خدا را، ہمیں رول ماڈل نہ سمجھیں

خدا را، ہمیں رول ماڈل نہ سمجھیں
خدا را، ہمیں رول ماڈل نہ سمجھیں

  

کسی زمانے میں ایک غیر ملکی سیاح ہندوستان آیا تو اُس نے برصغیر میں دو نئی چیزیں پہلی بار دیکھیں، یعنی ہاتھی اور امرود۔ سیاح نے دونوں نام اپنی ڈائری میں درج کر لئے اور وطن واپس چلا گیا۔ کئی سال گزرنے پر اُس کے شہر میں کہیں سے ایک ہاتھی آ گیا۔ لوگ دوڑے دوڑے سیاح کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ تم ملکوں ملکوں گھوم چکے ہو، ذرا بتاؤ تو سہی یہ کیا چیز ہے۔ سیاح نے تیزی سے گھر کے اُس کمرے کا رخ کیا جہاں پرانے کاغذات رکھے تھے۔ ہندوستان والی ڈائری کے چند صفحے پلٹے اور باہر نکل کر کہا:”یا تو یہ ہاتھی ہے یا امرود“۔۔۔ کہانی یہاں ختم ہو جاتی تو سب کے لیے آسانی تھی، مگر عقل مند آدمیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں کبھی تو غالب کی طرح ’سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا‘ اور کبھی بقول احمد ندیم قاسمی ’مَیں گل کو دیکھ کے تخلیقِ گل کی سوچتا ہوں‘۔

سبب اور نتیجے پر مبنی دلائل تو سب کی سمجھ میں آ جاتے ہیں، مگر یادوں کا تسلسل ہر شخص کے ذہن میں جدا جدا ہو تا ہے۔ اسی لئے چند سال پہلے ایف ایم 101 کے اسٹوڈیو میں میرا پہلی بار جانا ہوا تو ہوش و حواس پہ ریڈیو پاکستان لاہور کا پرانا اسٹیشن چھایا ہوا تھا۔ آزادی سے پہلے یونینسٹ پارٹی کے لیڈر سر فضل حسین سے کرائے پہ لی گئی وہی عمارت جو شملہ پہاڑی سے گورنر ہاؤس جانے والی سڑک پر فیض احمد فیض کے گھر کے عین سامنے واقع تھی اور جہاں سے مصطفی علی ہمدانی نے قیامِ پاکستان کا تاریخ ساز اعلان کیا تھا۔ پرانے اسٹیشن کی جس تخلیقی چہل پہل کا آنکھوں دیکھا حال ابو الحسن نغمی نے ’یہ لاہور ہے‘ میں بیان کیا ہے، میں اُس کا عینی شاہد تو نہیں لیکن نو سال کی عمر میں نغمی صاحب کو پرانے ریڈیو اسٹیشن پہ بچوں کے بھائی جان کے طور پہ ضرور دیکھا اور خود بھی پروگرام میں حصہ لیا۔

یہ مطلب نہیں کہ اُس روز چھوٹا بھائی زاہد، ماموں زاد بہن شبنم اور مَیں کسی ڈرامہ میں شریک ہوئے تھے یا ہم میں سے کسی نے ریڈیو پہ تقریر کی۔ ہماری باری تو پروگرام کے آخری مرحلے میں دیگر مہمان بچوں کے ساتھ آئی، جس سے پہلے یہ پوچھ لیا گیا تھا کہ آپ کیا سنائیں گے۔ جب مَیں نے بتایا کہ ایک سردار جی کے بارے میں لطیفہ ہے تو بھائی جان نے متین مگر شفقت بھرے لہجہ میں کہا ”کچھ اور سنا دیجئے“۔ چنانچہ انتظار حسین کی ایک کتا ب میں پڑھا ہوا یہ لطیفہ مائیکرو فون پر سنا دیا گیا کہ ایک باپ بیٹا ناشتہ کی میز پہ بیٹھے تھے، مگر اُن کے سامنے انڈہ ایک ہی تھا۔ لڑکے نے منطق کے زو ر پہ ثابت کر دیا کہ ایک نہیں دو انڈے ہیں۔ باپ نے انڈہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا اور کہا ”بیٹا، دوسرا تم کھالو“۔ اب سوچتا ہوں کہ ”کچھ اور سنا دیجئے“ میں کیسا مہذب سبق چھپا ہوا تھا۔

لطیفہ سنانے سے لے کر ریڈیو کے مشاعرہ میں شرکت تک دس برس کا وقفہ ہے، لیکن یہ شرکت شاعر نہیں بلکہ سامع کے طور پہ ہوئی۔ ہم ایم اے کے پہلے سال میں تھے کہ فائنل ایئر کے طالب علم اشرف عظیم، جو بعد ازاں پی ٹی وی کے مینجنگ ڈائرکٹر بنے، مجھے بھی اپنے ساتھ ریڈیو اسٹیشن لے گئے۔ اُس شام اسٹوڈیو میں ہینگنگ مائیک کو پہلی بار غور سے دیکھا اور آواز کی فالتو گونج ختم کرنے کے لئے دُہرے دروازوں، دبیز قالینوں اور دیوار وں پہ باریک سوراخوں کی حکمت بھی سمجھ میں آئی۔ اصل لطف تو اخلاق احمد دہلوی کی اناؤنسمنٹ کا تھا۔ سرخ بتی جلتے ہی چُپ رہنے کا اشارہ، پھر یہ اعلان کہ ”ریڈیو پاکستان لاہور کی پندرہ روزہ محفلِ مشاعرہ میں جو شعرائے کرام اپنے کلام سے نوازیں گے، اُن کے اسمائے گرامی ہیں جناب اشرف عظیم۔۔۔“ نامور شاعروں کے بیچ دوست کا نام مزا دے گیا تھا۔

آج کم لوگ یقین کریں گے کہ یونیورسٹی پروگرام بھی طلبہ و طالبات کے لئے نشریاتی تربیت کی نرسری تھا۔ راولپنڈی اسٹیشن کے تعلیمی پروڈیوسر فخر عالم نعمانی سے تعارف گورڈن کالج میں اپنے انگلش ڈپارٹمنٹ کے دو ساتھیوں کے ہمراہ ہوا۔ ہمارے رہبر شعبہء اردو کے ہر دلعزیز استاد اجمل نیازی تھے جو عمر میں ہم سے چند ہی سال بڑے ہوں گے۔ پروگرام کا ڈھانچہ سیدھا سادہ مگر تر و تازہ ہوا کرتا۔ پہلے افسانہ، پھر ایک آدھ نظم یا غزل، تنقیدی مضمون اور کسی فکر انگیز ادبی موضوع پر گفتگو۔ پیش کاری میں مواد کی حقیقت پسندی، صحیح تلفظ اور ادائیگی کا خاص خیال رکھا جاتا۔ہماریاولین پروگرام کی ریکارڈنگ ختم ہوتے ہی نعمانی صاحب نے مجھے چھیڑنے کے انداز میں کہا تھا: ”تو یہ آپ تھے جو بے تحاشا لمبی نظم سنا گئے‘‘۔ نظمیں سناتے سناتے ریڈیو سے خبریں پڑھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا، یہ کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔

پاکستان بننے پر ایک وقفے سے ریڈیو کا صدر دفتر کراچی میں قائم ہوا تھا لیکن ہماری طالب علمی کے آخری مرحلے پر دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہونے کا عمل مکمل ہوا تو سنٹرل نیوز آرگنائزیشن بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت راولپنڈی پہنچ گئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ نئے دفاتر کھولنے کے لئے سیٹلائٹ ٹاؤن کی دو تین کوٹھیا ں کرائے پر لی گئی تھیں۔ یہ چند ماہ بعد کی بات ہے، وگرنہ 1972 ء کے جولائی اگست میں نیوز ریڈرز کے لئے آواز کا امتحان پشاور روڈ پہ واقع ریڈیو پاکستان راولپنڈی کی موجودہ عمارت ہی میں ہوا، جہاں مرزا اسلم بیگ نیوز ایڈیٹر تھے۔ اُس ابر آلود صبح کو اسٹیشن کے احاطے میں بے شمار نوجوان جمع ہوئے۔ اُس وقت ہم میں سے شاید ہی کسی کو پورا احساس ہو کہ اردو میں کراچی کے ’دادا‘ شکیل احمد، انور بہزاد اور شمیم اعجاز جبکہ انگریزی نیوز ریڈنگ میں ایرک وارنر، جہاں آرا سعید اور انیتا غلام علی کی امکانی جانشینی کتنا بڑا اعزاز ہے۔

آڈیشن مکمل ہوتے ہوئے دو تین دن لگ گئے اور پھر شروع ہوا رزلٹ کا انتظار۔ اُن دنوں اسٹوڈنٹس کو کالج کا کارڈ دکھا کر اومنی بس پہ دس پیسے میں سفر کرنے کی نئی نئی سہولت ملی تھی۔ ظاہر ہے ریڈیو اسٹیشن کے چکر لگانے کے لئے اِس سے پورا فائدہ اٹھایا گیا۔ ایک روز پتا چلا کہ میرا چناؤ پنجابی بلیٹن پڑھنے کے لئے ہورہا ہے۔ نیوز ایڈیٹر نے یہ مشورہ بھی دیا کہ ہر روز ریڈیو پاکستان آکر پرانے مسودوں کی مدد سے نیوز ریڈنگ کی مشق کرنا مفید ہو گا۔ یہ سنا تو بقول فیض احمد فیض ’مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے‘۔ پھر بھی دو ماہ گزر گئے اور میری بجائے کچھ اَور لوگوں نے خبریں پڑھنی شروع کر دیں۔ کسی نے کہا کہ وزیر اطلاعات مولانا کوثر نیازی سے کوئی واقفیت نکالو۔ واقفیت کیسے نکالی جاتی ہے، یہ اپنی سمجھ سے باہر تھا۔ البتہ ریڈیو پاکستان کے ڈائرکٹر جنرل خواجہ شاہد حسین کے نام ایک ذاتی خط لکھ مارا۔

یہ کریڈٹ اُس دَور کے سرکاری کلچر کو جائے گا کہ ڈائرکٹر جنرل کے پرائیویٹ سیکرٹری نے ایک معمولی طالب علم کے مراسلے کے جواب میں مجھے ڈی او لیٹر لکھا، جس میں یہ خوشگوار انکشاف بھی تھا کہ اُن کے افسرِ اعلی مجھ سے ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں۔ مقررہ تاریخ کو جب اُن کے دفتر پہنچا ہوں تو کئی گھنٹے کے انتظار کے دوران پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے دو مرتبہ بسکٹوں کے ساتھ چائے پلوائی اور شائستہ پیرائے میں دل جوئی کی باتیں کرتے رہے۔ آخر کار ڈائرکٹر جنرل شاہد حسین سے ملاقات ہو گئی، جو توقع کے برعکس بہت خوشگوار تھی۔ ایک تو علی گڑھ اور پھر گورنمنٹ کالج والے پروفیسر منظور حسین کے یہ صاحبزادے خوش شکل آدمی تھے۔ پھر انہوں نے اپنے کمرے میں میرا استقبال کھڑے ہو کر کیا اور معذرت کی کہ شدید دفتری مصروفیت کے سبب ملنے میں تاخیر ہوئی۔ پر، جناب، یہ تو ابتدا تھی۔

کچھ ہی دیر میں فیصلہ کُن انداز میں کہنے لگے:”نیوز ریڈنگ کو چھوڑو۔ ہمیں تم جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہے، اس لیے پروگرام پروڈیوسر بننے کی خواہش کرو تو ابھی تقرر ہو سکتا ہے۔ اگر صحافت کو کیرئر بنانا چاہتے ہو تو ڈائرکٹر نیوز حبیب اللہ شہاب کے پاس پہنچ جاؤ تاکہ تمہیں اسسٹنٹ نیوز ایڈیٹر بھرتی کیا جا سکے‘‘۔ دو روز ہوئے تھے کہ حبیب اللہ صاحب کے ذاتی دستخط سے مزین دعوتی خط خود بخود موصول ہو گیا۔ مقررہ وقت پہ حاضر ہوا تو یہ بزرگ، جنہیں دیکھتے ہی اندازہ ہو گیا کہ معروف دانشور قدرت اللہ شہاب کے چھوٹے بھائی ہیں، خواجہ شاہد سے شفیق تر اور زیادہ جہاندیدہ نکلے۔ سب سے پہلے میرے والد کا عہدہ پوچھا اور جواب سے اُن کی عمر کا اندازہ لگا لیا۔ فرمانے لگے:”میرا خیال ہے آپ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ اسسٹنٹ نیوز ایڈیٹر کے لئے ایم اے کی شرط ہے۔ چند مہینے میں ایم اے فائنل کا امتحان دے لیں اور پھر میرے پاس آ جائیں۔ اگر ابھی نوکری کرلی اور تنخواہ لگ گئی تو تعلیم ادھوری رہ جائے گی“۔

میرے حالات کو دیکھتے ہوئے کیسی سچی، مفید اور قابلِ عمل نصیحت تھی۔ ڈگری لے کر، مَیں درس و تدریس کے راستے سے ہوتا ہوا بی بی سی لندن جا نکلا جہاں اخبار نویسی کے گُر سکھانے کے لئے اطہر علی، محمد غیور اور آصف جیلانی موجود تھے اور براڈکاسٹ جرنلزم کے رموز بتانے کے لئے سید راشد اشرف، رضا علی عابدی اور سب کی آپا سارہ نقوی۔ ابھی چند روز پہلے پی ٹی وی اسٹوڈیو سے بلاوا آیا تو مَیں سوچنے لگا کہ اپنے سینئر ساتھیوں یا پھر حبیب اللہ شہاب اور خواجہ شاہد حسین سے مشورے کی ضرورت پڑ گئی تو اب انہیں کہاں کہاں ڈھونڈوں گا۔ گھبرا کر یارِ عزیز خرم قادر کو فون کیا تو انہوں نے ایک نئی مشکل کھڑی کردی کہ اب آپ کو بتانے کے لئے کوئی نہیں آئے گا، بس خود کو رول ماڈل سمجھیں۔ ”ڈاکٹر صاحب، مروا دتا جے“۔ بھلا، اِس کے سوا میرے منہ سے اَور کیا نکلتا!

مزید :

رائے -کالم -