تحریک انصاف کے اراکین روپوش خاتون قائد حزب اختلاف بن سکتی ہیں!

 تحریک انصاف کے اراکین روپوش خاتون قائد حزب اختلاف بن سکتی ہیں!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے روپوش رہنما حلیم عادل شیخ متحرک ہوگئے ہیں ، انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے جس میں اپوزیشن لیڈر کی نگراں حکومت کے قیام کےلئے آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے آئین پاکستان کی شق 224 کا حوالہ دیا ہے جس کے تحت صوبائی حکومت میں وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے نگراں وزیراعلیٰ کا تقرر کیا جاتا ہے۔
سندھ میں میئر کراچی کے انتخاب سے پہلے اور خاص طور پر میئر کے انتخاب کے نزدیک تحریک انصاف کے قائدین کے خلاف گھیرا تنگ کیاگیا تھا۔ مئی کے پہلے ہفتے میں ہی کئی رہنما¶ں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد اس میں جو تیزی آئی وہ ابھی تک برقرار ہے۔ سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے 26 اراکین ہیں جو اس کے بعد اسمبلی میں حاضر نہیں ہوئے ۔ حلیم عادل شیخ پہلے ہی مقدمات کا سامنا کررہے ہیں ۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے بیان کے بعد کہ ان کی رکن اسمبلی محترمہ رعنا انصار کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے، علیم حادل شیخ نے اپنا ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی حیثیت سے ہماری اکثریت ہے۔ تحریک انصاف کے چند رہنما¶ں کے متعلق اطلاعات ہیں کہ وہ ملک سے باہر جاچکے ہیں، جبکہ چند ایک نے پارٹی سے اختلات کرتے ہوئے علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف ، سندھ اسمبلی میں اپنی اپوزیشن کی حیثیت ثابت کرسکتی ہے یا نہیں، لیکن ایم کیو ایم جو حکومت کی اتحادی بن چکی ہے، گورنر سندھ کامران ٹیسوری ان کے کوٹے سے گورنر شپ حاصل کیے ہوئے ہیں، وہ خود کو اپوزیشن کیسے منوا سکتی ہے۔ سیاسی اخلاقیات کو مدنظر رکھا جائے تو وہ وفاق میں پی ڈی ایم کی اتحادی جماعت ہے جبکہ سندھ میں انہوں نے پیپلز پارٹی کا مکمل ساتھ نبھایا ہے اور میئر کراچی کے الیکشن میں بھی سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے نقش قدم پر چلنے کا عملی مظاہرہ کررہی ہے ۔ 
تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے جی ڈی اے کے سربراہ پیر پگارو کو خراج تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے سیاسی طور پر اپنی پوزیشن کو، حزب اختلاف کے طور پر ہر حال میں نبھایا ہے ۔ تحریک انصاف کے رہنما¶ں کو روپوشی ختم کرنی پڑےگی ، چاہے اس کی قیمت جیل جانا ہی کیوں نہ ہو، اس طرز سیاست کو عوامی سطح پر پذیرائی نہیں مل پائے گی۔ ان کی قیادت پہلے ہی زیرعتاب ہے اگر سندھ میں وہ بھی اس طرح روپوش رہیں گے تو پھر ان کا ووٹ بینک مزید کم ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے، اسپیکر سندھ اسمبلی سے اپنے اراکین کے ہمراہ ملاقات کرکے اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کی درخواست دی ہے جبکہ سندھ اسمبلی میں جی ڈی اے نے بھی اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کی درخواست دے رکھی ہے جو سیکریٹری اسمبلی کے پاس جمع ہے ۔ آغا سراج درانی، اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے سلسلے میں قواعد و ضوابط کے تحت فیصلہ کیا جائے گا۔ سندھ اسمبلی کی مدت 14 اگست کو پوری ہوجائے گی، اس سے پہلے نگراں وزیراعلیٰ کا فیصلہ کیا جانا ضروری ہے۔ 
سندھ اسمبلی میں جی ڈی اے کے رکن عارف مصطفی جتوئی نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں سے ہی نیا صدرمملکت چُنا جائے۔ معزز رکن اسمبلی یہ مطالبہ کرتے وقت بھول گئے ہیں کہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ اسمبلی بہت پہلے ختم ہوچکی ہے۔ الیکشن کی جو تاریخ عدالت نے مقرر کی تھی اس پر الیکشن کمیشن انتخابات کروانے میں ناکام رہا۔ اس وقت دونوں صوبوں میں 90 روز گذرنے کے بعد بھی نگراں حکومتیں قائم کررہی ہیں اور الیکشن کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، البتہ 8 اکتوبر کو الیکشن کروانے کی گونج سنائی دیتی رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی کورم پورا نہیں ، اس صورتحال کے پیش نظر صدارتی الیکشن کےلئے پورے ملک میں کورم ٹوٹ چکا ہے، اس طرح ان کا دعویٰ بے معنی دکھائی دیتا ہے۔ سندھ اسمبلی میں اراکین اسمبلی کے سوالات اہم تھے لیکن حکومتی وزراءنے جوابات دے کر ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ البتہ حکومتی وزراءکے جوابات سے واضح ہوا کہ اراکین نے جن مسائل کی نشاندہی کی، ان کا اعتراف کرلیا گیا، اراکین اسمبلی نے اقلیتی افراد کی اندرون سندھ اغواءکی وارداتوں کا تذکرہ کیا ۔ کچے کے ڈاکو اغواءبرائے تاوان کی وارداتیں کررہے ہیں۔
حیرت کی بات ہے کہ کچے کے ڈاکو¶ں کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا، سندھ حکومت نے پولیس کو اسلحہ کی فراہمی کےلئے تین ارب روپے کی رقم مختص کی تھی۔ بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں لیکن ڈاکو ختم ہوئے اور نہ ہی ان کی وارداتیں کم ہوئیں۔ حتی کہ اندرون سندھ سے ایک ایس ایچ او کو بھی اغواءکیا گیا تھا جسے بازیاب کروایا گیا ہے۔ 
سندھ کی ایک خاتون مسیحا جو سوشل میڈیا اور انڈین میڈیا پر انٹرویوز دے رہی تھی ، بھارت چلی گئی ہے۔ اس کا تعلق ایک بھارتی سے قائم ہوا، اس کے متعلق متضاد خبریں آرہی ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ بھارتی اداروں کےلئے کام کرتی رہی ہے ، لیکن اس کے ثبوت سامنے نہیں آئے ، پاکستان دفتر خارجہ نے اس حوالے سے تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، جبکہ سندھ کے رہنما بھی اس سلسلے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، لوگ اس کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں۔ اندرون سندھ اور کراچی سے عوامی سطح پر بہت غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے کہ شدید گرمی اور حبس کے دونوں میں غیراعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے اور گرمی کی شدت سے ہیٹ ویو کی کیفیت بنی ہوئی ہے ۔ 
اقتصادی میدان میں اگرچہ پاکستان آئی ایم ایف اور دیگر دوست ممالک سے مزید قرضے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے، لیکن اس کے باوجود ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم نہیں ہوپارہی ۔ انٹر بینک ایکسچینج ریٹ ایک مرتبہ پھر بڑھ گیا ہے جبکہ مارکیٹ اور انٹر بینک ریٹ میں بہت فرق ہے ۔ اس طرح حوالہ ہنڈی کا کام کرنے والے خوب دولت سمیٹ رہے ہیں۔ پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام آئے بغیر کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکیں گی۔ خاص طور پر انڈسٹری کےلئے خام مال کا حصول دشوار ہوگیا ہے۔ کچھ غیرملکی کاروباری اداروں نے پاکستان سے کاروبار بند کرنے کے اعلانات بھی کررکھے ہیں، ان میں ادویات ساز ادارے، بینک، آئل مارکیٹنگ کمپنی اور ایئر لائنز شامل ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس طرف سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ اس سے بہت منفی تاثر پھیلنے کا خدشہ ہے اور بیروزگاری بھی بڑھ جائے گی۔ کاروبار کےلئے ایک بہتر ماحول پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت سے زیادہ پرائیویٹ ادارے عوام کو روزگار مہیا کرتے ہیں، اس لیے سازگار ماحول ہی کاروبار کو ترقی دے سکتا ہے، جو ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔ 
٭٭٭

سندھ میں نگران حکومت کیلئے مشاورت کھٹائی میں ہے

حلیم عادل شیخ خود سامنے نہیں، ویڈیو بیان آ گیا، وہ مشاورت چاہتے ہیں

جی ڈی اے کے رکن عارف مصطفی جتوئی کا عجیب مطالبہ، وہ موجودہ
 اسمبلیوں سے نیا صدر منتخب کرانا چاہتے،دو اسمبلیوں کا وجود ہی نہیں

مزید :

ایڈیشن 1 -