ملی مجلس شرعی نے انگریزی ذریعہ تعلیم کی تجویزمسترد کر دی

ملی مجلس شرعی نے انگریزی ذریعہ تعلیم کی تجویزمسترد کر دی

  

لاہور(ڈویلپمنٹ سیل) سارے دینی مسالک کے علماء کرام کی مشترکہ علمی مجلس ”ملی مجلس شرعی“ کے صدر مولانا زاہد الراشدی اور جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد امین نے مرکزی وزارت تعلیم کے تحت 16 جولائی 2020ء کو اسلام آباد میں نئے یکساں قومی نصاب میں ذریعہ تعلیم پر ہونے والے مجوزہ اجلاس کے لیے تیار کی گئی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے کہ ذریعہ تعلیم سوائے اسلامیات کے نرسری سے لے کر پانچویں جماعت تک انگریزی ہوگا۔ملی مجلس شرعی کے قائدین نے کہا کہ یہ اردو اور مقامی زبانوں کی حق تلفی ہے۔ یہ انگریز کی پیدا کردہ غلامانہ ذہنیت ہے کہ انگریزی کے بغیر علم نہیں آسکتا اور انگریزی کے بغیر قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم اپنی زبان ہی میں ترقی کرسکتی ہے اور اردو جو آئینی طور پر بھی پاکستان کی قومی زبان ہے اور عملاً بھی پاکستان میں رابطے کی زبان ہے، اسے ذریعہ تعلیم بنانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرائمری میں اردو یا مقامی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -