حکومت سرکاری کالجز کے پرنسپلز کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے،خلیق الرحمن

حکومت سرکاری کالجز کے پرنسپلز کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے،خلیق ...

  

پبی (نما ئندہ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم میاں خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کی بہتر تعلیم و تربیت کی اولین ذمہ داری والدین کے بعد استاد کی ہے۔ایک بہترین قوم بہترین تعلیم وتربیت کی بدولت وجود میں آتی ہے۔اساتذہ نوجوان نسل کی بہترین تعلیم و تربیت کے لئے شبانہ روز خلوس نیت اور ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں۔ حکومت اساتذہ اور سرکاری کالجز کے پرنسپلز کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ صوبے کے پسماندہ علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے قیام اور ان میں بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لئے محکمہ اعلیٰ تعلیم حکومتی وساطت سے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہیں۔بہت جلد صوبے کے دور دراز علاقوں میں کالجز کا دورہ کرکے تعلیمی سہولیات اور مسائل کاتفصیلی جائزہ لیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہیار انہوں نے گذشتہ روز ممبران صوبائی اسمبلی دیر ہمایوں خان اور لیاقت علی خان کی قیادت میں وفود اور صوبہ بھر کے کالجز کے پرنسپلز کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ممبران اسمبلی ہمایون خان اور لیاقت علی خان نے مشیر اعلیٰ تعلیم کو اپنے حلقہ نیابت کے میل اور فی میل کالجز میں تعلیمی سہولیات کے بارے میں آگاہ کیا۔جبکہ سرکار ی کالجز کے پرنسپلز کے نمائندہ وفد نے پروفیسر شریف گل کی قیادت میں سرکاری کالجز کے پرنسپلز کے مطالبات پیش کئے۔ پروفیسر رضا شاہ نے پرنسپلز کے لئے اردلی الاؤنس، سفری سہولت اور پرنسپل الاؤنس کا مطالبہ کیا۔ مشیر اعلیٰ تعلیم میاں خلیق الرحمن نے وفود کے مطالبات کو غور سے سنا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے کی مالی حالت انتہائی کمزور ہے۔ دوسری جانب کوویڈ19 کی وجہ سے معیشت کا پہیہ رکا ہوا ہے۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت نے کالج اساتذہ کے لئے پانچ درجاتی سروس سٹرکچر منظور کرکے کالج اساتذہ کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا۔ انہوں نے وفود کو یقین دھانی کرائی کہ ان کے مطالبات پر سنجید گی سے غور کیا جائیگا۔ انہوں نے فوری طور پر محکمہ اعلیٰ تعلیم کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی دیر پائین کے تمام کالجز کے حوالے سے تفصیلی جائزہ رپورٹ پیش کی جائے تاکہ وہاں پر میل اور فی میل کالجز کو تمام تعلیمی اور انتظامی امور کے حوالے سے سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -