کراچی میں پھر لوڈشیڈنگ،بجلی کی طلب اور رسد میں کتنےمیگاواٹ کا فرق ہے؟شہریوں کا غصہ آسمان کو چھونے لگے گا

کراچی میں پھر لوڈشیڈنگ،بجلی کی طلب اور رسد میں کتنےمیگاواٹ کا فرق ہے؟شہریوں ...
کراچی میں پھر لوڈشیڈنگ،بجلی کی طلب اور رسد میں کتنےمیگاواٹ کا فرق ہے؟شہریوں کا غصہ آسمان کو چھونے لگے گا

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)کراچی میں ایک بارپھرلوڈشیڈنگ کاسلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کے باعث شہری رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ سے بے حال ہو گئے ہیں جبکہ شہر قائد میں  بجلی کی طلب اور رسد کا فرق 300 میگاواٹ کا ہو گیا ہے اور کے الیکٹرک نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں  بجلی کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے ۔

نجی ٹی وی کے مطابق شہر قائد میں بجلی کی بدترین لوشیڈنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے،گرمی سے ستائے شہریوں کو بجلی کی گھنٹوں پر محیط غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے بے حال کیا ہوا ہے،طویل اورغیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے گنجان آباد علاقوں اور فلیٹوں میں رہنے والے شہریوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے جبکہ دوسری طرف ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق کراچی الیکٹرک (کے ای) کے پاور پلانٹس 1800 میگاواٹ بجلی بنا رہا ہے جبکہ نجی پاور پلانٹس سے 300 اور نیشنل گرڈ سٹیشن سے 600 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے،کراچی میں بجلی کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن، لیاقت آباد، نیو گولیمار، اورنگی ٹاؤن، گلشن اقبال 13 ڈی، لیاری اور بلدیہ ٹاؤن میں بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی۔لوڈشیڈنگ کے باعث کراچی میں پانی کا بحران بھی شروع ہو گیا۔واٹر بورڈ کے مطابق پمپنگ اسٹیشن پر بجلی نہ ہونے سے 300 ملین گیلن پانی فراہم نہ ہو سکا۔ ضلع وسطی اور شرقی میں 13 دن سے پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔ضلع غربی میں بھی پانی سپلائی کا آپریشن لوڈشیڈنگ کے باعث متاثر رہا۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -