شاعرو کالم نگار امین ملک کی یاد میں آن لائن تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

شاعرو کالم نگار امین ملک کی یاد میں آن لائن تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

  

لاہور(فلم رپورٹر)پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک)، محکمہ اطلاعات و ثقافت، پنجاب کے زیر اہتمام معروف افسانہ نگا، ناول نگار، شاعر اور کالم نگار امین ملک کی یاد میں ایک آن لائن تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے پنجابی زبان کے دانشوروں اور ادیبوں نے انکی شخصیت اور فن کے حوالے سے بھر پور گفتگو کی۔ تقریب میں میزبانی کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے پلاک کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صغرا صدف نے کہا کہ امین ملک ایک ملنسار، راست گو اور روایات کے امین تھے، انہوں نے ماں بولی کے لئے گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ پلاک اپنے پنجابی میگزین ”ترنجن“ کا اگلا شمارہ ”امین ملک نمبر“ کے طور پر شائع کرے گا۔ جو امین ملک کی حیات و خدمات پر تحقیق کرنے والے طلباء کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔ امین ملک کی اہلیہ محترمہ رانی ملک نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔

اور ان کی شخصی و ادبی خدمات، پنجابی زبان کے لئے ان کی کمٹ منٹ کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ امین ملک اپنی والدہ کی وفات پر بہت دُکھی تھے میں نے انھیں کہا آپ اِس دکھ کا مداوا ماں سے باتیں کر کے کریں اور یہ باتیں مادری زبان میں کہانیوں کی صورت موجود ہیں۔ بھلیکھا اخبار کے سرپرست معروف صحافی و پنجابی دانشور مدثر اقبال بٹ نے کہا کہ امین ملک کا کہانی لکھنے کا اسلوب نہایت ہی دلکش اور منفرد تھا۔ میں نے پہلے بھی اُن کی کئی کتابیں شائع کی ہیں۔ انشاء اللہ آئندہ بھی اُن کی کتابیں شائع کریں گے اور امین ملک کا پیغام آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ مشرقی پنجاب سے معروف شاعر گربھجن گل نے کہا کہ امین ملک کہانی لکھنے میں الفاظ کا چناؤ بہت خوبصورتی سے کرتے تھے اور پنجابی زبان کے اندر سنسکرت، عربی اور فارسی الفاظ کے استعمال پر پریشانی کا اظہار کرتے رہتے تھے۔

ن کا لہجہ خالص پنجابی تھا۔ ان کی لفظالی سے آج کی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب میں لوگ امین ملک کی کہانیوں، اندازِ بیاں اور لفظالی کے دیوانے ہیں۔ اکمل شہزاد گھمن نے کہا کہ امین ملک نے اپنی کہانیوں کے اندر کوئی بھی پہلو تشنہ نہیں رہنے دیا۔

مزید :

کلچر -