نئے کورونا حملے کا شدید خطرہ

نئے کورونا حملے کا شدید خطرہ

  

ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کی بین الاقوامی فیڈریشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کورونا وائرس کا اگلا مرکز بن سکتے ہیں۔ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کورونا کا نیا ہاٹ سپاٹ ثابت ہو سکتا ہے اور یہاں ایک بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔بھارت دُنیا بھر میں کورونا کیسز کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ چکا ہے۔ یاد رہے کہ عالمی سطح پر کورونا سے اب تک 5لاکھ90ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اِس میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ 38 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اِس وائرس نے عالمی معیشت کو بھی شدید طور پر متاثر کیا ہے، اور آئی ایم ایف کے بقول صرف امریکی معیشت سال کی دوسری سہ ماہی میں 37فیصد تک سکڑ چکی ہے۔ خدشہ ہے کہ سالِ رواں کے دوران اسے6ء6فصد تک کا دھچکا لگ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی معیشت کی بحالی کو سب سے بڑا خطرہ کورونا کیسز دوبارہ بڑھنے سے ہے۔ اگر اسے نہ روکا گیا تو کھلتے ہوئے کاروبار دوبارہ بند کرنا پڑیں گے۔ امریکہ کے سر پر کالے بادل منڈلا رہے ہیں لیکن وہاں یہ بحث جاری ہے کہ شہریوں کو ماسک پہننے کا پابند بنایا جائے یا نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اِس حوالے سے باقاعدہ حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ان کے خیال میں یہ شہری آزادیوں میں مداخلت ہو گی،گویا لوگ رضا کارانہ طور پر جو اقدامات کرنا چاہتے ہیں کریں، ریاست کو اِس میں فریق بننے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ منطق بظاہر بڑی بھلی لگتی ہے لیکن اس کے اندر جھانک کر دیکھیں تو اس کا بودا پن واضح ہو جاتا ہے۔آزادی فکر و عمل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ”میری آزادی کی حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں آپ کی آزادی کی حد شروع ہوتی ہے“۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ماسک پہننا اِس لیے بھی ضروری ہے کہ اس طرح دوسروں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وائرس زدگی کے بعد کھلا پھر کر دوسروں کو بھی اس میں مبتلا کرنے کی کوشش کر ے۔بہرحال صدر ٹرمپ جانیں اور ان کے ووٹر، دونوں ایک دوسرے کو بھگت رہے ہیں،اور وہ ایک دوسرے کو نبٹ بھی لیں گے۔ہمیں اپنے معاملات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بار بار بھارت پر انگلی اٹھائی جا تی ہے کہ اس نے عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب حکمت ِ عملی اختیار نہیں کی۔ اپنی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا،اور لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالا۔ وہاں جس طرح لاک ڈاؤن کیا گیا، اور محنت کشوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے کوئی مہلت دیئے بغیر نقل و حرکت بند کر دی گئی، اور ہزاروں کیا لاکھوں افراد کو سینکڑوں میل کی مسافت پیدل طے کر کے اپنے آبائی علاقوں میں پہنچنا نصیب ہو ا۔ وہ بھونڈے پن کا عجیب و غریب مظاہرہ تھا راستے میں کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کئی حادثات کا شکار ہو گئے،اور کئی طرح طرح کی بیماریوں کے ہاتھوں عاجز آ گئے،اس حوالے سے بھارتی حکومت نے پورے بھارت کی انتہائی مضحکہ خیز تصویر دُنیا کو دکھائی۔ پاکستان میں حالات کہیں بہتر ہیں، اور یہاں ہونے والے سمارٹ لاک ڈاؤن کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ معیشت کا پہیہ بھی کسی نہ کسی طور چلتا رہا، اور لوگوں کی صحت کی حفاظت کے لیے بھی انتظامات کو بہتر بنایا گیا۔این سی او سی نامی ادارے کے تحت سول اور فوجی قیادت نے مربوط پروگرام بنا کر ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولتوں میں بے حد اضافہ کیا،چند ہی ماہ کے اندر اندر پاکستان اپنے وینٹی لیٹر بھی بنانے لگا۔ ماسک اور سینی ٹائزر تو برآمد بھی ہونے لگے۔ یقینا یہ پاکستانی قیادت اور قوم کی بڑی کامیابی تھی، لیکن عالمی اداروں کی طرف سے جو وارننگ جاری کی گئی ہے اس سے واضح ہو رہا ہے کہ کورونا سے نجات حاصل نہیں ہوتی۔اہل ِ پاکستان کو مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ رہنا چاہیے۔ خطرہ ان کے سر پر منڈلا رہا ہے۔بے احتیاطی اور بدنظمی وائرس کو واپس لا سکتی ہے، اور اس کی شدت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔عید ِ قربان اور اس کے بعد محرم الحرام کے اجتماعات پر نظر نہ رکھی گئی، انہیں قاعدے اور ضابطے کا پابند نہ بنایا گیا تو پھر پاکستانی قوم کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔حکومت علمائے کرام سے ”تعاون کی بھیک“ مانگ رہی ہے، اور وہ وعدہ بھی کر رہے ہیں،لیکن معاملہ اتنا نازک ہے کہ اسے کسی بھی ایک طبقے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔حکومت کو اپنی رٹ بھی جاری کرنا ہو گی،کسی رو رعایت اور اگر مگر کے بغیر اپنے احکامات نافذ کرنا ہوں گے۔ قواعد و ضوابط کی پابندی کے بغیر کسی بھی اجتماع کے انعقاد کو ناممکن بنانا ہو گا۔لمبی تان کر تو کیا چند لمحوں کے لیے بھی سونے کا وقت نہیں آیا۔جاگتے رہو، اور ان سب کو جگائے رکھو، جن کے ہاتھ میں اقتدار اور اختیار کی لگام ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -