”آپ کیا کہنا چاہتے ہیں “عدالت کے استفسار پر شاہد خاقان عباسی نے کیا جواب دیا ؟ جانئے

”آپ کیا کہنا چاہتے ہیں “عدالت کے استفسار پر شاہد خاقان عباسی نے کیا جواب دیا ...
”آپ کیا کہنا چاہتے ہیں “عدالت کے استفسار پر شاہد خاقان عباسی نے کیا جواب دیا ؟ جانئے

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )احتساب عدالت نمبر1کے جج محمدبشیرکی عدالت نے ایل این جی سکینڈل میں گرفتارسابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہدخاقان عباسی کو 13روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت پیش کیاگیا،اس موقع پرعدالتی استفسارپر شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ میں خودہی اپناوکیل ہوں، سماعت کے دووران نیب پراسیکیوٹرکی طرف سے عدالت کوگرفتاری کی وجوہات بتاتے ہوئے14روزہ ریمانڈکی استدعاکی گئی جس پر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ اگر نیب والے 90 دن کا جسمانی ریمانڈ مانگتے ہیں تو دے دیں، نیب والے خوش ہو جائیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے،نیب کی جانب سے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ سب بے بنیاد ہیں،مجھ پر سیاسی کیس بنایا جا رہا ہے ،اس پرعدالت نے کہاکہ قانون میں ایسا نہیں کہ اکٹھے 90 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا جائے،جس پرشاہدخاقان عباسی نے کہاکہ پھر جتنا مرضی دینا چاہتے ہیں دے دیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے تفتیشی سے پوچھا کہ مجھے بتایا جائے کیا الزامات ہیں؟جوکیس بتایاجارہاہے 2015میں نیب کراچی نے تفتیش کی تھی، اس وقت میں وزیرتھا اور2015میں کیس کوختم کردیاگیاتھا، وزیر اعظم اوروزیررہاہوں، الزامات کابھی نہیں بتایاجارہا،ایل این جی ٹھیکہ ملکی مفادمیں کیا تھا جوابھی تک موجودہے،اگرٹھیکہ درست نہ دیاگیاہوتاتوحکومت اسے منسوخ  کرچکی ہوتی۔

اس موقع پرسابق وزیراعظم کی طرف سے وکیل نے استدعاکی کہ فیملی کو ملنے دیا جائے،جس پرشاہد خاقان عباسی نے کہاکہ اگرنہ بھی اجازت دیں توکوئی مسلہ نہیں ہے،جس پر عدالت نے خونی رشتوں سے ملنے کی اجازت دے دی جبکہ اس موقع پروکلا کی ٹیم اور مریم اورنگزیب کی طرف سے ملنے کی اجازت کیلئے استدعابھی منظورکرلی گئی۔اس موقع پرعدالت نے تفتیشی کو وقت طے کرنیکی ہدایت کی جس پرشاہدخاقان عباسی نے کہاکہ ہم تو فارغ ہی ہیں جو مرضی وقت بتادیں جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ اس دوران وکیل نے کہاکہ مریم اورنگزیب کویہاں ایک مستقل سیٹ دیدی جائے کیونکہ اب یہاں ن لیگ کا ایک نمائندہ ہونا ضروری ہوگیاہے جس پروہاں موجودافرادکے قہقہے لگ گئے۔ بعدازاں عدالت نے سابق وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی کویکم اگست تک کے جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالہ کردیا۔اس موقع پرسابق وزیراعظم نے کہاکہ گھر کاکھاناکھانیکی اجازت بھی دے دی جائے میں بہت سادہ کھانا کھاتاہوں وہ بھی دن میں ایک مرتبہ جس پرعدالت کے جج محمد بشیرنے کہاکہ نیب والے بھی پرہیزی کھانا بنادیں گے۔

مزید : قومی