آصف علی زرداری متحرک ،  نگران حکومتوں کے لئے مشاورت، بھاگ دوڑ جاری!

آصف علی زرداری متحرک ،  نگران حکومتوں کے لئے مشاورت، بھاگ دوڑ جاری!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

آج کی پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے معتدل فضاﺅں والے ممالک کے شہر سخت گرمی کی زد میں ہیں اور گھنے جنگل آگ کی لپیٹ میں آکر خاکستر ہو رہے ہیں صرف برصغیر پاک و ہند ہی بارشوں اور سیلاب سے متاثر نہیں، ترقی یافتہ ممالک بھی طوفانوں / طغیانیوں کی زد میں ہیں، ماحولیاتی اور موسمیاتی سائنس کے ماہرین اس سب کو انسان کا اپنا کیا دھرا بتاتے ہیں کہ انسانوں نے ایس ایسی آلودگی پھیلائی کہ اوزان کی وہ تہہ جو سورج کی تپش کو روکتی تھی متاثر ہوئی۔ اس میں سوراخ ہو گیا جس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے یہ سب اپنی جگہ، ان ماہرین کے مطابق اوزان کا سوراخ بڑھے گا اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے کا عمل بھی جاری رہے گا اور یوں گرمی بڑھے گی اور طوفان بھی آئیں گے تاہم دنیا میں اللہ کو ماننے والی مخلوقات جو اہل کتاب ہیں ان کو اپنے اعمال پر توجہ دینے کی فرصت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو خصوصی طور پر قرآن حکیم میں غور کرنا ہوگا کہ ان آفات کا تذکرہ موجود اور اس کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں، ان کے مطابق نافرمانی کی صورت میں ایسی پریشانیوں کا سامنا ہوگا اس لئے ہمیں اپنے اعمال درست کرکے دیانت داری سے وہ کام کرنا ہوں گے جن کی وجہ سے ایسی آفات سے محفوظ رہا جائے۔ پاکستان والوں کو چاہیے کہ پانی کو ضائع ہونے سے روکیں اور اسے محفوظ کرنے کے ذرائع اختیار کریں۔
اس وقت برصغیر میں مون سون کا دوسرا سپیل جاری ہے، اس کے باعث بھارت کے بہت سے شہر بری طرح متاثر ہیں تو پاکستان کے شہروں اور علاقوں میں بھی نقصان ہو رہا ہے اگرچہ بھارت کی طرف سے ستلج اور راوی کے بعد چناب میں بھی فاضل سیلابی پانی چھوڑا گیا تاہم اس بار بروقت خبردار رہنے کی وجہ سے کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں تاہم فصلیں اور آبادیاں متاثر ہوئیں۔ ریسکیو اداروں نے بہت محنت اور فوج کے تعاون سے بروقت اقدامات کئے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا تاہم یہ حضرات مالی نقصان سے دوچار ہیں کہ ان کی فصلیں اور گھر متاثر ہوئے ہیں دوسری طرف بارش (جو زیادہ تر زور دار ہوتی ہے) کی وجہ سے شہری زندگی متاثر ہوتی ہے، نشیبی مقامات تو اپنی جگہ متاثر ہوتے ہی ہیں تاہم جو مقامات برسات میں پانی جمع ہو جانے والے ہیں وہاں بھی معمول ہی کے مطابق پانی جمع ہو جاتا ہے، کئی مقامات سے پانی کا مکمل اخراج بھی نہیں ہوتا اگرچہ واٹر پمپوں کی تعداد بھی بڑھائی گئی ہے۔ بارش کے تسلسل سے شہری علاقوں میں مکانات گرنے کے حادثات ہوئے ہیں جو اموات کا باعث بھی بنے، تاہم سڑکیں بُری طرح متاثر ہوئی ہیں ان سب کا جائزہ یونین کونسل (علاقہ وار) کی سطح پر لینا ضروری ہے تاکہ مون سون ختم ہوتے ہی مرمت کی جا سکے۔
ہمارے ضلعی اور بلدیاتی محکمے اور شعبے اگرچہ فعال نظر آئے لیکن یہ فعالیت سو فیصد تو کیا پچاس فیصد بھی نہیں، پارکوں ،گرین بیلٹوں اور نشیبی مقامات پر جمع پانی کے باعث مچھر کی افزائش ہو رہی ہے، اس سے ڈینگی کا خطرہ ہے جبکہ غیر یقینی موسم کی وجہ سے پیٹ کے امراض بڑھ گئے ،بچے بھی متاثر ہوئے ہیں، ضرورت ایک مربوط پروگرام کی ہے کہ سب متعلقہ محکمے اور شعبے اپنا اپنا کام دیانت داری سے کریں، پانی کا اخراج ہو، صفائی بھرپور کی جائے اور پھر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاﺅ بھی کیا جاتا رہے۔
برسات کے اس موسم میں حبس کی کیفیت بھی بہت ہے کہ ساون کا موسم ہمیشہ کی طرح بھادوں کا طریق بن چکا ہے کہ بادل آتے اور برس کر چھٹ جاتے۔ ہوا رک جاتی ہے حبس سے پسینے آتے رہتے ہیں۔
اسی موسم کے دوران وزیراعظم شہبازشریف نے پریقین اعتماد کے ساتھ مدت پوری ہونے پر اگلے ماہ حکومت چھوڑنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد انتخابات کی بات ہونے لگی ہے لیکن ابھی ہوا نہیں چلی۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور پیپلزپارٹی (پارلیمنٹیرین) کے صدر آصف علی زرداری متحرک ہیں، وہ دبئی جا کر قائد مسلم لیگ نوازشریف سے ملے تو گزشتہ اتوار کو لاہور میں وزیراعظم محمد شہبازشریف سے بھی تفصیلی ملاقات کی اور حالات حاضرہ پر بات چیت کی۔ آصف علی زرداری کی تجویزتو یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور موجود صوبائی اسمبلیاں ان کی مدت مکمل ہونے سے دوچار روز قبل تحلیل کی جائیں جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نگران حکومت کو 60روز کی بجائے نوے روز مل جائیں گے اور یوں انتخابات اکتوبر اور نومبر کی بجائے دسمبر تک کرانے کا وقت مل جائے گا اس دوران الیکشن کمیشن بہتر انتظام کر لے گا، ان حضرات کے درمیان نگران حکومت کے قیام کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور یہ سارا معاملہ تمام اتحادیوں کے اجلاس میں ہی طے کیا جائے گا۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔ اگرچہ انتخابی سرگرمیاں شروع نہیں ہوئیں کہ ابھی تو انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کا اعلان نگران حکومت کے قیام کے بعد الیکشن کمیشن کرے گا تاہم جماعتوں نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) پہلے ہی اعلان کر چکیں۔ نئی جماعت استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ (ق) بھی میدان میں ہیں اور آزاد امیدوار بھی کوشش کررہے ۔ جماعت اسلامی نے اپنی سرگرمیاں مختلف حوالوں سے جاری رکھی ہوئی ہیں بلکہ ایک بار ڈور ٹو ڈور مہم کی جا چکی ہے، اس لئے آنے والا انتخابی معرکہ اہم اور سخت ہوگا۔
نو مئی کے واقعات کے بعد والے اثرات تاحال جاری ہیں اور لوگ منتظر ہیں کہ گرفتار افرادکے خلاف عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کب ہوگی اور کب ”شرپسند“ انجام کو پہنچیں گے۔ تحریک انصاف کے سربراہ اور اہم رہنماﺅں کو ضمانتوں کی صورت میں مسلسل ریلیف مل رہا ہے تاہم ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید اور اعجاز چودھری جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں جبکہ سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی بھی ضمانت کے باوجود رہا نہ ہو سکے کہ اب وہ 3ایم پی او کے تحت نظر بند ہیں۔
٭٭٭

ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعدد ممالک کے ساتھ پاک و ہند میں بھی بارشیں اور سیلاب!

شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف کا جھنڈا تھام لیا، نگران سیٹ اپ کےلئے مشاورت کا مطالبہ کر دیا!

مزید :

ایڈیشن 1 -