جسے پیا چاہے؟

جسے پیا چاہے؟
جسے پیا چاہے؟

  

جنرل ضیاء الحق نے 1977ء جولائی میں اقتدار سنبھالا اور نوے روز کے اندر عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا، لیکن یہ بیل منڈے چڑھتی چڑھتی بھی آٹھ سال لے گئی اور عام انتخابات 1985ء میں ہوئے۔ یہ بھی غیر جماعتی کرائے گئے، ان کا اس وقت کی متحدہ اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا، لیکن مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی اور تحریک استقلال سمیت سیاسی جماعتیں اپنی اپنی جماعتوں کے اراکین کو حصہ لینے سے مکمل طور پر نہ روک سکے اور الیکٹ ایبلز یا خاندانی سیاست والے حضرات اپنے میں سے نئے چہروں کے ساتھ سامنے آ گئے۔ ان انتخابات تک ہر صوبے میں حکومتیں قائم اور وزراء موجود تھے۔ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف صوبائی وزیر خزانہ تھے۔ ایوب دور کے وزیر ملک اللہ یار خان اس کابینہ میں بھی شامل تھے اور چودھری عبدالغفور بھی صوبائی وزیر تھے، جبکہ مخدوم زادہ حسن محمود قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالے ہوئے تھے۔

ان دنوں الیکٹرونک میڈیا کا تو دور نہیں تھا، ہم پرنٹ میڈیا والے ہی بھاگے دوڑے پھرتے تھے، مقابلے کا رجحان ضرور تھا اور ہم اپنی اپنی ”خاص“ خبر کے لئے بھی سرگرداں رہتے، لیکن مسنگ سے بچنے اور زیادہ خبروں کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے تعاون بھی کرتے۔ ہمارے سید انور قدوائی اور سید فاروق احمد سے اچھے تعلقات تھے۔ ان میں محترم سجاد کرمانی بھی شامل ہو گئے اور یوں اکثر ہم چاروں کسی نہ کسی سیاسی شخصیت یا بیورو کریٹ کے پاس اکٹھے بھی ہو جاتے تھے۔ انور قدوائی اور میری بیٹ بڑی حد تک سانجھی تھی۔ چنانچہ ہم سیکرٹریٹ اور جناح ہال(میٹروپولٹین کارپوریشن) بھی آتے جاتے تھے۔ یاد ہے کہ حاجی اکرم صوبائی سیکرٹری تھے۔ ان کے ساتھ اچھے تعلقات بن گئے ہوئے تھے۔ چنانچہ ان کے دفتر میں گپ شپ ہو جاتی تو جناح ہال میں محترم میاں شجاع الرحمن (میئر) اور کونسلر حضرات سے دوستی تھی۔

انہی دنوں وفاق میں محمد خان جونیجو وزیراعظم ہوئے تو صوبوں میں بھی کابینہ کے قیام کا سلسلہ اور ساتھ ہی جوڑ توڑ شروع ہوا۔ محمد نوازشریف انتخابات میں بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ ایک روز سجاد کرمانی، مجھے ساتھ لے کران سے ملنے اتفاق انڈسٹریز کے دفتر پہنچ گئے، تب یہ دفتر ریڈیو سٹیشن اور پولیس لائنز کے درمیان تھا۔ محمد نوازشریف نے اپنی راوئتی مسکراہٹ کے ساتھ پرتپاک خیر مقدم کیا اور پھر ہمارے سوالات کا جواب دینے سے پہلے ہی ہم دونوں سے پوچھا کہ ان (نوازشریف) کو قومی اور صوبائی اسمبلی میں سے کون سی نشست اپنے پاس رکھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں میری رائے تھی کہ وہ قومی سیاست میں رہنا چاہتے ہیں تو قومی اسمبلی جائیں ان کو وفاق میں وزارت بھی مل جائے گی اور یوں وہ ملکی سطح پر متعارف ہو کر مستقبل کی سیاست کی اہم شخصیت بن جائیں گے۔ سابق وزیراعظم اپنے مزاج کے مطابق خود کم بولے اور ہم دونوں ہی سے سوالات کرتے رہے۔ یوں یہ نشست ایسے ہی مکمل ہوئی۔ خبر بھی نہ بن سکی کہ میزبان نے یہ بھی نہ بتایا کہ وہ کون سی نشست رکھیں گے۔ اسی دوران پنجاب کے لئے وزیراعلیٰ کی دوڑ شروع ہوئی اور کئی نام آنے لگے۔

یہاں سجاد کرمانی اور انور قدوائی کی تجویز پر ہماراایک چار رکنی گروپ بن گیا۔ اس میں سید فاروق احمد بھی تھے۔ یوں ہم چاروں وزیراعلیٰ ڈھونڈھنے لگے اور ساتھ ساتھ ہی ترغیب دے کر بھی خبر کی تلاش کرتے رہے، یوں ہماری ملاقاتیں شروع ہوئیں تو چودھری عبدالغفور، ملک اللہ یار اور مخدوم زادہ حسن محمود بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار بن گئے اور ایک دوڑ شروع ہو گئی۔ ہم بھی روز ہی ایک کے بعد دوسرے سے ملتے اور نئی خبر بنا لیتے۔ چودھری عبدالغفور تو جنرل ضیاء الحق کے قرابت دار بھی تھے، چنانچہ وہ اور ملک اللہ یار اپنے اپنے طور پر جنرل ضیاء الحق سے بھی ملتے رہے۔ مخدوم زادہ حسن محمود،پیر علی مردان شاہ، پیر آف پگارو کے حمائت یافتہ قرار پائے تھے۔ جب یہ میدان زیادہ ہی گرم ہو گیا تو جنرل ضیاء الحق نے گورنر، جنرل (ر) غلام جیلانی سے کہا کہ وہ فیصلہ کرائیں، چنانچہ انہوں نے اپنی حتمی رائے دینے سے قبل ضلع اور ڈویژن کی سطح پر اراکین صوبائی اسمبلی سے ملاقاتیں شروع کیں۔

ان دنوں ایسی ملاقاتوں کے حوالے سے ہمارے ہی کسی دوست نے یہ لطیفہ نما خبر چلائی کہ قرعہ فال محمد نوازشریف کے نام نکلے گا کہ جنرل جیلانی ان کی حمائت میں راہ ہموار کرتے ہیں کہ جب کوئی گروپ ان سے ملتا اور ازراہ تکریم پوچھتا ”مزاج شریف“ تو جنرل (ر) جیلانی جواب دیتے ”نوازشریف“ یوں یہ سلسلہ کئی روز چلا، ہم محنت کرتے اور خبریں لگاتے رہے کہ مقابلے کی فضا زیادہ گرم ہو لیکن پھر یہ سب دھرے کا دھرا رہ گیا اور قرعہ حقیقتاً محمد نوازشریف کے نام نکلا اور وہ وزیراعلیٰ بھی بن گئے اس سلسلے میں اپنے پروفیشن کے حوالے سے ایک عرض کروں کہ جب ہم چاروں کسی امیدوار سے کرید کرید کر امکانات کے حوالے سے پوچھ رہے ہوتے اور وہ ایک حد تک گفتگو کے بعد راز کی بات سے گریز کرتے تھے۔ مثلاً جب ہم نے چودھری عبدالغفور سے جنرل ضیاء الحق سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کو حتمی جواب کیا دیا گیا تو وہ بتا نہیں رہے تھے۔ اس پر سجاد کرمانی نے کہا”اچھا! آف دی ریکارڈ ہی بتا دیں، میں نے فوراً جواب دیا، جی! نہیں ہمارے لئے یہ پابندی نہیں ہوگی۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ آف دی ریکارڈ کا احترام تھا، ہم تو یہ نہ چھاپتے اور خبر کہیں اور پہنچ جاتی۔

بہرحال یہ سب عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمیشہ سے جسے پیا چاہے، وہی ”سہاگن“ ہوتی ہے اور مخالف جو چاہے کر لیں، ہوتا وہی ہے۔ جو ”پیا‘ کی مرضی ہو، آج کے حالات میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے، وفاق ہو یا صوبہ تبدیلی اپوزیشن کے مطالبے یا تحریک کی دھمکیوں پر نہیں ”پیا“ کی مرضی سے ہو گی۔ اور یہاں تو ایمپائر اور بیٹسمین ایک ہی صفحے پر ہیں، اللہ حافظ! بہت سے قابل احترام دوستوں اور احباب کا ذکر آیا ان میں سے اکثر اب اس دنیا میں نہیں، دعا ہے رب ان سب کی مغفرت فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -