پنجاب بھر کی جیلوں میں تشدد، رشوت ستانی او رمنشیات کا دھندہ بڑھ گیا، رپورٹ

  پنجاب بھر کی جیلوں میں تشدد، رشوت ستانی او رمنشیات کا دھندہ بڑھ گیا، رپورٹ

  

لاہور(لیاقت کھرل)پنجاب بھر کی جیلوں میں رواں سال قیدیوں پر تشدد، مبینہ رشوت، ناقص خوراک و طبی سہولیات سمیت دیگر شکایات میں 200 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاہور کی دونوں جیلوں سمیت پنجاب کی 10بڑی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی اور تشدد سمیت مبینہ رشوت کی سب سے زیادہ شکایات پائی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے رپورٹ پر اصلاحات کے نفاذکا حکم دے دیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں پنجاب بھر کی جیلوں میں پائی جانے والی شکایات میں 200 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس میں جیلوں کی انتظامیہ قیدیوں پر مبینہ تشدد اور مبینہ رشوت خوری جیسے سنگین واقعات کی روک تھام میں ناکام رہی ہے جبکہ قیدیوں کو ناقص خوراک کی روک تھام اور طبی سہولیات کی فراہمی میں سمیت دیگر سہولیات پہنچانے میں مکمل طور پر بے بس ہوچکی ہے۔جیلوں میں گنجائش سے 4گنا زائد قیدیوں کو ٹھونس رکھا ہے جس کے باعث قیدیوں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات بڑھ چکے ہیں جبکہ قیدیوں سے مبینہ طو رپر رشوت لینے سمیت منشیات کی نقل و حرکت کے واقعات بھی پہلے سے زیادہ ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ کیمپ جیل میں کوروناکے پھیلاؤ میں سب سے زیادہ تیزی رہی۔ ناقص منصوبہ بندی اور بروقت طبی امداد نہ ملنے پر 11 حوالاتی موت کے منہ میں چلے گئے اورجیل کو قیدیوں سے خالی کروانا پڑا۔ اسی طرح کوٹ لکھپت جیل میں ایک خاتون پر تشدد کا واقعہ پیش آیا جس میں جیل انتظامیہ اور متاثرہ خاتون نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات درج کروائے۔ گوجرانوالہ، حافظ آباداور شیخوپورہ کی جیلوں میں میں بھی صورتحال گھمبیر ہے۔ جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لے لیا ہے اور اصلاحات کا نفاذکا حکم دیا ہے۔ اس حوالے آئی جی جیل خانہ جات مرزا سلیم شاہد بیگ نے ”روزنامہ پاکستان“ کو بتایا کہ جیلوں کو تشدد اور رشوت فری بنایا جا رہا ہے۔ قیدیوں کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور سنگین نوعیت کے کیسز میں ملوث قیدیوں کی سخت مانیٹرنگ شروع کر دی گئی ہے جبکہ ”شکایات بکس“ نصب کر دئیے گئے ہیں۔

رپورٹ

مزید :

صفحہ اول -