دہشت گردی کے خلاف کور کمانڈر کانفرنس میں کھلے عزم کا اظہار!

دہشت گردی کے خلاف کور کمانڈر کانفرنس میں کھلے عزم کا اظہار!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سوموار کے روز راولپنڈی میں ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس میں پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کے حوالے جن تحفظات کا اظہار کیا گیا وہ انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عسکری اداروں کا پاکستان کے ہمسایہ ملک میں مقیم تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ پاکستان اس کرہ ارض پر واحد ملک ہے جس نے نہ صرف امریکہ کی افغانستان سے انخلاءمیں بھرپور مدد کی بلکہ اس کے بعد طالبان حکومت کی ہر قسم کی مدد کی تاکہ طویل عرصہ کے بعد امریکہ کے افغانستان سے نکلنے سے خلاءیا خانہ جنگی کی کیفیت پیدا نہ ہو جس سے افغانستان میں بسنے والے لوگوں کی زندگی مزید ابتر ہو جائے پاکستان نے ایک ذمہ دار ہمسایہ ملک کے طور پر امریکہ و مغربی دباﺅ کے باوجود اپنی زمین تو درکنار فضائی راستوں کو بھی افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پاکستان نے افغانستان سے تجارتی تعلقات بہتر انداز میں استوار کرنے کی غرض سے کئی اعلیٰ سطحی وفود کا بھی تبادلہ کیا جبکہ وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے بھی افغانستان کا دورہ کیا۔ پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی بلکہ یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں کہ کسی طرح افغانستان کی طالبان حکومت کی عالمی سطح پر قبولیت ہو سکے حتی کہ پاکستان نے عالمی سطح کے ہر فورم پر افغانستان کے لئے بھرپور لابنگ کی۔ مزید ازاں گزشتہ سال پاکستان نے صرف افغانستان کی خاطر او آئی سی کے ذرائع خارجہ کے خصوصی اجلاس کی میزبانی کی جس میں پورے عالم اسلام کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کے مبصرین کو بھی مدعو کیا گیا تاکہ افغانستان کے باسیوں کے لئے قیام امن اور خوشحالی کے لئے دنیا کا تعاون اور مدد حاصل کی جا سکے لیکن کور کمانڈرز کانفرنس میں پہلی دفعہ (اعلیٰ ترین عسکری فورم) پر افغانستان کے حوالے سے جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ افغانستان میں طالبان حکومت کے حوالے سے مایوس کن ہیں۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں بر ملا اس امر کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور پناہ گاہیں موجود ہیں اور انہیں پاکستان کے خلاف کارروائی کے لئے نہ صرف آزادی بلکہ جدید ہتھیار بھی میسر ہیں۔ تاہم اس امر کا اظہار کیا گیا کہ پاک فوج ملک کی سلامتی کے لئے ہر لمحہ تیار ہے اور دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا یہ کور کمانڈرز کانفرنس غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اس میں نہ صرف ملکی سلامتی کے حوالے سے پہلی بار افغانستان کے کردار پر قوم کو اعتماد میں لیا گیا بلکہ اس امر کا بھی اشارہ ہے کہ اگر افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل نہ کی اور تحریک طالبان کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کا ازالہ نہ کیا تو قرین قیاس ہے کہ پاکستان بھی اپنی افغان پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائے اور اگر طالبان حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو ختم نہ کیا اور انہیں پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی کھلی چھٹی دیئے رکھی تو پاکستان کی جانب سے ان ٹھکانوں پر کارروائی خارج از قیاس نہیں جبکہ امریکہ نے بھی اس ضمن میں ایک اہم بیان دیا ہے۔ پاکستان کے پاس یہ آپشن بھی موجود ہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان بھی دہشت گرد ٹھکانوں پر کارروائیوں پر اپنی آنکھیں موند لے بہر حال خطے میں اس اہم پیش رفت کے حوالے سے افغان حکومت کو ہوش کے ناخن لینا چاہئیں۔
اس کور کمانڈر کانفرنس کا دوسرا کلیدی نقطہ پاک فوج کی جانب سے ملکی معیشت کی بحالی اور بہتری کے لئے حکومت کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے ہے کیونکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت اور پاک فوج نے مل کر ملک کو معاشی دلدل سے باہر نکالا ہے۔ آئی ایم ایف کی ڈیل کی شرائط میں سب سے اہم ترین بیرونی فنانسنگ تھی جسے پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی ذاتی کوششوں سے پورا کیا گیا۔ اسمبلیاں اپنی طبعی مدت پوری کرنے کو ہیں حکومت کا کاﺅنٹ ڈاﺅن شروع ہو گیا ہے۔ قرین قیاس ہے کہ قومی اسمبلی کی مدت سے چند روز قبل اسے تحلیل کر کے 90 دن کے لئے نگرن حکومت قائم ہو گی۔ نگران وزیر اعظم کے لئے صلاح و مشورے جاری ہیں۔ اس ضمن میں دبئی کے بعد لاہور میں دو بڑے اتحادیوں کی بیٹھک غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے تاہم ایک بحث جاری ہے کہ نگران وزیراعظم کوئی ٹیکنوکریٹ ہو گا یا سیاستدان اس پر متضاد آراءموجود ہیں اس ضمن میں مختلف شخصیات کے ناموں پر چاند ماری ہو رہی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کس کا تکا کامیاب ہوتا ہے کہ کوئی ڈارک ہارس سامنے آتا ہے حکومت تیزی سے اپنے منصوبوں کی تختیاں لگانے میں مصروف ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بھی گزشتہ روز غیر ملکی شعراءو ہائی کمشنروں اور اعلیٰ سفارتکاروں کے اعزاز میں الوادعی عشائیہ دیا جبکہ حکمران اتحاد کی اپوزیشن پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین کے بارے میں زبان زد عام ہے کہ اگلے عام انتخابات میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔ اسلام آباد میں ایک تیز رفتار ٹرک کی جانب سے سواں پل پر 5 گاڑیوں کو روندے جانے کے واقعہ نے دل دہلا دیا ہے جس میں ڈاکٹر طارق مغل کے جواں سال صاحبزادے بھی جاں بحق ہو گئے جس پر وزیر اعظم نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔
٭٭٭

ہمسایہ بھائی ملک کے احوال پر تشویش


بلاول بھٹو کی طرف سے اعلیٰ سفارت کاروں کے اعزاز میں عشائیہ،بھرپور شرکت ہوئی 

مزید :

ایڈیشن 1 -