کیا پرانی مردم شماری پر انتخابات ممکن ہوں گے؟

کیا پرانی مردم شماری پر انتخابات ممکن ہوں گے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ایک ایسے وقت میں جب موجودہ قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت آنے والے مہینہ میں مکمل کر لے گی ملک میں عام انتخابات اکتوبر میں کروانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اتحادی حکمران بھی اکتوبر کی بجائے نومبر میں انتخابات کرانے کا عندیہ دے رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اتحادی اور پیپلز پارٹی بھی رواں سال نومبر میں عام انتخابات کا ”مطالبہ“ کر رہی ہیں وزیراعظم شہباز شریف نے آئینی مدت سے پہلے ہی ”چلے“ جانے کا سندیسہ ڈال دیا ہے جبکہ دوسری جماعتیں مطالبے کو تسلیم کرنے کی توقع کر رہی ہیں آنے والے دنوں میں سیاست کا رخ کس طرف ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں لیکن ایک آئینی بات بڑی اہم ہے کہ مردم اور خانہ شماری مکمل ہو چکی ہے قانونی اور آئینی طور پر اس کا اعلان ہونا ہے لیکن بوجوہ اسے التوا میں کیوں رکھا گیا ہے اس کا جواب وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے مختلف انداز میں دیا ہے جو دراصل غیر حقیقی اور غیر آئینی ہے کہ مردم شماری کو بغیر کسی وجہ نوٹیفائی نہ کیا جائے وزیر داخلہ کا بیان ہے کہ عام انتخابات پرانی مردم شماری پر ہی ہوں گے اور نئی مرتب ہونے والی مردم شماری کا سرکاری اعلامیہ ابھی جاری نہیں ہو گا اس کی وجہ وفاقی وزیر یہ بتاتے ہیں کہ نئی مردم شماری پر ایم کیو ایم سمیت مختلف جماعتوں کو کلیدی اعتراضات ہیں لہذا ضروری ہے کہ پہلے اس پر اتفاق کر لیا جائے ایسا ہی ایک پالیسی بیان منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن ا قبال نے بھی بر وقت داغ دیا ہے کہ عام انتخابات پرانی مردم شماری پر ہی کرانے پڑیں گے۔ انہوں نے بھی اس کی وجہ کم و بیش وہی بیان کی ہے جو ان کے ساتھی وزیر کہہ رہے ہیں حالانکہ جب مردم شماری جاری تھی تو اس وقت چاروں صوبوں سے اعتراضات سامنے آئے تھے اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ مردم شماری کا وقت بڑھا دیا جائے خصوصاً ایم کیو ایم اعتراض کر رہی تھی کہ کراچی سمیت سندھ اور دوسرے شہروں میں انہیں گنتی میں شامل نہیں کیا گیا لیکن اب ایسے وقت میں اتحادی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر رہی ہے تو وزرا ءنے یہ بیان جاری کر کے ایک نئی بحث کھول دی ہے جو آئین اور قانون کے خلاف جا سکتی ہے بلکہ نئی مردم شماری میں نوجوانوں کے درج ہونے والے ووٹ اتحادی جماعتوں اور پیپلز پارٹی کیلئے مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں ۔ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن دوسری طرف وزیراعظم میاں شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے وہ ارکان جو ن لیگ سے تعلق رکھتے ہیں” پر امید“ ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر کیسے؟ اس پر بھی سن لیں ان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف کو اگر عوام اب موقع دیں تو وعدہ ہے کہ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی طرف لے جائیں گے قبل ازیں ہم سے ایک سے زیادہ مرتبہ اقتدار چھینا گیا مگر ملک کی عظمت وقار پر آنچ نہیں آنے دی وزیراعظم نے تحریک انصاف کے چیئرمین پر بھی سخت تنقید کی اور ملک کو خوشحالی کی طرف لے جانے کی ”خوشخبری“ کا وعدہ کیا جبکہ وزراء”عوامی مینڈیٹ“ کیلئے ووٹرز سے خود کو ووٹ دینے کی التجا کر رہے ہیں یہ مانی جائے گی یا نہیں یہ بتانا قبل از وقت ہو گا تاہم پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ ن نے باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا پہلے پنجاب اور اس کے بعد دوسرے صوبوں میں انتخابی مہم شروع کر دی جائے گی لیگی رہنماءنے ملک بھر میں تمام حلقوں پر امیدوار کھڑے کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دینے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ن لیگ اس وقت یو سی لیول تک منظم ہے اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ بڑی ہی محدود پیمانے پر ہو گی ہم محض کارکنوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور شیر کا نشان تمام حلقوں میں موجود ہو گا ن لیگی مرکزی رہنماءکا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آتا ہے جب ایک طرف سابق صدر مملکت اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم اور ن لیگی قائد میاں نواز شریف کی آئندہ انتخابات کے حوالے سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں جس میں بہت کچھ سامنے آنے کی توقع ہے جبکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بھی کم از کم پنجاب میں ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنا چاہتی ہیں ایسے میں کیسے حل نکلے گا اس پر راوی خاموش ہے ایک بات مگر واضع ہے کہ اگر عام انتخابات اکتوبر یا نومبر میں ہوتے ہیں تو پھر ابھی بر سر اقتدار سیاسی جماعتوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی ہو گی کیونکہ انتخابات کے نتیجہ میں بننے والی مخلوط حکومت ہو گی جس کا اندازہ ان سیاسی اشرافیہ کو بھی بخوبی ہے ۔
جنوبی پنجاب میں اس وقت ن لیگ کی کوئی قد آور یا قابل قبول سیاسی شخصیت موجود نہیں ہے پارلیمنٹرین مخدوم جاوید ہاشمی کو بوجوہ ذمہ داریاں نہیں دی جا رہیں سردار ذوالفقار کھوسہ سیاسی طور پر راہیں جدا کر چکے ہیں اب ان کا ٹھکانہ آصف علی زرداری کے ساتھ دکھائی دے رہا ہے کہ ان کے بیٹے سابق وزیراعلی پنجاب دوست محمد خان کھوسہ تو پہلے ہی پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے سابق گورنر ملک رفیق رجوانہ موجود ہیں لیکن انہیں بھی ذمہ داریوں سے الگ رکھا جا رہا ہے ےہی وجہ ہے کہ اس خطے میں ن لیگ کی سیاسی حکمت عملی نہ ہونے کے باعث ووٹ بنک ختم ہو رہا ہے اور سیاسی طور پر آئندہ عام انتخابات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی کی امیدیں کم ہیں یہ بات بڑی اہم ہے کہ 2018ءکے عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے ےہاں سے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کئے تھے ایسے لوگوں خو البتہ اب پیپلز پارٹی میں شامل کروانے میں کامیابی ہو رہی ہے جو اپنے حلقوں سے جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وفاقی اور پنجاب نگران حکومت کواس وقت جنوبی پنجاب میں کوئی دلچسپی نہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے پنجاب صوبے کی کابینہ میں جنوبی پنجاب سے ایک بھی نگران وزیر یا مشیر نہیں ہے۔
٭٭٭

 نئی مردم شماری ہو چکی، نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا

ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ،انتخابی عمل میں ان کا کردار ہوگا؟

جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کمزور نظر آتی ہے،
 انتخابی عمل میں کوئی اہم راہنما قیادت کیلئے موجود نہیں!

مزید :

ایڈیشن 1 -