اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوااور مہنگائی کی شرح بڑھی۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کی بہتری کے لئے سمگلنگ کے خاتمے کے لئے اقدامات ضروری ہیں۔ اس وقت ملکی مارکیٹ سمگل شدہ اشیاء سے بھری ہوئی ہے۔ بڑی بڑی مارکیٹوں میں سمگل شدہ اشیاء کی فروخت کے باوجود ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرائی جاتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قومی ذمہ داری میں ملکی تاجر برادری اپنا بھر پور کردار ادا کرے۔  انہوں نے کہا کہ حکومت کالے دھن کے حصول میں معاون قوانین کے خاتمے پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔ تاجر برادری ٹیکس دے رہی ہے  اور دینا چاہتی ہے تاہم اس کے لئے ٹیکس کے نظام میں آسانیاں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ عزت اور احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے بہترین اور پرکشش سہولیات و ترغیبات دی گئی ہیں جن سے بھرپور استفادہ کی ضرورت ہے۔ فیصل آباد انڈسٹریل سٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمیٹی کے تحت بھی سرمایہ کاروں کے لئے ترغیبات دی گئی ہیں۔ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اس میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس اقدام کو کامیاب بنانے کے لئے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

مزید : کامرس


loading...