ڈوبتا کراچی اور بلاول بھٹو کی لاپرواہی

ڈوبتا کراچی اور بلاول بھٹو کی لاپرواہی
ڈوبتا کراچی اور بلاول بھٹو کی لاپرواہی

  

مجھے تو لگتا ہے اب بلاول بھٹو زرداری کی سیاست کو سمجھنے کے لئے بھی پی ایچ ڈی کرنا پڑے گی۔ عین اس موقع پر جب کراچی کسی آفت کی زد میں ہوتا ہے بلاول بھٹو زرداری عمران خان پر تیر تفنگ کی بارش کر دیتے ہیں، حالانکہ ان کی توجہ خود اپنے گھر کی طرف ہونا چاہئے۔ جس دن کراچی بارش کی وجہ سے کئی کئی فٹ پانی میں ڈوبا ہوا تھا حتیٰ کہ جناح ہسپتال میں بھی پانی گھس گیا تھا، بلاول بھٹو زرداری بڑے مزے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ فرمان جاری کر رہے تھے کہ عمران خان ملک کی جان چھوڑ دیں ویسے وہ بہت پہلے یہ بیان جاری کر چکے ہیں کہ جب زیادہ بارش آتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔ اس لئے شاید انہیں اب دوبارہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کراچی ڈوبتا ہے تو ڈوبے، انہیں تو اپنی سیاست سے غرض ہے۔

ہر وقت ایک ہی راگ الاپنے سے بندہ خود بھی اکتا جاتا ہے، مگر شاباش ہے ہمارے اس نوجوان سیاستدان کو کہ بار بار یہ کہتے نہیں تھکتے کہ وفاق نے سندھ کو محروم رکھا ہوا ہے، حقوق مار رکھے ہیں اور انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں یہ سیاست بھی بڑی ظالمانہ شے ہے، اس میں آپ جتنا زیادہ جھوٹ بولیں گے اتنا ہی کامیاب کہلائیں گے۔ سندھ میں اس وقت گورننس کی جو حالت ہے، اس کی خبر گیری کرنے کی بجائے بلاول بھٹو زرداری اس فکر میں گھلے جا رہے ہیں کہ عمران خان ملک کا بیڑہ غرق کر رہا ہے۔ ارے بھائی اگر عمران خان ملک کا بیڑہ غرق کر رہا ہے تو کم از کم تم کراچی کو تو ڈوبنے سے بچا لو جہاں تمہاری برسوں سے حکومت قائم ہے۔ اسے تو ایک آئیڈیل شہر بنا دو کہ دیکھو ایسی ہوتی ہے حکومت جو حکمران کو عوامی خدمت کی تصویر بنا دیتی ہے۔

جب بلاول بھٹو زرداری کی برسوں پہلے آصف زرداری نے لاڑکانہ کے جلسے میں رونمائی کرائی تھی تو میں نے سب سے پہلے کالم لکھ کر اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ اب سیاست میں نئی روایات پڑیں گی ایک نوجوان نئی سیاست کو متعارف کرائے گا جو کرپشن، اقربا پروری اور بے جا ضد کی بجائے اصولوں اور سچائی پر استوار ہو گی، آگے چل کر یہ بھی کہا گیا کہ جب تک آصف زرداری کا سایہ سیاست بلاول بھٹو زرداری پر موجود ہے، وہ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکیں گے۔ پھر یہ وقت بھی آیا کہ آصف زرداری پس پردہ چلے گئے اور انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو آگے کر دیا، یہی وہ وقت تھا جب بلاول بھٹو زرداری کو ایک نئی اڑان بھرنی چاہئے تھی۔ اپنی پارٹی اور سندھ میں حکومت کی کارکردگی کو مثالی بنانے پر توجہ دینی چاہئے تھی۔ لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ آج بلاول بھٹو زرداری جو زبان استعمال کرتے ہیں، وہ کسی بڑے سیاسی رہنما کو زیب نہیں دیتی، پھر جب وہ ملک کے وزیر اعظم کے بارے میں غیر معیاری زبان استعمال کرتے ہیں تو اس لئے بھی حیرت ہوتی ہے کہ عمران خان عمر میں بلاول بھٹو زرداری کے والد کی عمر کے ہیں وہ اس پر بس نہیں کرتے بلکہ وزیر اعظم عمران خان کے مرحوم والد کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں حالانکہ وہ ان کے بارے میں کچھ جانتے تک نہیں۔ شاید پارٹی سینئر چہروں نے اپنے نوجوان قائد کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ جتنے زیادہ وزیر اعظم پر الزامات لگائیں گے اتنا ہی زیادہ ان کا سیاسی قد بڑھے گا۔ ہماری موروثی سیاست میں یہی تو سب سے بڑا المیہ ہے کہ بادشاہ کے بعد جب اس کا بیٹا پارٹی پر بادشاہ بن کر بیٹھتا ہے تو بڑے بڑے جفادری پارٹی رہنما اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جاتے ہیں کسی میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ سمجھائے کہ شہزادے اس طرح قد نہیں بڑھتا بلکہ ٹھٹہ مخول اڑنے کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کو پیپلزپارٹی کا کوئی رہنما یہ بتانے کی جرأت نہیں کرے گا کہ اگر پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پیپلزپارٹی نے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے تو اسے سندھ میں اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہو گی۔ سب بلاول بھٹو زرداری کی اسمبلی میں جوجوشیلی و الزاماتی تقریر پر تالیاں بجائیں گے یا پھر ان کی پریس کانفرنسوں کا دفاع کریں گے۔ ایک طرف جب یہ خبریں آتی ہیں کہ اندرون سندھ عوام کی حالت قابلِ رحم ہو چکی ہے، کراچی میں حالات کسی بڑی تباہی کا نقشہ پیش کر رہے ہیں حتیٰ کہ نالوں کی صفائی بھی نہیں ہوئی جہاں سے پانی نے گزرنا ہے، کبھی اربوں روپے کی گندم غائب ہونے کی خبریں آتی ہیں اور کبھی میگا کرپشن کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، کورونا وبا سے نمٹنے میں سب سے سبقت لے جانے والے آج کورونا کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور کیسوں نیز اموات کے لحاظ سے سندھ سب سے آگے جا رہا ہے،

اربوں روپے کی امداد کا حساب کتاب بھی کوئی دینے کو تیار نہیں البتہ یہ رونا ضرور رویا جا رہا ہے کہ وفاق کی طرف سے ہمیں امداد نہیں مل رہی ان سب باتوں کا جواب بلاول بھٹو زرداری کے پاس ایک ہی ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم نے ملک تباہ کر دیا ہے۔ سندھ میں تو بلاول بھٹو زرداری خود بے تاج بادشاہ ہیں، اسے تو ایک ترقی یافتہ صوبہ بنا دیں، تاکہ عوام یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ جو سلیکٹڈ تھا اس نے ملک کے ساتھ کیا کیا اور جو الیکٹڈ ہیں انہوں نے زمین پر بہشت کا سماں پیدا کر دیا۔ بلاول بھٹو زرداری اکثر عمران خان کو مناظرے کا چیلنج دیتے رہتے ہیں، حالانکہ عمران خان کا جوڑ آصف زرداری سے پڑ سکتا ہے، بلاول بھٹو زرداری سے نہیں، جواب میں جب مراد سعید مناظرے کا چیلنج دیتے ہیں تو بلاول بھٹو زرداری قبول نہیں کرتے۔ یہ تحریک انصاف والوں کی ہمت ہے کہ وہ اسمبلی میں بیٹھ کر بلاول بھٹو زرداری کا ہر سخت و تنقیدی خطاب سنتے ہیں لیکن بلاول بھٹو زرداری اور ان کے حامیوں میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ جواب میں مراد سعید کا خطاب سن سکیں۔ اگر کلیہ یہ ہے کہ مراد سعید سخت زبان استعمال کرتے ہیں تو بلاول بھٹو زرداری بھی تو کوئی کسر نہیں چھوڑتے، لیکن انہیں پوری طرح سنا جاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری بڑھک مار سیاست کے دائرے میں الجھ گئے ہیں حالانکہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کی حیثیت سے انہیں ایک معیاری اور شائستہ سیاست کی داغ بیل ڈالنی چاہئے تھی۔ انہیں سب سے زیادہ توجہ اس نکتے پر مرکوز کرنی چاہئے تھی کہ وہ ایسا کیا کریں کہ پنجاب کے عوام بھی پیپلزپارٹی کو اہمیت دینا شروع کر دیں۔ وہی پنجاب جو کسی دور میں پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ صرف لاہور میں بلاول ہاؤس بنا دینے سے پنجاب میں پارٹی کی مقبولیت واپس نہیں آ سکتی۔ اگرچہ اندھے کو بھی پتہ ہے کہ پنجاب میں صرف دو ہی جماعتیں ہیں، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف، پیپلزپارٹی کی تو تیسری پوزیشن بھی مشکوک ہو چکی ہے۔ اگر تو بلاول بھٹو زرداری نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ صرف سندھ کو اپنے قبضے میں رکھنا ہے، اور اس کے نام کی سیاست کرنی ہے تو پھر شاید ان کی یہ ترکیب کارگر ثابت ہو کہ زیادہ سے زیادہ سندھ کے ساتھ وفاق کی زیادتیوں کا ڈھنڈو را پیٹا جائے لیکن اگر وہ قومی سیاست کے دھارے میں پیپلزپارٹی کو واپس لانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی سیاست کے موجودہ چلن کو بدلنا پڑے گا۔ سندھ کی بری حالت سے نظریں چرا کر پیپلزپارٹی کے تن مردہ میں جان نہیں ڈالی جا سکتی۔ یہ بات بلاول بھٹو زرداری کو سمجھ آ جاتی چاہئے، مگر سمجھائے کون۔؟

مزید :

رائے -کالم -