ٹریفک وارڈنز اور شہریوں کے درمیان لڑائی جھگڑوں میں اضافہ

  ٹریفک وارڈنز اور شہریوں کے درمیان لڑائی جھگڑوں میں اضافہ

  

لاہور (رپورٹ: یونس باٹھ)شہرمیں ٹریفک پولیس اور عوام کے درمیان زبانی توتکار اور جھڑپوں میں تیزی سے اضافہ ہو تا جارہا ہے۔ بلا شبہ ٹریفک پولیس میں بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں جن پر بہت پہلے ہی عمل درآمدکیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم پہلے پولیس اہلکاروں کی تربیت اور عوام کے ساتھ ان کے رویوں میں بہتری کیلئے اقدامات بھی ترجیحی اہمیت کے حامل ہیں۔ دوسری جانب سڑکوں کی کشادگی کیلئے جگہ جگہ کھدائی، فلائی اوورز کی تعمیر میں تاخیر اور ٹریفک قوانین میں تبدیلیاں بھی زبانی تکرار اور جھڑپوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں جبکہ متعدد واقعات میں شہری وارڈن کے ہاتھوں فائرنگ سے زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق رواں سال کے دوران 1102 احتجاج ریکارڈ ہوئے، سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ رواں سال ٹریفک وارڈن تمام فورسز میں سب سے زیادہ شہریوں کے تشدد کا شکار ہوئی۔ ٹریفک وارڈنز کی جانب سے ان جھگڑوں پر مقدمات درج کروانے کی بھرمار کے بعد شہریوں کے خلاف استغاثہ دینے سے روک دیا ہے۔فیصلہ کیا ہے کہ ٹریفک وارڈنز اور شہریوں کے درمیان کسی نا خوشگوار واقعہ پر متعلقہ علاقہ کا ڈی ایس پی پہلے انکوائری کرے گا۔ جس کے بعد ڈی ایس پی کی اجازت سے متعلقہ تھانے میں شہری کے خلاف مقدمہ درج کروایا جاسکے گا۔شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک پولیس اور شہریوں کے مابین تلخ کلامی، نازیبا الفاظ کے تبادلوں، ہاتھاپائی کی ویڈیوزبھی سوشل میڈیا کے توسط سے مسلسل منظر عام پر آرہی ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق لوگوں میں ٹریفک قوانین سے آگہی کی ذمہ داری بھی ٹریفک پولیس پر عائد ہوتی ہے۔

لڑائی جھگڑے

مزید :

صفحہ آخر -