وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے 36اضلاع کے لئے موبائل پولیس خدمت مرکز کا افتتاح کردیا !

وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے 36اضلاع کے لئے موبائل پولیس خدمت مرکز کا افتتاح ...

قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی، مظلوم کی دادرسی، ظالم کی سرکوبی اور شہریوں کی جان مال کی حفاظت حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومت کے پاس قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول پولیس اور انتظامیہ موجود ہیں۔ اگر ہم ترقی یافتہ ملکوں پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان ملکوں میں قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور اگرکوئی شخص کسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے بلاامتیاز و تفریق قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں طاقتور لوگ قانون سے ماورا نظر آتے ہیں اور وہ کتنا ہی بڑا جرم کر یں سزا سے بچ جاتے ہیں۔عام شہری پولیس کے نام سے خوف زدہ ہوجاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ عوام کا پولیس پر عدم اعتماد ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ملکوں میں پولیس اسٹیشن جائے پناہ اور امن کی علامت نظر آتے ہیں وہاں عوام کی محفوظ زندگی کا بڑا انحصار پولیس کی کارکردگی اور عوام کے پولیس پراعتماد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں ہمارے ہاں جو بھی حکومتیں آئیں انہوں نے پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کے نعرے تو بہت بلند کئے لیکن وہ صرف نعرے ہی ثابت ہوئے۔

پنجاب وطن عزیر کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے انقلابی اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ خاموشی سے اپناکام جاری رکھے ہوئے ہیں،وہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح بڑھکیں نہیں مارتے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور پولیس سے متعلق سہولیات کی ایک چھت تلے دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے خدمت مرکز کا افتتاح کیا ہے۔اب شہریوں کو کریکٹر سر ٹیفکیٹ ، ٹریفک لائسنس، ویری فیکیشن سرٹیفکیٹ، میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ اور ایف آئی آر سمیت 14اقسام کی پولیس سروسز طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔ یقیناً اس اقدام سے پولیس اور عوام میں اعتماد کی بحالی، امن و امان کے قیام اور لوگوں کی جان و مال کے حوالے سے اسے ایک بڑا انقلابی اقدام قرار دیاجاسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے گریٹر اقبال پارک مےں پنجاب کے 36اضلاع کےلئے موبائل پولیس خدمت مراکزکے پروگرام کا افتتاح کردےاہے۔وزیراعلیٰ نے پولیس خدمت مرکزکا دورہ کےا اور موبائل پولیس خدمت مراکز کا معائنہ بھی کیا۔ وزیراعلیٰ کو پولیس خدمت مراکز اور موبائل پولیس خدمت مراکز میں فراہم کی جانےوالی 14سروسز کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وزیراعلیٰ سردارعثمان بزدار نے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خدمت مراکز مےں آنے والے شہرےوں کو دستاوےزات کے حوالے سے بار بار چکرلگانے کی زحمت نہ دی جائے۔اسٹام پےپرز کی فراہمی خدمت مراکز پر ہونی چاہےے اوراس کےلئے بےنک آف پنجاب کے کاو¿نٹر خدمت مراکز مےں قائم کےے جائےں ۔ پولیس خدمت مراکز اور موبائل پولیس خدمت مراکزکے ذریعے ایف آئی آر کی کاپی اور دیگر خدمات کی بآسانی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے اور ان مراکز کے ذریعے شہریوں کو ان کی دہلیز پر سہولتیں مہیا ہو رہی ہیں۔ شہریوں کو ان کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی تحریک انصاف کی حکومت کا مشن ہے۔ پولیس خدمت مراکز کے ذریعے شہریوں کو سفر کی زحمت سے نجات ملی ہے اور ان مراکز کا قیام شہریوں کو ریلیف دینے کے لئے رجحان ساز اقدام ہے۔ پولیس خدمت مراکز اور موبائل پولیس خدمت مراکز کے ذریعے شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس اوردیگر خدمات کی فراہمی احسن اقدام ہے۔پولیس خدمت مراکز اور موبائل پولیس خدمت مراکز کا دائرہ کار مزید بڑھائیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 36 موبائل خدمت مرکز کا پراجیکٹ شروع کرتے ہوئے بے حد اطمینان محسوس کررہاہوں کےونکہ اب دور دراز اور دشوار گزار دیہات میں بسنے والے شہریوں کو پولیس سے متعلق خدمات ایک ہی جگہ پر بلکہ ان کی دہلیز پر میسر ہوں گی۔ پنجاب کے تمام اضلاع میں پولیس خدمت مراکز نہ صرف قائم ہو چکے ہیں بلکہ انتہائی کامیابی کے ساتھ عوام کو قابل قدر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ 2 سال کی قلیل مدت میں 27 لاکھ شہریوں کو سروس فراہم کرنا کامیابی کی ناقابل تردید دلیل ہے۔ عوامی خدمت کے اس سلسلے کو اب مزید تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔پولیس خدمت مراکز سے 6 ماہ کے قلیل عرصے میں تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ لوگ مستفید ہو چکے ہیں، جن میں ڈرائیونگ لائسنس، کریکٹر سرٹیفکیٹ، پولیس تصدیق اور میڈیکو لیگل سمیت 14 خدمات شامل ہیںاوربلاشبہ ےہ قابل تحسےن اقدام ہے۔

3 ماہ قبل ملتان اور بعدازاں رحیم یار خان میں پولیس موبائل خدمت مرکز کا افتتاح کیا تو میرے ذہن میں تھا کہ یہ ایک ایسی سہولت ہے جس کا دائرہ کار پنجاب کے تمام دشوار گزار علاقوں تک ہونا چاہیئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 36 پولیس موبائل خدمت مراکز کا افتتاح ہو گیاہے اور یہ مقام شکر ہے کےونکہ ہم نے عوام کی خدمت کے ایک اور وعدے کی تکمیل کی طرف قدم بڑھا دیا ہے اور پولیس خدمت مراکز کے قیام کا دائرہ کار بہت جلد تحصیل کی سطح پر بڑھا دیا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ پولیس خدمت مرکز کے قیام سے صرف شہریوں کو ہی سہولت حاصل نہیں ہوگی بلکہ پولیس ریکارڈ کے تحفظ اور ”پولیس سٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم“ یعنی PSRMS کے ذریعے محفوظ رسائی کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ اس خدمت مرکز میں ”کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم“ یعنی CRMS اور ”اینٹی وہیکل لیفٹنگ سسٹم“ بھی موجود ہے جس سے عوام ہی نہیں بلکہ پولیس کو بھی تفتیش میں مدد ملتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم نہ صرف جرائم پر قابو پانے کا ہدف حاصل کر سکتے ہیں بلکہ عوام کو سہولت بھی حاصل ہو گی اور روایتی و فرسودہ پولیس کلچر سے نجات ملے گی۔ اسی طرح پولیس خدمت مرکز میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کرایہ داروں کی رجسٹریشن کا نظام بھی کامیابی سے چلایا جا رہا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس خدمت مرکز کے ذریعے بچوں کی گمشدگی جیسے پیچیدہ اور تکلیف دہ مسئلے کے حل کی طرف بھی قدم بڑھایا گیا ہے اور ان مراکز میں خواتین پر تشدد جیسے سماجی مسئلے کے سدباب کے لئے قانونی معاونت فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انہوںنے کہا کہ پولیس موبائل خدمت مرکز کا پراجیکٹ ایک ماہ کے قلیل عرصے میں تصور سے حقیقت میں بدل گیااور میں اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے اور پس پردہ معاونت کرنے والے تمام افسران اور اہلکاروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم پنجاب کے کروڑوں عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی ابتدا کر رہے ہیں۔ وزےراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب پولیس نے انسداد تجاوزات مہم میں بھرپور کردار ادا کیا، پرائس کنٹرول، رمضان بازاروں، مساجد کی سکیورٹی اور جرائم کی روک تھام کی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھائی ہےں۔انہوںنے کہا کہ کچھ عرصہ قبل حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کے مزار کے قریب دہشت گردی کا قابل مذمت اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ مجھے اطمینان ہے کہ پولیس اور متعلقہ اداروں نے داتا دربار سانحہ کے ملزموں کوقانون کی گرفت مےں لانے کےلئے بھرپور کردار ادا کیا۔وزےراعلیٰ نے تقرےب مےں وزیراعظم ہاﺅسنگ سکیم میں پنجاب پولیس کے شہداءکے اہل خانہ کے لئے الگ کوٹہ مختص کرنے کا اعلان کےااورکہا کہ پنجاب پولیس کے شہداءکے اہل خانہ کی مالی معاونت کے کیسز کلیئر کرکے ان کا حق ان تک پہنچا دیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ نے واضح ہداےات دیں کہ آئندہ سے شہدائے پولیس کے خاندانوں کی مالی معاونت کے کیسوں کو 7 روز کے اندر کلیئر کےا جائے ۔وزےراعلیٰ نے 2008ءسے پنجاب پولیس کے منجمد ایف ڈی الاﺅنسز بڑھانے کے دیرینہ مطالبے کی منظوری کابھی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اگرچہ مشکل معاشی حالات سے گزر رہے ہیں لیکن اس کے باوجو دمیں یقین دلاتا ہوں کہ پنجاب پولیس کو ممکنہ حد تک درکار وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ پولیس کی ملازمت محض نوکری نہیں اور پولیس یونیفارم محض وردی نہیںبلکہ نشان امتیاز ہے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کروڑوں عوام کی خدمت اور حفاظت کے لئے منتخب کیا ہے۔ عوام کے جان و مال کی حفاظت کی فضیلت قرآن و سنت میں بھی بیان کی گئی ہے۔ اس منصب کی حرمت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے عہدے کی وجہ سے کسی سے کوئی زیادتی نہ ہو بلکہ آپ ظلم کرنےوالوں کے ہاتھ روکیں اور مظلوم کی اشک شوئی کریں۔

انسپکٹر جنرل پولیس عارف نواز بلوچ خدمت مراکز جیسے بڑے منصوبوں کی مدد سے عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اس کے پیچھے پنجاب پولیس کے فرض شناس اور بہادر افسران و اہلکاروں کی محنت اور قربانیاں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ پولیس خدمت مراکز کے قیام کے ساتھ ہی پنجاب پولیس نے کامیابی کا بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ہم نے پولیس خدمات کی فوری فراہمی یقینی بنانے کے لئے نہ صرف روایتی تھانہ کلچر تبدیل کر دیا ہے بلکہ کمیونٹی پولیسنگ کی بھی بنیاد رکھ دی ہے۔ خدمت مراکز کے قیام سے قبل باقاعدہ ریسرچ کی گئی تھی جس سے معلوم ہوا کہ 60فیصد شہری پولیس اسٹیشن مختلف ڈاکومنٹس کے حصول کے لئے آتے ہیں لیکن تھانوں میں لااینڈ آرڈر اور تفتیش کی مصروفیات کی وجہ سے انہیں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے بعد صوبہ بھر میں ملٹی نیشنل کمپنیز کی طرز پر ون ونڈو سروس کے تحت پولیس اسٹیشن کی عمارت سے باہر خدمت مراکز قائم کئے گئے جہاں 14اقسام کی پولیس سروسز طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔صوبہ کے تمام خدمت مراکز انٹی گریٹیڈ سسٹم کے تحت ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور آج پنجاب کا کوئی بھی شہری اپنے آبائی علاقے کا سفر کئے بغیر کسی بھی خدمت مرکز میں جاکر پولیس خدمات حاصل کرسکتا ہے۔ مثلاً اب لاہور میں ملازمت کرنے والے راجن پور کے شہری کو ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کے لئے اپنے آبائی علاقے جانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ لاہور کے کسی بھی خدمت مرکز سے یہ سہولیات حاصل کرسکتا ہے۔

مانیٹرنگ اور احتساب کے پیش نظر پولیس خدمت مرکز کو آئی جی پی کمپلینٹ سیل 8787سے بھی منسلک کیاگیا ہے تاکہ اگر کسی شہری کو سروسز کے حوالے سے کوئی شکایت ہو تو اس کی شکایت فوری طور پر سنٹرل پولیس آفس درج ہوجائے۔ اسی طرح موبائل خدمت ایپ کے ذریعے اب شہری خدمت مراکز جانے سے پہلے اپنی اپائنمنٹ بک کروا سکتے ہیں اور تمام مطلوبہ کاغذات کے متعلق بھی آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔ عوامی خدمت اور تبدیلی کا یہ سفر یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اب ہم ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے PKMگلوبل پورٹل بھی لانچ کیا جا رہا ہے جس کے بعد خدمت مرکز کی 6سہولیات بذریعہ ایمبیسی اورسیز پاکستانیوں کو بھی حاصل ہوسکیں گی۔ اللہ رب العزت کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے کہ اس نے پنجاب پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے مجھے یہ اعزاز بخشا کہ ہم 90سالہ فرسودہ نظام ختم کرکے عوام کی سہولیات کا ایک نیا نظام متعارف کروانے میں کامیاب رہے ہیںاور پنجاب پولیس نے اسی نظام کے تحت تمام ہسپتالوں میں خدمت کا ﺅنٹر قائم کر دیئے ہیں۔ اب MLCکے حصول کے لئے ڈاکٹ ہسپتالوں میں ہی جاری کیا جاتا ہے اور زخمی کو پولیس اسٹیشن لانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آج پنجاب پولیس نے ایک پورا نظام بدلا ہے اور یقینا یہ اس قدر آسان کام نہ تھا۔عوامی خدمت کے اس منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے صوبہ کے تمام اضلاع میں موبائل خدمت مراکز کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے۔ یہ موبائلز تمام یونین کونسلوں، بازاروں، کالجوں اور دوردراز کے دیہاتوں میں طے شدہ شیڈول کے مطابق شہریوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر پولیس سروسز فراہم کریں گی اور یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ منصوبہ پنجاب پولیس نے اپنے موجودہ وسائل سے ہی مکمل کیا ہے اور اس مقصد کے لئے حکومت سے کسی قسم کا اضافہ فنڈ نہیںلیاگیا۔پنجاب پولیس کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرتے ہوئے جدید کمیونٹی پولیسنگ کے اس سفر میں پنجاب پولیس کے تمام ملازمین کے لئے ہیلتھ کارڈ کا اجرا بہت ضروری ہے کیونکہ صحت مند فورس ہی بہترین نتائج حاصل کرسکتی ہے۔ پنجاب پولیس کے شہداءکی لازوال قربانیوں کو بھی کسی صورت فراموش نہیںکیاجاسکتا۔ان شہدا کے اہل خانہ کو پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے ہاﺅسنگ سوسائیٹیز کے پراجیکٹس میں رہائشی پلاٹ اور مکانات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے تو اس سے نہ صرف پولیس فورس کا مورال بلند ہوگا بلکہ شہدا کے اہل خانہ کو درپیش بڑی پریشانی کا بھی خاتمہ ہوسکے گا۔

پولیس کے حوالے سے اور عوام کے عمومی مسائل کے حل کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ نمائش کی بجائے عملی اقدامات پر زور دے رہے ہیں اور ان کے فیصلوں پر عمل درآمد ہی ان کی نظرمیں متعلقہ سرکاری حکام کی کارکردگی کا پیمانہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب بھر کے پسماندہ اور محروم علاقوں کو ایک ساتھ اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے اور اس تا¿ثر کو عام کیا ہے کہ وہ کسی ایک علاقے کے نہیں بلکہ پنجاب بھر کی ترقی کے علمبردار ہیں۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 2