شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا مقدمہ زور دار انداز میں پیش کردیا 

شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا مقدمہ زور دار ...
شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا مقدمہ زور دار انداز میں پیش کردیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نےکہاہےکہ اقوام متحدہ کےمنشورمیں درج اصولوں بالخصوص طاقت کےعدم استعمال،ریاستوں کی خودمختاری،جغرافیائی سالمیت کےاحترام،داخلی امورمیں عدم مداخلت اورغیرملکی ونوآبادیات کےجبرواستبداد کے شکار عوام کے خودارادیت کے حق پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے،بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں عوام پر ڈھائے جانے والے بدترین مظالم اور جبرو استبداد قابل تشویش ہیں،مالی مشکلات کے باوجود پاکستان نے غریب عوام کی مدد کے لئے آٹھ ارب ڈالر مہیاکئے ہیں جو جی ڈی پی کا تین فیصد ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی معاشی و سماجی کونسل (ایکوساک)کی اعلی سطحی نشست سے خطاب کے دوران بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں عوام پر ڈھائے جانے والے بدترین مظالم اور جبرو استبداد پرگہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کورونا وبا کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ عالمی وبا کے نتیجے میں 1930کے بدترین مالی بحران سے بڑی عالمی کساد بازاری کا اس وقت دنیا کو سامنا ہے، وباکے نتیجے میں عالمی مالیات، تجارت اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے میں عدم مساوات پیدا ہوئی کیونکہ دنیا میں غریب ترین ممالک اس سے بہت بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور 13کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔وزیرخارجہ نے نشاندہی کی کہ 1.5ارب آبادی کی حامل امیر اقوام نے درپیش بحران سے نمٹنے کے لئے تقریبا 10ٹریلین ڈالر مہیا کئے ہیں جو ان کے جی ڈی پی کا دس سے بیس فیصد ہے۔ ترقی پزیر ممالک کی آبادی سات ارب سے زائد ہے، وہ ایک ٹریلین ڈالر جمع کرنے کے لئے تگ ودو میں مصروف ہیں جو جی ڈی پی کا تقریبا ایک فیصد ہے تاکہ صحت اور معیشت کے درپیش بحران کا مقابلہ کرسکیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے غریب ممالک کے ذمے قرض میں رعایت دینے کے عالمی اقدام کا تصور پیش کیا ہے۔ یہ تیز ترین اور فوری طریقہ ہے جس کے ذریعے ترقی پزیر ممالک کے پاس اتنے وسائل مہیا ہوسکتے ہیں کہ وہ ان چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ سپیشل ڈرائنگ رائٹس کی ری ایلو کیشن اور اضافی ایس ڈی آرز بھی ترقی پزیر ممالک کے لئے اضافی وسائل مہیاکرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔وزیر خارجہ نے اجاگر کیا کہ مالی مشکلات کے باوجود پاکستان نے غریب عوام کی مدد کے لئے آٹھ ارب ڈالر مہیاکئے ہیں جو جی ڈی پی کا تین فیصد ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جیوپولیٹیکل حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا کہ طاقت اور استحقاق کے خواہش مند تنگ نظر مقاصد کے حاملین کو گنجائش اور موقع دینے سے کونسل کی تجدید نو ممکن نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ سلامتی کونسل کے اضافی مستقل ارکان مسائل کے حل کے بجائے انہیں مزید گھمبیر بنانے اورعالمی ادارے کے کردار کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنیں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نشاندہی کی کہ دنیا تین چیلنجز کا بیک وقت سامنا کررہی ہے جن میں کورونا عالمی وباء، 2030ایجنڈے کا حصول اور ماحولیاتی تباہی سے بچاو شامل ہیں۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایکو۔ساک کومرکزی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اکنامک اور سوشل کونسل کی پریزیڈنسی کے دوران پاکستان ان اہداف کے حصول کے لئے قائدانہ کردار ادا کرے گا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -