میرے دور کی ائیر فورس (پہلی قسط)

میرے دور کی ائیر فورس (پہلی قسط)
میرے دور کی ائیر فورس (پہلی قسط)

  

ہے تو یہ میری ایک قسم کی آپ بیتی لیکن اس تحریر میں آپ کو 50 کی دھائی کے پاکستان بلکہ کراچی کی جھلک ملے گی۔ پاکستان کو قائم ہوئے ابھی ساڑھے3 سال ہوئے تھے۔ میَں 16 سال کی عمر میں دھلی یونیورسٹی سے ہائر سکنڈری کر کے پاکستان تنہا آگیا تھا۔ دراصل ہم لوگ جالندھر اور لدھیانہ سے تھے لیکن والد صاحب کی دوسری شادی دھلی کے ایک معزز مغل خاندان میں ہوئی تھی۔ میری والدہ میرے بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھیں۔ 1947 میں میرے والد نے حکومت ِ ہندوستان کی ملازمت میں ہی رہنا پسند کیا۔ والد صاحب بذریعہ برٹش انڈین آرمی، 1946 میں (بطور ریٹائرڈ میجر) اِنڈین پوسٹل سروس میں آچکے تھے اور 1947 میں دھلی میں ہی تعینات تھے۔ پاکستان بنتے ہی میرے دادا جی نے مجھے میرے والد کے سپرد کیا اور خود پاکستان ہجرت کر کے لاہور آگئے جہاں وہ 1948 میں وفات پاگئے۔ میرے والد نے بڑی مشکل سے بلکہ روزمرہ کی مارکٹائی کے بعد مجھے ہائر سکنڈری تک تعلیم دِلوائی۔ میں سکول سے بھاگ کر سینما دیکھنے والے لڑکوں کی صحبت میں رہتا تھا۔ دھلی کے اکثر پڑھے لکھے اور معززین ہجرت کر کے پاکستان جا چکے تھے۔ میرے ہائر سکنڈری سکول میں اَب دِلّی کے مسلمانوں کی "کرخندار" کلاس کے لڑکے زیادہ پڑھتے تھے۔ میَں نے بڑی مشکل سے 3rd ڈویژن میں ہائرسکنڈری کیا ہی تھا کہ والد صاحب نے مجھے مارچ 1951 میں لاہور بذریعہ گنڈا سنگھ والا (قصور)روانہ کر دیا۔ اُن دِنوں پاک و ہند کے درمیان پاسپورٹ یا ویزا وغیرہ نہیں تھا۔ بس ایک قسم کا پرمٹ ہوتا تھا جو پاکستان کا دِلّی میں ہائی کمشنر جاری کرتا تھا۔

لاہور پہنچ کر مختلف رشتہ داروں کے ہاں رہا لیکن وہاں اُن کے بچوں کے ساتھ میری جمی نہیں۔ شائد میَں ہی اُن کے سیدھے سادھے بچوں کے لئے غیر موزوں تھا۔ 1951 میں ابھی پاکستانی کرنسی نوٹ چھپے نہیں تھے کیونکہ انگریزی دور کے جارج ششم کی تصویر والے نوٹ دوکانوں میں چلتے تھے۔ اُن نوٹوں پر ایک کالے سے رنگ کی Pakistan کی مُہر لگی ہوتی تھی۔ یہ ہی سسٹم ڈاک کے ٹکٹوں، لفافوں اور پوسٹ کارڈوں پر ہوتا تھا۔ ابھی تک پاکستان بے سروسامانی کی حالت میں تھا۔ آج کی نسل کو تو شائد محکمہ ڈاک کی معلومات بھی نہ ہو نگی۔ پوسٹ کارڈ کی شکل دیکھنا تو دُور کی بات ہے۔ دراصل پوسٹ کارڈ اُن دِنوں کا WhatsApp ہوتا تھا۔ Censor کا سلسلہ ابتداء ہی سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پوری طرح قائم تھا اس لئے سمجھ دار اور پڑھے لکھے لوگ اپنی خیر و عافیت اکثر پوسٹ کارڈ پر لکھتے تھے تاکہ یہ جلد اپنے پتے پر پہنچ سکے۔ لفافوں والے خطوں کے سنسر کی وجہ سے وہ ہفتوں میں منزلِ مقصود پر پہنچتے تھے۔ میَں نومبر 1951 میں لاہور سے کراچی اپنے دوسرے رشتے داروں کے ہاں شفٹ ہو گیا۔ اس سال پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم کی شہادت ہوئی تھی جس کا اُس وقت مجھے کوئی ادراک نہیں تھا۔کراچی کے رشتے داروں میں وہاں بھی میَں کوئی پسندیدہ مہمان نہیں تھا۔ سارا دِن آوارہ گردی کرنی اور گھٹیا سے سینماؤں میں کوئی پُرانی فلم دیکھنی، بھوک لگتی تو ایرنی ہوٹلوں میں 8 آنے کی ہاف پلیٹ سبزی گوشت اور 2 آنے کی اُلٹے توے پر پکی ہوئی دو رومالی روٹیاں مل جاتی تھیں۔ والد صاحب نے دِلی سے پاکستان آتے ہوئے جو روپے دئیے تھے وہ ابھی باقی تھے۔ پانی مفت ہوتا تھا۔ اُن دِنوں منرل واٹر کا مطلب تھا گولی والی سوڈا واٹر کی بوتل۔ سوڈا واٹر کی عیاشی 2 آنے میں ہو جاتی تھی۔ ابھی امریکی ڈرنکس نے پاکستان پر 15 سال بعد یلغار کرنی تھی۔ پاکستانی پاکولا مارکیٹ میں آگیا تھا۔

روزمرہ کی آوارہ گردی کے دوران کراچی کی اِنگل روڈ(اب پتہ نہیں اس سڑک کا " اسلامی" نام کیا ہے)پر PAF کا ایک بیرک نما دفتر تھا اُس پر " بھرتی کھُلی ہے " کا کپڑے کا بینر لگا تھا۔ میرا لباس پاجامہ قمیض تھا جو شائد کئی دِنوں سے دُھلا بھی نہ تھا۔ اِستری شدہ ہونا تو دُور کی بات ہے۔ میَں ایک دُبلا پتلا سا لڑکا تھا۔ میَں دیکھ رہا تھا کہ اُس بیرک نما دفتر میں بھرتی کے لئے آنے والے لڑکے اور ذرہ زیادہ عمر والے نوجوان اُس زمانے کے سمارٹ لباس میں بھرتی دفتر میں داخل ہو رہے تھے۔ مجھ میں ہر جگہ منہ مارنے کی عادت تو تھی۔ اس عادت کو نفسیات دان اَب Confidence Self کہتے ہیں۔ لو جی، دفتر کے اندر گیا تو دیکھتا ہوں کہ گورے سٹاف کے ساتھ گِنے چُنے پاکستانی سٹاف کے اَرکان بھرتی ہونے والوں کو مختلف مراحل سے گذار رہے تھے۔ پاکستان ائیر فورس کے ائیر چیف اُس وقت انگریز ہوتے تھے۔ ایک لائن میں میری عمر کے لڑکے کھڑے تھے اپنی قمیضیں اُتارے ہوئے۔ اِن میں سے کئی کی داڑھی مونچھ بھی نہیں آئی تھی۔ (میری بے ہودہ سی چھدری داڑھی آگئی تھی)۔ یہ لائن Apprentices کی بھرتی کی تھی۔ دوسری بڑی لائن18 سال سے 28 سال تک کی عمر والوں کی تھی۔ یہ Airman کی بھرتی کے اُمیدوار تھے۔ میَں اُس بھیڑ میں کھڑا اُلوؤ ں کی طرح ماحول کو دیکھ رہا تھا کہ ایک گورے نے مجھے اِشارہ کر کے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہ آیا۔ میری مدد کے لئے وہیں ائیر فورس کے پاکستانی اہل کار نے مجھے Apprentice کی لائن میں کھڑے ہونے کی ہدائت کر دی۔

میَں تو بالکل بھی بھرتی ہونے کے نیت سے نہ آیا تھا۔ میرا حُلیہ یتیموں و الا سا تھا۔ Apprentices کی لائن میں بڑے ترو تازہ چہرے تھے۔ اکثر نے پتلونیں پہنی تھیں۔ وہ پہلے سے تیار ہو کر آئے تھے۔ میَں تو یوں ہی بھٹکتا ہوا اس دفتر کے (اُس کو اَب شاہیں پلازہ کہتے ہیں)اَندر آگیاتھا۔ مجھے تو احساس بھی نہ تھا کہ اللہ مجھ پر مہربانی کا دروازہ کھول رہا ہے۔ کیونکہ 15نومبر بروز بدھ کے بعد سے آج 85 سال کی عمر تک اللہ نے مجھے کامیابیوں سے سرفراز کیا ہے۔ بھرتی ہوتے وقت مجھے بھی قمیض اُتارنے کا کہا گیا۔ میرا قد، وزن اور میرے سینے کی چوڑائی مانپی گئی اور میرے سینے پر کالی سیاہی کے مارکر (آج کل والے مارکر نہیں)سے میرے جسمانی کوائف لکھ دئیے گئے۔ اگلے مرحلے میں ڈاکٹر نے جو گورا تھا، میری بینائی، گلا، ناک، کان، گھٹنے، پاؤں کی بناوٹ اور مختلف میڈیکل مراحل سے گزار کر مجھے ریکروٹنگ آفسر کے سامنے اپنی باری پر پیش ہونے کا کہا۔ میرا میڈیکل ہونے سے پہلے ایک چھپے ہوئے فارم پر میرا نام، پتہ اور کچھ مزید کوائف درج کئے گئے اور مجھے دستخط کرنے کا کہا گیا۔ میرے دستخط آج کی طرح پختہ تو نہ تھے۔ میری زندگی میں میرا یہ دوسرا دستخط تھا۔ بس سیدھا سیدھا اپنا نام لکھ دیا تھا۔ وہ بھی بھدی سی لکھائی میں۔

دراصل میَں بھرتی ہونے کے لئے پہلے سے تیار ہو کر تو آیا نہیں تھا۔ بس یوں ہی بطور تجسُس بھرتی والے دفتر میں داخل ہوگیا تھا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے جیسا Shabby سا لڑکا دفتر میں داخل ہوتے ہی اُچک لیا جائے گا جبکہ میرے سامنے چمکتے ہوئے Neat سے چہروں والے لڑکے تھے جو کانونٹ اور ممتاز سکولوں سے پڑھ کر آئے تھے اور جنہوں نے 4 سال کی ٹرئینگ کے بعد RPAF میں جی ڈی پائلٹ بننا تھا۔ میری حیثیت اس خصوصی جمگھٹے میں ایک فالتو سے لڑکے کی تھی۔ اسی وجہ سے میَں نا اُمید ہونے کے لئے ذہنی طور پر تیار بھی تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا اپنا پروگرام تھا۔ ریکروٹنگ آفیسر پاکستانی فلائٹ لفٹینٹ تھے۔ جو برطانوی اِنڈین ائیر فورس سے PAF کے حصے میں آئے تھے۔ بڑی شفقت سے مجھ سے مخاطب ہوئے۔ ہلکی پھلکی انگریزی میں بات کی جس کا میں نے اپنی طرف سے شائد صحیح انگریزی میں جواب دیا۔ بھرتی والے آفیسر کا نام نقوی صاحب تھا۔ بڑے بھلے مانس، شفیق اور غالباً پاکستان کی محبت سے سرشار تھے۔ مجھے اُنہوں نے وائرلیس کی ٹریڈ (ہنر)کی ٹرئینگ کے لئے چُن لیا۔ مجھے بڑے پیار سے ملک کی خدمت کرنے کی تلقین کی۔ میَں اُن کی باتوں کے جذبے کو اُس عمر میں سمجھنے سے قاصر تھا۔ وہ تو بہت دھائیوں کے بعد جب میں ائیر فورس میں 9 سال گذار کر اور ائیر فورس میں رہتے ہوئے انگریزی ادب میں M.A کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اور مقابلے کے امتحان میں پاس ہو کر 1960 میں سوِل سروس اکیڈمی میں چلا گیا، تو پھر مجھے ائیر فورس میں اچانک بھرتی ہو جانے کی اور ا،نگلینڈ ٹرئینگ کے لئے چلے جانے کے واقعات کو سمجھنے کا موقع مِلا۔

اَب آپ ذراقسمت کے لکھے کا حال جانئے۔ مجھے بطور اپرنٹس وائرلیس کی ٹریڈ دے دی گئی تھی۔ میَں واپس جانے لگا تو فلائٹ لفٹینٹ نقوی نے مجھے رُکنے کا کہا۔ درخواست فارم میں میری تعلیم ہائر سکنڈری لکھی تھی جو دھلی یونیورسٹی کے سرٹیفکیٹ سے ظاہر ہوتی تھی۔(اُن دِنوں اپنا سرٹیفکیٹ میں اپنے ساتھ رکھتا تھا تاکہ اُس آوارہ گردی کے دوران اگر کوئی چھوٹی موٹی ملازمت مل جائے تو میَں اپنی تعلیم کی شہادت فوری پیش کر سکوں)۔فلائٹ لفٹینٹ نقوی نے کہا کہ میں تمھیں RADAR کی ٹریڈ دیتا ہوں یہ نیا شعبہ ہے اس میں تمہیں ترقی کرنے کے زیادہ مواقع ملیں گے۔ میَں تو بالکل کورا کاغذ تھا۔ میرے لئے اُس وقت دونوں ٹریڈوں کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ بس مجھے تو نوکری مل جانے کی خوشی تھی۔ اُسی دِن مجھے اور جو 12 لڑکے (55 لڑکوں میں سے)میرے ساتھ سلیکٹ ہوئے تھے ہم سب کو 7 روز کے نوٹس پر لوئر ٹوبہ ٹرئینگ کے لئے پہنچے کا حکم نامہ دیا گیا، ساتھ ہی تھرڈ کلاس کا کراچی تا چکلالہ ریلوے واؤچر دیا گیا۔ جس پر ٹرین کا نام اور تاریخ سفر بھی دی گئی تھی۔ ہمارے فوٹو لئے گئے، مختلف زاویوں سے اور ایک قسم کا نوکری کا لیٹر جو پہلے سے چھپا ہوا تھا وہ بھی تھما دیا گیا۔ میَں نے اپنے چچا نذیر احمد کو اپنا گارڈین لکھوایاتھا۔ چچا سے ایک چھپے ہوئےAffidavite پر دستخط کروا کر اپنے ہمراہ لے جانا تھا۔

سب کام ایک ہی دِن میں ہوگیا۔ اُسی روز دوسرے لڑکوں سے پتہ چلا کہ اپرینٹس کی بھرتی کا اِمتحان ہوا تھا ایک ہفتہ پہلے۔۔ میَں نے تو وہ اِمتحان دیا ہی نہیں تھا۔ یہ ہی میَں کہ رہا ہوں کہ بندے کی لاٹری کس طرح نکلتی ہے۔ میرے ساتھ جو لڑکے منتخب ہوئے تھے وہ سب بڑے آدمیوں کے بیٹے تھے اور اُن سب کو ریڈار انجینئرنگ کی ٹریڈ دی گئی تھی جو نقوی صاحب نے مجھے 2nd thought پر دی تھی۔ دراصل اپرنٹس ٹرئینگ سٹیشن کورنگی کریک کراچی میں انگریز کے زمانے سے موجودتھا۔ یہاں رائل اِنڈین ائیر فورس کے ٹیکنیکل ٹریڈز کے ہندوستانی ٹرینیز آتے تھے۔ پاکستانی Apprentice بھی کورنگی میں ہی ٹرئینگ کرتے تھے اور اَب بھی کرتے ہیں۔ اَب تو کورنگی کراچی کا PAF بیس ڈگری دینے والا ائیروناٹیکل کالج بن گیا ہے ماشااللہ۔ ہم 13 لڑکوں کو دراصل 3 سال کی تربیت کے لئے UK بھیجا جانا تھا۔ 1952 جنوری 24 کو ہم نے لوئر ٹوپہ (مری)میں جنرل تربیت لے کر کراچی سے لندن RAF کی تربیت گاہ Halton کے لئے روانہ ہونا تھا۔

جس ٹرین پر ہم نے سفر کرنا تھا وہ پاکستان کی چھکڑا ٹرین کراچی ایکسپریس تھی جو آج بھی شائد آہستہ ترین گاڑی ہے۔ کراچی سے پشاور جاتی تھی اور چھوٹے اسٹیشنوں پر رُکتی جاتی تھی۔ راولپنڈی کا سفر دو دن اور ایک رات کا ہوتا تھا۔ ہاں میں َ یہ بتانا تو بھول گیا کہ ہماری تنخواہ جو 45 روپے ماہانہ تھی وہ راولپنڈی پہنچنے والے دن سے شروع ہونی تھی ہم سورج غروب ہونے تک 24 نومبر کو چکلالہ ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔ وہاں ٹرین 15 منٹ رُکتی تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ RPAF کا ٹرک ہمیں لینے کے لئے آئے گا۔ ٹرک کا ڈرائیور اور ائیر فورس پولیس کا ایک کارپورل پلیٹ فارم پر موجود ہونگے۔ ہم تمام لڑکے ٹرین سے اُتر کر ٹرک ڈرائیور کے پاس رپورٹ کریں گے جہاں پلیٹ فارم پر ہی ہماری حاضری ہوگی۔ حاضری لینے والا پولیس کا رپورل پاکستانی تھا مگر انگریزی کے سوا ہم سے کسی اور زبان میں بات ہی نہیں کر رہا تھا۔ بڑی سختی سے بول رہا تھا۔ ہم مین سے کوئی بھی ذرا غافل ہوتا تو انگریزی میں You bloody fool کہہ کر ہمارا "تراہ " نکال رہا تھا۔ ہم ٹہرے لڑکے اور وہ بھی سویلین اور سب ہی اپنے ماں باپ کے لاڈلے تھے سوائے میرے۔ ہمیں اس سلوک کی جوریلوے اسٹیشن سے شروع ہوا، اُس کی بالکل توقع نہیں تھی۔ ٹرک تک ہم سب نے اپنا سامان خود ہی لے جانا تھا۔ خود ہی لادنا تھا اور خود ہی کود کر ٹرک پر چڑھنا تھا۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -