شیخوپورہ: دکانداروں، خریداروں نے ہفتہ، اتوار کا لاک ڈاؤن ہوا میں اڑا دیا

شیخوپورہ: دکانداروں، خریداروں نے ہفتہ، اتوار کا لاک ڈاؤن ہوا میں اڑا دیا

  

شیخوپورہ/جوئیانوالہ(محمد ارشد شیخ /عمران ملک سے)وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی کرونا وباء کے حوالہ سے مختلف شہرؤں میں لاک ڈاؤنز کی ہدایات کرنے کی وجہ سے جہاں کرونا وائرس کے مریضوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ وہی شہر شیخوپورہ میں ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کے حکم پر ہفتہ اور اتوارکو لاک ڈاؤن کے احکامات کو دکانداروں اور خریداروں نے ہوا میں اڑا کررکھ دیا،مین بازار،گلی حکیماں،گلی زرگراں،جناح پارک،ریلوئے روڈ ریگل چوک، موبائل مارکیٹ،لنڈا بازار موبائل مارکیٹس، لاہور روڈ،گوجرانوالہ روڈ،فیصل آباد روڈ،موٹر سائیکل مارکیٹ،اوردیگر دکانیں جزوی طور پر کھلی رکھی جاتیں ہیں اور جیسے ہی دکاندار جانے پہچانے خریداروں کو دیکھتے ہیں تو دکانوں کے شٹر کھول دیئے جاتے ہیں اور گاہکوں کو دکان کے اندر بھیج کر شٹر ڈاؤن کرکے سامان فروخت کردیا جاتا ہے،سروئے کے مطابق خریداروں میں سومیں سے10فیصد لوگ ہی ماسک لگا کر بازاروں میں جاتے ہیں چاندگاڑیوں،اورموٹر سائیکلوں پر سوار مردوخواتین اور بچے بھی بغیرماسک کے بازاروں میں پھل اور سبزیاں خریدتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،جبکہ بھکھی روڈ شبستان چوک کے قریب دوپرائیویٹ سکول بھی کھلے ہوئے ہیں جن میں طلباوطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں جو انتظامیہ کے انتظامات کا منہ چڑھارہے ہیں،کھلنے والے پرائیویٹ سکولز میں آنے والے طلبا وطالبات بغیر ماسک،بغیر سینی ٹائزرکے تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑانے والے سکول مالکان کو کوئی لگام ڈالنے والا نہیں دوسری جانب بازاروں میں سوداسلف خریدکرنے کے لیے جانے والے گاہکوں کو دکانوں میں ہاتھ دھونے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مزید کورونا وباء کے پھیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں یونہی عیدالضحی بھی قریب قریب ہے اور گلیوں،محلوں چوکوں،چوراہوں میں ہفتہ اور اتوار کو کاروباری مراکز کی بندش ہونے کے بعد قربانی کے جانور فروخت کرنے والے افراد بھی بازاروں اور گلیوں میں کھلے عام بغیر ماسک کے گاہکوں کو جانور دکھانے میں مصروف عمل ہیں کرونا وباء اور دکانداروں کی من مانیاں نہ رکنے کی وجہ سے کرونا مریضوں کی وباء میں ایک بار پھر اضافہ ہونے کے خطرات مکینوں کے سروں پر منڈلارہے ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے یہ دعوی کیاجارہا ہے کہ کورونا ایس اوپیزحکومتی احکامات کے مطابق کروائے جارہے ہیں۔

لاک ڈاؤن

مزید :

صفحہ آخر -