تبدیلی اورقربانی کی بھیڑیں

 تبدیلی اورقربانی کی بھیڑیں
 تبدیلی اورقربانی کی بھیڑیں

  



پڑوس میں رہنے والے انکل پانچ وقت کے نمازی اورشریف آدمی ہیں،جب بھی انہیں دیکھاپانی سے ترداڑھی میں انگلیاں پھیرتے یاتووہ مسجدجارہے ہوتے ہیں یاپھرسرکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے مسجدسے نکل رہے ہوتے ہیں لیکن حکومت سے وہ بھی نالاں ہیں،انہیں انتظارہے کہ تبدیلی آنی تھی، پتہ نہیں ابھی تک آئی کیوں نہیں؟اتنی لیٹ؟۔۔بندہ پوچھے کہ انکل جی یہ تبدیلی ہے یاپھرکوئی بس ہے جس کااتنابے صبری سے انتظارکررہےہیں؟

درحقیقت یہ بے چینی صرف میرے پڑوسی انکل کی ہی نہیں ، مجموعی طورپرپوری قوم کسی ریل گاڑی کے انتظار کی طرح تبدیلی کی منتظر ہے،شاید انہیں لگتاہے کہ کسی تھری ڈی فلم کی طرح ایک طرف سے تبدیلی کاسورج طلوع ہوگا اوراس کی روشنی جس جس چیز پرپڑتی جائے گااس کارنگ بدل جائے گا، عمارتیں ، گھر، سڑکیں،درخت،پھول پودے اورپہاڑ۔۔سب کچھ تبدیلی کے رنگ میں رنگین ہوجائے گا۔کسی شخص کواگرتبدیلی کی سمجھ نہ آرہی ہوتوپھرآپ اسے مثال دے سکتے ہیں لیکن کہتے ہیں’’مثال حقیقت نہیں ہوتی‘‘مگرحقیقت تویہ ہے کہ تبدیلی کسی جادو کی چھڑی سے نہیں آنی جوایک شخص جسے آپ عمران خان بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ گھمائے گااورسب کچھ نئے رنگ میں بدل جائے گا،یہ عمل ہرایک کوخود سے شروع کرناہوگا۔

ایک معروف ویب سائٹ پرثنانقوی کابلاگ پڑھ کرمجھے بھی قوم سے وہی سوال کرنے چاہئیں کہ جوتوقعات قوم حکومت سے کررہی ہے،اس میں بطورفردہرکسی کوجوکرداراداکرناہے،اس میں وہ اب تک اپنا کتناحصہ ڈال چکے ہیں؟اگراس کاجائزہ لیاجائے توشاید کسی کے پاس بھی جواب نہ ہو،اگریہ صورتحال ہے توپھرصرف کسی دوسرے سے ہی کیاشکوہ کریں؟اگرہم بہت سی جگہوں پرخود غلط ہیں توپھرکس منہ سے سارا ملبہ دوسروں پرڈال سکتے ہیں؟ہمارے ہاں یہ سب سے بڑاالمیہ ہے کہ ہم کہیں خود جاکردیکھنے کی بجائے دورسے ہی ایک اندازہ لگالیتے ہیں کہ وہاں غلط ہورہاہے،یا صرف سنی سنائی بات کوہی اپنی رائے بناکراپناتبصرہ جھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

گزشتہ دنوں گاؤں سے ایک مریض کولاہورکے ایک ہسپتال لایاگیاتومجھے بھی فورا کال کی گئی کہ وہاں پہنچیں،میرے استفسارپرپتہ چلاکہ پہلے ہی دس بندے مریض کیساتھ ہیں تومیں نے سوال کیاکہ مریض کےساتھ گیارہ بندے پورے کرناکسی پیرصاحب نے تونہیں بتایاکہ اتنے لوگ ساتھ ہوں گے تومریض جلدصحتیاب ہوجائے گا،کہنے لگے کہ انجانے شہرمیں ڈاکٹرزآج کل بغیرسفارش علاج توکرتے نہیں،آپ آجائیں گے توعلاج فوری شروع ہوجائے گا،میں نے انہیں سمجھایاکہ آپ پرچی لے کرمریض ڈاکٹروں کے حوالے کردیں،ایک بندہ وارڈ کے باہرکھڑاہوجائے اورباقی واپس چلے جائیں یالان میں بیٹھ کراللہ اللہ کریں،مریض کو کچھ نہیں ہوگا۔اگرعلاج شروع نہ ہواتو مجھے کال کرلیناپھرمیں جوخدمت کرسکتاہوا،ضرور کروں گا۔پھرہوناکیاتھا،علاج شروع ہوااورمریض بغیرسفارش کے ہی صحت یاب ہوگیا،میں عیادت کے لیے گیاتومریض اوراہل خانہ کوسمجھایاکہ بھائی اپنے اندربھی تبدیلی لے آئیں کہ یہ ڈاکٹرآپ کے علاج کیلئے ہی ہسپتالوں میں ہوتے ہیں۔ہاں البتہ جہاں کہیں مسئلہ ہوتوبے شک کسی جان پہچان والے بندے سے بات کریں تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچ کردیکھاجائے کہ حققیقت میں بھی کسی کی غلطی ہے ،یاصرف شکایت کرنے والے کی غلط فہمی ہی ہے۔

بات پھر اپنے پڑوسی انکل کی کرتے ہیں توابھی ایک روزقبل ہی انہوں نے ہمارے گھرکے دروازے کے باہرقربانی پراللہ تعالیٰ کی رضاکیلئے خون بہانے کی خاطرتین عددبھیڑیں باندھ دی ہیں اوراس لمحے سے لے کرابھی تک وہ جتنافضلہ دروازے کے باہرکرچکی ہیں،گیٹ سے گزرناتوجیسے ہوتاہے وہ مجھے ہی پتہ ہے،پوری گلی سے گزرنابھی مشکل ہوچکاہے،اعتراض ان جانوروں سے نہیں،وہ تواللہ کے نام پرذبح ہوکرکسی کے پیٹ میں جانے کیلئے پیداہوئے اورپھربکتے بکاتے منڈی سے ہمارے پڑوسی کے ہتھے چڑھ گئے،اعتراض یہ ہے کہ جناب اگراللہ کی خوشنودی حاصل کرنی ہے توسب سے پہلے جوآدھاایمان صفائی ہے،اس کاتوخیال رکھیں۔آپ کو عمران خان کے ہاتھوں سے پورے ملک میں تو تبدیلی فوری چاہیے مگرتھوڑے سے اپنے ہاتھ ہلاکر گھرکے باہرایک گلی توآپ صاف کرنہیں سکتے پھرکس منہ سے حکمرانوں پرتنقیدکے نشترچلارہے ہیں؟۔یہ بات صرف ایک پڑوسی انکل یاایک گلی تک محدود نہیں،یہ رویہ مجموعی طورپراکثریت کاہے کہ لوگ دوسروں سے تبدیلی کے خواہش مندہیں مگراپنی ذات کی طرف دیکھناگوارہ نہیں کرتے،یہ قول وفعل کاتضادختم ہوگاتوہی تبدیلی کاسورج طلوع ہوگاورنہ اپنی اپنی ڈگرپرچلتے رہیں، کسی دوسرے سےبھی تبدیلی کی توقع مت رکھیں۔

 (بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، https://www.facebook.com/munazer.ali)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ