چین کی معاشی بحالی دنیا کے لئے امید افزا

چین کی معاشی بحالی دنیا کے لئے امید افزا
چین کی معاشی بحالی دنیا کے لئے امید افزا

  

حالیہ وبا نے دنیا کی تین سو برس کی ترقی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں محض چند ہفتوں ہی میں وبا کے خلاف بے بس ہوگئی ہیں۔ دنیا کی اقتصادی ترقی اور صنعت حرفت کا پہیہ رک چکا ہے۔ بے روزگار ی عروج پر ہے۔ بڑے بڑے ادارے ڈاؤن سائزنگ پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ مایوسی اور پریشانی کے اس عالم میں چین کے قومی اعدادوشمار کی جانب سے جاری کئے گئے اقتصادی اعشاریے امید کی ایک کرن بن گئے ہیں۔

رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی معیشت میں پہلے گراوٹ اور پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔دوسری سہ ماہی میں معاشی نمو منفی سے مثبت میں تبدیل ہو گئی ہے۔ شرح نمو میں پچھلے سال کے اسی مدت کے مقابلے میں تین اعشاریہ دو فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ " وال سٹریٹ ڈیلی " کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کووڈ -۱۹ کی وبا پھوٹنے کے بعد دنیا کا پہلا ملک ہے جس کی معیشت بحال ہو رہی ہے ۔ جبکہ امریکی میڈیا سی این این کے تبصرے کے مطابق چین کی معاشی نمو باقی دنیا کے لئے خوشخبری ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے وقت میں جب عالمی معاشی منظر تاریک ہے ، چینی معیشت کی مستحکم بحالی روشنی اور امید لے کر آرہی ہے۔ چینی معیشت کی مستحکم بحالی چینی حکومت کی صورتحال کے مطابق وبا کی روک تھام و کنٹرول اور معاشی و سماجی ترقی سے قریبی تعلق رکھتی ہے ۔ ملک بھر میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے ، چین نے وبائی صورتحال پر موثر انداز میں قابو پالیا ہے اور سماجی و معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا موقع نہیں کھویا ہے ۔ اس کے نتیجے میں معاشی ترقی میں دوبارہ قوت حیات آ گئی ہے ۔ امریکہ پیٹرسن بین الاقوامی معاشیات انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ایڈم پوسن کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے اس وبا پر قابو پانے کے لئے بروقت اور موثر اقدامات اپنائے ہیں اور یہ اس کی تیز رفتار معاشی بحالی کی کلید ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سلسلہ وار پالیسیوں اور اقدامات نے چین کی معیشت کی بحالی اور ترقی میں مثبت کردار ادا کیا ہے ۔

چینی معیشت کا استحکام عالمی معیشت کے لیے خوش خبری ہے ۔ وبا پھوٹنے کے بعد چین نے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے ایک سو پچاس ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو سازسامان اور مالی مدد فراہم کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین نے سماجی و معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے بھر پور کوشش کی اور عالمی سطح پر صنعتی چین اور سپلائی چین کے استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کیا ۔ چین کھلے پن اور بیرونی تجارتی تعاون کے فروغ پر آمادہ ہے ۔ متعدد با اختیار بین الاقوامی ادارے چین کی معاشی ترقی کے امکانات کے بارے میں پرامید ہیں اور پیش گوئی کرتے ہیں کہ چین واحد بڑی معیشت ہے جو رواں سال مثبت نمو برقرار رکھ سکتی ہے۔ اس سے دنیا کی معاشی بحالی میں اعتماد اور قوت محرکہ ڈالی جائے گی ۔

دوسری سہ ماہی میں چین کے جی ڈی پی میں 3.2 فیصد کا اضافہ ہوا ، جو منفی سے مثبت کی طرف سفر کا آغاز ہے۔اس کامیابی نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔ امریکہ ، برطانیہ اور جرمنی سمیت دیگر ممالک کے میڈیا ہاوسز اور معاشی تحقیقی اداروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین کی یہ کامیابی دنیا کے لئے ایک خوش خبری ہے۔

سی این این نے رپورٹ کیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین معاشی کساد بازاری سے بچ گیا ہے۔ چین کی وبا کی روک تھام کے اقدامات کے مثبت نتائج چین کی ابتدائی معاشی بحالی کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل نے خبر دی ہے کہ دوسری سہ ماہی میں چین کی معاشی نمو وبا کی شکار دنیا کے لئے ایک روشن نقطہ ہے۔یہ وبا پر قابو پانے کے لئے چینی حکومت کی جانب سے کئے گئے فعال اقدامات ہی کی بدولت ممکن ہوا ہے ۔

فاکس نیوز نے "چین اس وباء کے بعد پہلی ابھرتی ہوئی معیشت ہے" کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ، جس میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ چین نے انسداد وبا کے سخت اقدامات اپنائے ہیں اور اسی وجہ سے چین کی معیشت دیگر بڑی معیشتوں کے مقابلے میں تیزی سے بحال ہوئی ہے۔

لندن شہر کے بازار ک حصص کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ چین کے معاشی اعداد و شمار نے عالمی معیشت کوغیر معمولی چمک دی ہے۔

روس کی اکیڈمی آف سائنسز کے مشرق بعید انسٹی ٹیوٹ کے ماہر معاشیات نے کہا کہ اعداد و شمار کے نقطہ نظر سے ، چینی معیشت مستحکم طور پر بحال ہو رہی ہے ۔چین کی اندرونی مارکیٹ کی مضبوط خریداری کی صلاحیت اور چین اور دنیا کے بہت سے ممالک کے درمیان قریبی تجارتی تعلقات چینی معیشت کو مزید بڑی گنجائش فراہم کی ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -