کورونا کے خوف اور ضابطوں میں لپٹی سیریز

کورونا کے خوف اور ضابطوں میں لپٹی سیریز

  

کوویڈ19 کے باعث پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 5 اگست سے شروع ہونے والی ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی سیریز بائیو سیکیور ماحول میں کھیلی جائے گی۔ بند دروازوں میں شیڈول اس سیریز میں کھیل کے سب سے اہم اسٹیک ہولڈر، شائقین کرکٹ، انکلوڑرز میں بیٹھ کر اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکیں گے۔

کپتان قومی ٹیسٹ اسکواڈ اظہر علی کا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تین ماہ گھروں میں رہنے کے باوجود ان کی فٹنس کا معیارقابل ستائش ہے۔ پریکٹس میچ نیٹ میں انفرادی ٹریننگ سے بہترثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور کرکٹر انہیں بھی چار روز کی ٹریننگ سے زیادہ اعتماد دو روزہ پریکٹس میچ کھیل کر ملاہے، یہی وجہ ہے کہ ٹیم منیجمنٹ نے ڈربی روانگی سے قبل وورسٹر میں بھی 2 انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ کروانے کا انتظام کیا ہے۔ نوجوان پیس بیٹری شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کی پریکٹس میچ میں عمدہ لائن اور لینتھ نے کپتان کو خوب متاثر کیا ہے جبکہ فاسٹ باؤلر محمد عباس کی انگلش کنڈیشنز سے واقفیت اور کاؤنٹی کرکٹ کا تجربہ بھی ان کے لیے با عث اطمینان ہے۔ اظہر علی کاکہنا ہے کہ انٹرااسکواڈمیچ کے دوران چلنے والی تیز ہوا نے باؤلرز کے لیے مشکلات پیدا کیں مگروہ پرامید ہیں کہ باؤلرز جلد خود کو کنڈیشنز سے ہم آہنگ کرلیں گے۔ بابراعظم کی صلاحیتوں کے معترف کپتان کا کہنا ہے کہ نائب کپتان اور اسد شفیق نے جس پراعتماد انداز سے بیٹنگ کی وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا عابد علی اور شان مسعود نے بھی دن کے آغاز میں مشکل کنڈیشنز میں بہتر بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ اظہر علی نے کہا کہ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے اسکواڈ کو تاخیر سے جوائن کیا مگر ان کی بیٹنگ میں بھی نظم وضبط نظر آیا جو خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھوک سے گیند چمکانے کی اجازت نہیں، ف، فی الحال وورسٹر کے موسم میں باؤلرز کے علاوہ کسی کو پسینہ نہیں آرہا لہٰذا اس حوالے سے گیند کی چمکائی کے لیے مختلف ممکنہ آپشنز آزمارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 کے بعد اب کرکٹ میں باؤلرز کو اپنی جرسی اور ٹوپی خود باؤنڈری لائن کے باہر چھوڑ کر آنی ہے، اسپنرز کو اس قانون سے آگاہی میں کچھ وقت لگے گا۔

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان، ون ڈے اور ٹی ٹوئینٹی کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ سابق کپتان اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی طرح کپتانی کرنے کے خواہشمند ہوں۔ کھلاڑیوں کو بیک کرنے سے ہی سو فیصد کارکردگی لی جا سکتی ہے۔ جب کھلاڑیوں کو سراہا جاتا ہے تواعتماد ملتا ہے۔کھلاڑی جب پر سکون ہوں گے تو اچھا کھیلیں گے۔ بابر اعظم نے کہا کہ میں اب اپنا نہیں ٹیم کا سوچتا ہوں۔ اپنی کارکرگی سے بڑھ کر مجھے ٹیم کو آگے لیکر جانا ہے۔ کوشش یہی ہے کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کروں اور انہیں ساتھ لیکر چلوں۔ کھلاڑیوں کو اعتماد دوں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر پلاننگ کروں گا۔ کھلاڑیوں کو ساتھ لیکر ٹیم کو ٹاپ پر لے جانے کی منصوبہ بندی کروں گا۔بابر اعظم نے کہا کہ انگلینڈ سیریز میں پہلا انتخاب وکٹ کیپرمحمد رضوان ہی ہیں،سرفراز احمد نہیں جبکہ نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے ٹھنڈے موسم میں ہوا چل رہی ہے اور گیند کو اپنی مرضی سے گھمانے میں مدد ملتی ہے۔ تین ماہ بعد ووسٹر میں پریکٹس میچ ملا جو کہ بہت اچھا لگا۔ ڈیوک بال کی وجہ سے بھی سوئنگ مل رہی ہے۔ آہستہ آہستہ کنڈیشنز کے مطابق کھیلنے کی پریکٹس ہو رہی ہے۔ سویٹر، کیپ اور گلاسز امپائرز کو نہ پکڑانے کی پریکٹس کر رہے ہیں۔

نسیم شاہ نے کہا کہ پہلی بار انگلینڈ آیا ہوں یہاں بولنگ کرنے کا آئیڈیا ہورہا ہے۔ اس سے قبل تین سیریز کوکابرا سے کھیلا تھا۔ ڈیوک گیند فرینڈلی ہوتا ہے۔ کوکا برا خراب جلدی ہوجاتا ہے اور شائن بھی نہیں ہوتا۔ جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے باؤلر یاسر شاہ کا کہنا ہے کہ گیند کو چمکانا مشکل ہوگا، فاسٹ بولرز کیلئے مسائل ہوسکتے ہیں، ڈیوک بال کی وجہ سے اسپنرز کو کوئی ایشو نہیں ہوگا۔ یاسر شاہ نے کہا کہ انگلینڈ آ کر ٹریننگ کر کے اچھا لگا، 3 ماہ گھر پر رہے،ٹور کا سن کر بہت خوش ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پریکٹس اچھی رہی، بولنگ میں مشکل نہیں ہوئی، ابھی یہاں کی کنڈیشنز کا اندازہ لگا رہے ہیں، اسپنرز کو مدد ملے گی، پچز دیکھ کر ڈبل اسپنرز کھلانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یاسر شاہ نے بتایا کہ 4 سال پہلے یہاں کھیلا ہوں اچھی پرفارمنس رہی ہے، اب بھی مشتاق احمد ساتھ ہیں امید ہے کہ اس مرتبہ بھی اچھا پرفارم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ گیم کا حصہ ہے کہ کبھی کوئی باؤلر پر فارم کرتا ہے تو کبھی دوسرا پرفارم کرتا ہے، میرا ٹیم میں رول تبدیل نہیں ہوا، صورتحال کے مطابق بولنگ کرتا ہوں۔یاسر شاہ نے کہا کہ میں نے 18ماہ بہت محنت کی، فٹنس کی وجہ سے مسائل بھی ہوئے، اب میں بہتر ہورہا ہوں ردھم میں ہوں انگلینڈ میں بھی اچھی بولنگ ہورہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مشتاق احمد کے ساتھ ایکشن اورگگلی پرکام کررہا ہوں۔

دوسری جانب بھارت کی کرکٹ ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ رینکنگ کے مطابق پہلے نمبر پر بدستور قائم ہے، آسٹریلوی ٹیم دوسرے جبکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ پاکستان کی ٹیم رینکنگ میں پانچویں نمبر پر ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے کورونا وائرس سے قبل مارچ کے مہینے میں آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی ناقابل شکست ٹیم بھارت کو دو میچوں کی سیریز میں کلین سویپ کرکے تین ایک درجہ ترقی حاصل کرلی تھی اور یوں کیوی ٹیم تین درجے ترقی کے بعد چھٹے سے تیسرے نمبر پہنچ گئی تھی، کیویز ٹیم بھارت کو پہلے میچ میں شکست دینے کے بعد ایک درجہ ترقی کے بعد چھٹے سے پانچویں نمبر پر پہنچی تھی تاہم مسلسل دو میچوں میں شکست دینے کے بعد اس نے مزید دو درجے ترقی کی یوں کیویز ٹیم کی بھارتی ٹیم کو سیریز کلین سویپ کرنے کے بعد تین درجہ ترقی ملی اور وہ اب آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

بھارتی ٹیم بدستور پہلے نمبر پر براجمان ہے جبکہ آسٹریلوی ٹیم دوسری پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم تیسرے نمبر پر ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم رواں ماہ مارچ میں چوتھی پوزیشن پر چلی گئی تھی۔ نیوزی لینڈ نے مارچ میں آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھارتی ٹیم کی مسلسل عمدہ کارکردگی اور مسلسل فتوحات کے سلسلے کو توڑ دیا تھا۔ بھارتی ٹیم سات ٹیسٹ میچز میں کامیابی کی بدولت 360 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر براجمان ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -