کورونا وائرس،بلوچستان سے ایسی خوشگوار خبر آ گئی کہ پاکستان کا ہر شہری سجدہ شکر بجا لائےگا

کورونا وائرس،بلوچستان سے ایسی خوشگوار خبر آ گئی کہ پاکستان کا ہر شہری سجدہ ...
کورونا وائرس،بلوچستان سے ایسی خوشگوار خبر آ گئی کہ پاکستان کا ہر شہری سجدہ شکر بجا لائےگا

  

کو ئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کے مریضوں کی شرح گزشتہ 2مہینوں کے دوران اپنی کم ترین سطح پر ہے، گزشتہ 5دنوں کے دوران بلوچستان کے20اضلاع میں کورونا کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے، شروع میں لوگ حکومتی ماہرین اور ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کرتے تو اس وقت ملک میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد نصف ہوتی،صوبے میں کو رونا وائرس سے متاثرہ کل 11ہزار 4سو کورونا کے مریضوں میں سے 8ہزار سے زائد صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے ہیں اس وقت 2ہزار 9سو 61 مریضوں میں سے 20ہسپتالوں میں زیر علا ج ہیں جبکہ با قی ہوم آئیسولیشن میں ہیں کو رونا کے باعث بلو چستان میں اب تک ایک سو 31اموات ہوچکی ہیں،عید الاضحی کے موقع پر مویشی منڈیوں ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے لئے اسپیشل مجسٹریٹس تعینات کئے گئے ہیں، عیدالضحیٰ کے بعد کیسز میں کمی آئی تو سکولز، شادی ہالز سمیت تمام معاملات زندگی کو ریلیکس کیا جاسکتا ہے، بلوچستان حکومت نے کوئٹہ کراچی خونی شاہراہ کی توسیع پر وفاقی حکومت کو قائل کیا۔

ایک انٹرویو کے دوران لیاقت شاہوانی نے کہا کہ کو رونا وبا ء کے شروع میں اگر لوگ حکومتی ماہرین اور ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرتے تو آج کورونا کے کیسز 2لاکھ 61ہزار نہیں بلکہ ایک لاکھ 30ہزار ہوتے۔ یہی صورتحال بلوچستان کی تھی بلوچستان میں ایک ماہ پورا ہونے کو ہے کہ کورونا کے کیسز میں کمی آنا شرو ع ہوگئی ہے جس پر میں نے بلوچستان خاص کر کوئٹہ کے عوام کو مبارکباد پیش کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ عوام اور تا جر برا دری نے ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا شروع کیا جو خوش آئند ہے پہلے صو بے میں رپورٹ ہو نے والے کل کیسز کے 84فیصد کو رونا کیسز صرف کوئٹہ میں رپورٹ ہوئے تھے اب کوئٹہ کے کیسز کی شرح76فیصد تک کم ہوچکی ہے اسی طرح دیگر اضلاع میں لوگوں نے ایس او پیز کا خیال رکھنا شروع کیا ہے جس سے صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5دنوں کے دوران بلوچستان کے20اضلاع میں کورونا کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے جبکہ 4اضلا ع میں صرف ایک ایک کیس رپورٹ ہوا اسی طرح دیگر 4اضلاع میں صرف دو دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اس کے علاوہ ضلع کوئٹہ میں گزشتہ 5دنوں کے دوران ایک سو 3کیسز سامنے آئے اس کے بعد خضدار میں 58، تربت میں 26، قلعہ سیف اللہ میں 10اور ضلع مستونگ میں 6کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ پورے بلوچستان میں کیسز میں کتنی کمی آچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت چاہتی ہے کہ عوام، تاجروں، دکانداروں ٹرانسپورٹرزکا کورونا کے ساتھ ساتھ معیشت چلتا رہے اسی لئے بلوچستان حکومت نے گزشتہ روز فوری طورپر مارکیٹ ٹائمنگ کو تبدیل کرکے صبح 9بجے سے شام 7بجے کی بجائے رات 10بجے کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تاکہ عوام، تاجر تنظیموں، دکانداروں، ٹرانسپورٹرز سمیت دیگر کوعید کے سیزن کے موقع پر سہولت میسر آسکے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ عید کے موقع پر کی گئی غفلت کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے، اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے تاجر تنظیموں نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کریں گے،اسی طرح اگر لوگ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنا کر پچھلے عید کے موقع پر کی گئی غفلت نہیں دہراتے اور کیسز میں کمی آتی ہے تو پھر سکولز، شادی ہالز، ریسٹورنٹس میں ڈائننگ کی سہولیت بحال کرنے سمیت جمنازیم، پارکس کے علاوہ تمامعاملات زندگی کو ریلیکس کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایس او پیز پر عمل درآمد پر زور اس لئے دے رہا ہوں کہ ہم نے خود اپنے پیاروں کو بیمار ہوتے دیکھا اور بعض کی اموات بھی کورونا کے مرض سے ہوئی اس تمام تر صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمیں ایس او پیز کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیسز میں کمی اچھی بات ہے مگر لوگوں کا کورونا ٹیسٹ کرانا بھی تشویش کی بات ہے گزشتہ مہینے کے مقابلے میں تقریباً 50فیصد ٹیسٹنگ کرانے میں کمی آئی ہے حالانکہ بلوچستان حکومت نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں مختلف جگہوں پر سینٹرز قائم کرکے لوگوں سے گزارش کی کہ مفت اپنا ٹیسٹ کرائیں،بھلے کورونا کیسز میں کمی آئی ہے مگر اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگ اپنے ٹیسٹ نہ کرائیں، 15سو ٹیسٹ فی دن ہم کراسکتے ہیں،کٹس موجود ہیں، 5لیبارٹریز صوبائی حکومت قائم  کرچکی ہے جبکہ ہم مزید بھی لیبارٹریاں قائم کررہے ہیں، لوگ ٹیسٹ نہیں کرائیں گے تو ہم کورونا کیسز کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

لیاقت شاہوانی نے کہا کہ رواں ماہ یعنی ایک سے 17جولائی کے دوران ہم نے 6ہزار 2سو 28کرائے ہیں جن میں سے 9سو 29مثبت رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ کل ٹیسٹ کرائے گئے ٹیسٹوں کے15فیصد ہیں۔ اسی طرح جون کے مہینے میں ایک سے 17جون کے دوران 15ہزار 3سو 49ٹیسٹ کرائے گئے تھے جن میں سے 4ہزار 2سو 71مثبت رپورٹ ہوئے تھے جو کہ 28فیصد ہیں۔ گزشتہ مہینے کے مقابلے میں کورونا کیسز میں تقریباً 50فیصد کمی آئی ہے اسی طرح شرح اموات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ مئی کے مہینے میں ایک مئی سے 17کے دوران ہم نے 7ہزار 8سو 7ٹیسٹ کئے جن میں 17سو کیسز پازیٹیو رپورٹ ہوئے تھے جو 22فیصد ہے۔ گزشتہ 2مہینوں کے دوران بلوچستان میں کورونا کیسزکی موجودہ شرح کم ترین ہے مگر اب بھی خدشہ ہے کہ اگرزیادہ ٹیسٹ زیادہ کرائے جا تے تو ممکن ہے کہ کیسز کی تعداد بھی بڑھ جا تی لیکن تناسب کے لحاظ سے کیسز میں واضح کمی آچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا مرض سے صحت یابی کی شرح میں پورے ملک کی نسبت بلوچستان میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، اوسط شرح جو بلوچستان میں 36سے 38فیصد ہوا کرتا تھا اب بڑھ کر 73فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ 11ہزار 4سو ٹوٹل کورونا کے کیسز جو سامنے آئے تھے میں سے 8ہزار 3سو 13مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے ہیں۔ اب تک ایک سو 31اموات واقع ہوچکی ہیں۔ اس وقت بلوچستان میں ٹوٹل 2ہزار 9سو 61مریض موجود ہیں جن میں سے صرف 20مریض ہسپتالوں میں ہیں باقی تمام ہوم آئسولیشنز میں ہیں جو کہ باعث خوشی ہے کیونکہ ایک ماہ پہلے عوام سمیت سب پریشان تھے کورونا کے باعث ایک عجیب سے کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ اب اس میں کمی آچکی ہے حکومت نے عوام سے تعاون کی اپیل کی اور عوام نے بھی تعاون کیا جس پر ہمیں خوشی ہےمگر عید الضحیٰ کے موقع پر مزید ایس او پیز پر عمل درآمد کی ضرورت ہے جس کی ہم عوام سے گزارش کرتے ہیں اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ لوگ عید سادگی سے منائے ایس او پیز کا خیال رکھے،کیسز کم ہوں گے تو خوشحالی کا دور شروع ہوگا آنے وقتوں میں ہم خود عید کو بہتر انداز سے منانے کا کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ مارکیٹ اور شاپنگ مالز کے علاوہ مویشی منڈیوں کا لوگ رخ کریں گے گوکہ ہم نے 10دن قبل ہم نے مطلع کیا تھا کہ بچوں اور بزرگوں کو مویشی منڈی نہیں جاسکیں گے اور شہری علاقوں میں کوئی بھی مویشی منڈی لگانے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ مویشی منڈیا رورل ایریاز میں ہوں گی جہاں ہم نےسپیشل مجسٹریٹس تعینات کئے ہیں جو ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ مویشی منڈی جاتے وقت ماسک ضرور پہنا کریں  چونکہ وہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے ساتھ ساتھ مٹی اور دھول بھی اڑتی رہتی ہے بلکہ مویشی منڈیوں میں جانوروں کو ہاتھ لگانے کے بعد اپنے ناک، منہ اور آنکھوں کو لگانے سے کورونا کے علاوہ کانگو وائرس پھیلنے کا بھی خدشہ ہے،حکومت بلوچستان میویشی منڈیوں میں سنیٹائزر کا بندوبست کرائے گی لوگ سنیٹائزر اور ماسک کا استعمال کریں تاکہ خود اور اپنے پیاروں کو کورونا اور کانگو وائرس سے بچاجاسکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت امیونٹی بوسٹنگ پیکیج شروع کررہی ہے اس وقت 2ہزار 9سو کے قریب لوگ جو ہوم آئسولیشن میں ہیں ان کی قوت مدافعت بوسٹ کرنے کے بعد کورونا سے صحت یابی کی 73فیصد شرح کو مزید بڑھ جائے گی اور بلوچستان انشاء اللہ ملک کا واحد صوبہ ہوگا جہاں کورونا کی کیسز میں واضح کمی نظر آئے گی بشرط کہ ایس او پیز کے خیال رکھا جائے۔

مزید :

کورونا وائرس -